15 فروری ، 2018
ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے
کہتے ہیں کہ غالب کا ہے اندازِ بیاں اور
اپنی شاعری سے احساسات و جذبات کو چھو لینے والے بے مثال شاعر مرزا غالب کو جدا ہوئے آج 149 برس بیت گئے لیکن ان کی لازوال غزلیں اور دلفریب شاعری آج بھی دل کے تار چھیڑ دیتی ہے۔
مرزا غالب کا اصل نام مرزا اسد اللہ خان بیگ تھا جنہیں لوگ پیار سے 'مرزا نوشہ' کہتے تھے جب کہ ’غالب‘ ان کا تخلص تھا۔
27 دسمبر 1797 کو آگرہ میں پیدا ہونے والے مرزا غالب مغل دور کے آخری عظیم شاعر تھے۔
انہیں لڑکپن سے ہی شاعری کا شوق تھا، 1812 میں وہ دلی چلے گئے اور پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے۔
مرزا غالب کا شمار ان شاعروں میں ہوتا ہے جنہیں اردو اور فارسی زبان پر عبور حاصل تھا۔
ان کی شاعری عشق، جنون اور رنج و غم کے جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جس کا حسنِ بیان اپنی جگہ مُسلَّم ہے، مگر ان کا اصل کمال تلخ حقائق کا ادراک اور انسانی نفسیات کی پرکھ ہے اور اسی کو غالب نے نہایت آسان الفاظ میں ڈھالا۔
بقول غالب:
عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی، دردِ لادوا پایا
شاعری ہو یا نثر، انشا پردازی ہو یا خطوط نویسی، غالب نے ہر شے میں منفرد و رنگین جدتیں پیدا کیں۔
غالب کی مشہور تصانیف میں دیوان غالب، دعائے صباح اور دیگر شامل ہیں جن کے مختلف مصنفوں نے اردو زبان میں ترجمے بھی کیے۔
مرزا غالب کی شاعری اور غزلیں آج تک گیتوں میں شامل کی جاتی ہیں۔
چاہے زندگی کی کیفیات ہوں، احساس کی کروٹیں ہوں یا خیال کے زاویے، مرزا غالب کی شاعری میں سبھی کچھ ملتا ہے۔
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے