25 اگست ، 2017
’’ان بارشوں سے دوستی اچھی نہیں فراز
کچا تیرا مکان ہے کچھ تو خیال کر‘‘
پاکستان کے معروف شاعر احمد فراز کو دنیا فانی سے گزرے 9 برس تو بیت گئے ہیں لیکن ان کی شاعری اب بھی مداحوں کے دلوں میں زندہ ہے۔
احمد فراز نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز طالب علمی کے دور سے کیا اور کئی اصناف سخن میں طبع آزمائی کرچکے ہیں مگر بنیادی طور پر یہ غزل کے شاعر ہیں۔
احمد فراز کو ان کے ادبی فن کی وجہ سے متعدد ایوارڈز بھی ملے ہیں۔
ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال امتیاز، ستارہ امتیاز اور ہلال پاکستان کے اعزاز سے نوازا گیا لیکن احمد فراز نے شوکت عزیز اور سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں حکومت کی پالیسی سے ناخوش ہو کر ہلال امتیاز کا اعزاز واپس کردیا تھا۔
ان کی کئی غزلوں کو بہت سے گلوکاروں نے گایا ان کی شاعری اور غزلیں آج بھی فلموں ،ڈراموں اور گیتوں میں شامل ہوتی ہیں۔
احمد فراز کی مشہور غزلوں میں’’ اب کے بچھڑے‘‘ ،’’سنا ہے لوگ اسے‘‘، ’’پھر اسی راہ گزر پر‘‘، ’’یوں تھے‘‘ سمیت دیگر شامل ہیں جب کہ ان کی تصانیف میں تنہاتنہا،جاناں جاناں،میرے خواب ریزہ ریزہ نمایاں ہیں۔
احمد فراز کی غزلیں گانے والوں میں پاکستانی گلوکار نورجہاں اور سلمی آغا ہی نہیں بلکہ بھارتی معروف غزل گائیک جگجیت سنگھ بھی شامل ہیں۔
احمد فراز 25 اگست 2008 کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے تھے لیکن تمام مداحوں کے دل میں اپنی شاعری سے گھر کر گئے ہیں۔
اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں
ڈھونڈ اجڑے ہوئے لوگوں میں وفا کے موتی
یہ خزانے تجھے ممکن ہے خرابوں میں ملیں
غم دنیا بھی غم یار میں شامل کرلو
نشہ بڑھتا ہے شرابیں جو شرابوں میں ملیں
تو خدا ہے نہ میرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
آج ہم دار پہ کھینچے گئے جن باتوں پر
کیا عجب کل وہ زمانے کو نصابوں میں ملیں
اب نہ وہ ہیں، نہ وہ تو ہے، نہ وہ ماضی ہے فراز
جیسے دو شخص تمنا کے سرابوں میں ملیں
(احمد فراز)