04 جنوری ، 2024
سوشل میڈیا پر ہزاروں انٹر ایکشنز جمع کرنے والی پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی نے پاکستان میں بچوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے طریقہ کار کو تبدیل کر دیا ہے۔
آن لائن پوسٹس میں بتایا گیا ہے کہ جنوری 2024ء سے والدین کو صرف 7 سال سے کم عمر کے بچوں کے لیے چائلڈ رجسٹریشن سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا، جسے ب-فارم بھی کہا جاتا ہے۔
دعویٰ غلط ہے۔ ایسی کوئی تبدیلیاں نہیں کی گئی ہیں۔
دعویٰ
6 دسمبر کو ایک فیس بک صارف نے پشتو میں 1منٹ اور 4 سیکنڈ کی ویڈیو پوسٹ کی، جہاں اس نے پاکستانی والدین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کے ب-فارم 31 دسمبر 2023ء سے پہلے بنوا لیں۔
ویڈیو میں سنا جا سکتا ہے کہ ”نادرا کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے کہ اگلے برس سے بچوں کے ب-فارم حاصل کرنے کے طریقہ کار کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔“
ویڈیو کے ساتھ کیپشن میں لکھا ہے: ”تمام والدین کو 31 دسمبر 2023ء سے پہلے اپنے بچے کا ب-فارم یا پیدائشی سرٹیفکیٹ بنانا چاہیے کیونکہ 2024ء میں ایک نیا قانون متعارف کرایا جا رہا ہے۔“
فیس بک پر اس ویڈیو کو 1 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا جا چکا ہے۔
ایک اور فیس بک صارف نے بھی ایسا ہی دعویٰ شیئر کرتے ہوئے مزید کہا کہ” تمام والدین 31 دسمبر 2023ء تک اپنے بچوں کے ب-فارم یا برتھ سرٹیفکیٹ ضروری بنالیں، کیونکہ آنے والےسال 2024ء میں نئے قانون کے مطابق سات (7) سال تک کے بچوں کو ب-فارم یا برتھ سرٹیفیکیٹ جاری ہوگا۔ 7 سال سے اوپر کے بچوں کے لئے میڈیکل سرٹیفیکیٹ لازمی چاہیے ہوگا۔“
اس نیوز آرٹیکل کے شائع ہونے تک اس پوسٹ کو 90بار شیئر کیا گیا۔
اس سے ملتی جلتی پوسٹس یہاں اور یہاں بھی شیئر کی گئیں۔
حقیقت
سرکاری ادارے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ نہ تو ب-فارم حاصل کرنے کے عمل میں کوئی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی ایسا کوئی منصوبہ ہے۔
جیو فیکٹ چیک کے ساتھ شیئر کیے گئے ایک بیان میں نادرا کی ترجمان ردا قاضی نے اس بات کی تردید کی کہ ملک میں بچوں کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے قوانین یا عمل میں کوئی ترمیم کی گئی ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا: ”انٹرنیٹ پر دعوے حقائق کے منافی ہیں اور شہریوں کو گمراہ کر رہے ہیں، جبکہ ب-فارم حاصل کرنے کے لیے بھی کوئی آخری تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔“
ان دعوؤں کی مزید تردید نادرا نے اپنے سرکاری سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے یہاں اور یہاں کی ہے۔
اس کے بعد جیو فیکٹ چیک نےصوبہ پنجاب کے ضلع خوشاب میں نادرا کے تحصیل آفس میں تعینات اسسٹنٹ ڈائریکٹر شاہد اکبر سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں اب تک کسی تبدیلی سے آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سارا عمل پہلے جیسا ہے۔ ب-فارم حاصل کرنے کے لیے بچے کے والدین کو ایک اپ ڈیٹ شدہ قومی شناختی کارڈ کی کاپی جمع کرانی ہوگی اور سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دینے کے لئے والدین میں سے ایک کا دفتر میں موجود ہونالازمی ہے۔
اضافی رپورٹنگ:فیاض حسین
ہمیں@GeoFactCheck پر فالو کریں۔
اگرآپ کو کسی بھی قسم کی غلطی کا پتہ چلے تو [email protected] پر ہم سے رابطہ کریں