13 اگست ، 2017
جولائی میں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ سے متنازع نااہلی اور ان کے اور ان کے خاندان کے خلاف فراڈ، جعلسازی اور اثاثے چھپانے کے حوالے سے مقدمات کا آغاز کرنے کا حکم دیا گیا۔ یہ پیشرفت پاکستان کی 70ویں سالگرہ سے صرف دو ہفتہ قبل ہوئی۔ اس مرتبہ کوئی فوجی بغاوت کے بجائے عدلیہ نواز شریف کے اقتدار سے الگ ہونے کی وجہ بنی۔
اس سے قبل عدلیہ نے کسی وزیراعظم کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ اور رشوت کے حوالے سے کیس قبول نہیں کیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اس کیس کی پیروی کرتے رہے جس کی بنیاد پاناما پیپرز کے منظر عام پر آنے کے بعد پڑی۔
پاکستان کے معروف تاجر صدرالدین ہاشوانی لکھتے ہیں کہ پاکستان میں تاجر ہونا ایک بہت مشکل کام ہے۔ ہمارے سیاستدانوں، سرکاری ملازمین اور افسوس کے ساتھ کچھ جنرلوں کی رگ رگ میں کرپشن اور اقربا پروری بسی ہوئی ہے۔ وہ کسی نئے آئیڈیا کو آگے آنے سے روکتے ہیں۔ اس سسٹم کو اس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ اس سے مراعات یافتہ طبقے کے مفادات محفوظ رہیں اور نئے ٹیلنٹ کی حوصلہ شکنی ہو۔ کچھ لوگ حالات سے سمجھوتہ کرلیتے ہیں۔ میں نے نہیں کیا اور اسی وجہ سے میں کراچی یا اسلام آباد کے بجائے یہاں دبئی میں موجود ہوں۔
اس اقتباس سے پاکستان کے معاشی سفر کے حوالے سے کچھ باتیں پتا چلتی ہیں۔ 1947 میں وجود میں آنے کے موقع پر پاکستان کی معیشت کمزور تھی۔ 1960 میں پاکستان کی جی ڈی پی محض $3.71 ارب ڈالر تھی جو کہ 2016 میں بڑھ کر $284 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے، پاکستان کی آبادی اب 20 کروڑ ہوچکی جبکہ ملک نیوکلیئر صلاحیت کا بھی حامل ہوچکا ہے۔
تاہم اس ترقی کے لیے ہم نے معاشی، سیاسی اور معاشرتی طور پر کافی کچھ کھویا۔ 1958 سے 1999 کے درمیان پاکستان میں چار مرتبہ فوجی مداخلت کی گئی جس کی وجہ سے نہ صرف حکومتی ادارے کمزور ہوئے بلکہ ملک کی سیاسی معیشت بھی کرپٹ ہوگئی۔
پاکستان میں سول اور فوجی اشرافیہ نے اہم اداروں جیسے پی آئی اے، او جی ڈی سی، واپڈا، اسٹیل ملز، پاکستان ریلوے، پی ٹی سی ایل اور کے ای ایس سی جیسے اداروں پر اپنا کنٹرول جمائے رکھا۔ یہ سب ادارے کرپشن، اقربا پروری اور بدانتظامی جیسے بیماریوں کا شکار رہے۔ مصنف کتاب ’وائی نیشنز فیل؟‘ یا ’قومیں کیوں تباہ ہوتی ہیں؟‘ میں لکھتے ہیں کہ کسی قوم کے قدرتی ذرائع پر قبضہ قوموں کی تباہی کی وجہ بنتے ہیں۔
ان حکمرانوں نے سرکاری میڈیا کو بھی نہ بخشا۔ پی ٹی وی اور پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن دونوں کروڑوں روپوں کے خسارے میں ہیں۔
حکمرانوں کی جانب سے اپنے پسندیدہ لوگوں میں اثاثوں کی تقسیم کا شکار عوام ہوتے ہیں۔ پاکستان میں چند خاندانوں کی خاطر کروڑوں عوام کے مفادات متاثر کیے گئے جن کے ووٹ ہی حکومت بناتے ہیں۔ اس کے باوجود عوام بہتر مستقبل کی خاطر ان ہی حکمرانوں کو ووٹ دیتے ہیں۔
اس کی ایک مثال یہ ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے سعید احمد کو نیشنل بینک کا صدر منتخب کیا گیا جو کہ پہلے لندن کے ایک نرسنگ ہوم میں کیئر ٹیکر تھے۔ اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کس طرح پاکستان میں حکمراں اہم عہدوں پر اپنی مرضی کے لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں۔
اداروں میں مداخلت کے باعث پاکستان میں ادارے شدید کمزور ہوگئے تاہم اس سے اشرافیہ کو حکومتی ذرائع پر اپنا کنٹرول جمانے کا موقع ملا۔ نامور ماہر معاشیات ثاقب شیرانی کہتے ہیں کہ اگر پاکستان میں قانون کی حکمرانی ہوجائے تو اس کے شہریوں کے لیے بہتر زندگی اور بہتر معیشت جیسے اہداف حاصل ہوجائیں۔ تاہم ایسا کرنا ایک طویل اور مشکل کام ہے۔
پاناما پیپرز اور اس حوالے سے ہونے والی تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ کس طرح اشرافیہ خود کے مالیاتی مفادات محفوظ بنانے کے لیے قوانین تشکیل دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر اسٹیٹ بینک نے سینیٹ کی کمیٹی برائے خزانہ کو 18 جولائی کو بتایا کہ وہ 2785 مہنگے تحفوں کی تحقیقات کررہا ہے جو کہ حکمراں جماعت کے علاوہ دیگر لوگوں کو دیے گئے۔
اپنے احتسابی عمل کو جاری رکھتے ہوئے پارلیمنٹ سے درخواست کرسکتی ہے کہ قوانین میں تبدیلی کی جائے اور نئے بینچ مارک قائم کیے جائیں تاکہ ملک میں قانون کی پاسداری ممکن ہوسکے۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔