Time 15 اکتوبر ، 2017
دنیا

جیو ٹی وی کی روہنگیا مسلم کوریج نے مسلمانوں کی نسل کشی کی تصدیق کردی


جیو ٹی وی اپنی مختصر روہنگیا مسلم کوریج میں براہ راست رو ہنگیا مسلمانوں اور دیگر افراد سے کی گئی تحقیقات میں یہ پتہ چلانے میں کامیاب ہو گیا کہ میانمار میں ظلم کوئی میڈیا پروپیگنڈا نہیں بلکہ ایک حقیقت ہے۔

ہمارے نمائندے علی عمران سید نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ ینگون ایر پورٹ پر حاجیوں کو دیکھ کر شک ہوا کہ شاید دنیا کو پوری اطلاع نہیں دی جا رہی، شاید کچھ مبالغہ آرائی ہو رہی ہے، لیکن یہ ابتدائی تاثر بہت جلد ختم ہو گیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہاں مسلمانوں سے آف دی ریکارڈ بات کرنے سے پتا چلا کہ ارکان سمیت مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے ساتھ ظلم و بربریت انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔

جس مسلمان سے بھی بات کی، وہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کے رپورٹس کے عین مطابق اور خون آلود نکلی۔

علی عمران سید نے بتایا کہ مسلمانوں کی کیمرے کے سامنے آنے اور بات کرنے میں ڈری سہمی ہچکچاہٹ سب کچھ کھول کر بیان کررہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ ارکان ایک نو گو ایریا ہے، وہاں مسلمانوں پر تعلیم سمیت سفر اور ملازمت پر پابندی ہے، جلاو گھراو روز کا معمول ہے۔

اپنی بچی کے ساتھ سڑک کنارے روٹی بناتی ایک مسلم خاتون نے بتایا کہ ان کے ٹیکسی ڈرائیور شوہر کو محض اس لیے جیل میں ڈال دیا گیا کہ وہ ارکان کیلئے سفر کر رہے تھے حالانکہ ان کے پاس لائسنس اور برمی شہریت ہے۔

ایک دیگر شخص نے بتایا کہ ان کے پوتے گمشدہ ہیں اور اس کے بعد ان کے ساتھ کیا ہوا انہیں علم نہیں۔

علی عمران سید نے مزید بتایا کہ تحقیقات کے دوران ایک دو نہیں بلکہ بیشتر مسلمانوں میں یہ خوف دیکھا کہ کہیں اگلی بار ینگون سمیت دیگر شہروں میں بھی مسلمانوں کیخلاف قتل و غارت شروع نہ ہوجائے۔

مزید خبریں :