16 اپریل ، 2018
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے سابق سربراہ جیمز کومی کے درمیان لفظی جنگ شدت اختیار کرچکی ہے۔
ایک طرف جہاں جیمز کومی کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اخلاقی طور پر صدارتی منصب کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے اہل نہیں، وہیں ٹرمپ نے جیمز کومی کو ایف بی آئی کی تاریخ کا بدترین سربراہ قرار دے ڈالا۔
امریکا کے سی این بی سی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں جیمز کومی کا کہنا تھا کہ 'ٹرمپ عادی جھوٹے، خواتین کی تحقیر کرنے والے اور اپنے ساتھ کام کرنے والے ہر شخص کے لیے بد نما داغ ہیں'۔
جیمز کومی نے کہا کہ 'وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بھولنے کی بیماری کے ابتدائی مراحل میں ہیں یا ذہنی طور پر کسی طرح بھی نا اہل ہیں، جو شخص دوسروں پر کڑی نظر رکھے اور ہر بات کا حساب کتاب رکھے وہ کسی طرح بھی معمولی ذہانت کا مالک نہیں ہوسکتا'۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 'میرا خیال ہے کہ ٹرمپ اخلاقی طور پر صدر کے عہدے کے لیے نااہل ہیں۔'
واضح رہے کہ گذشتہ برس اپنی برطرفی کے بعد جیمز کومی کا یہ پہلا ٹی وی انٹرویو تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ برس مارچ میں اچانک ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کومی کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا، جس کی وجہ 2016 کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی حریف ڈیموکریٹک امیدوار ہلری کلنٹن کے ای میلز کے مقدمے کی تفتیش میں ان کا کردار بتایا گیا تھا۔
دوسری جانب جیمز کومی کے انٹرویو کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ٹوئٹر پیغامات کے ایک سلسلے میں سابق ایف بی آئی چیف کے لیے تضحیک آمیز الفاظ استعمال کرتے ہوئے ان کی ذہانت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں ایف بی آئی کی تاریخ کا بدترین سربراہ قرار دے ڈالا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب آئندہ کچھ دنوں میں جیمز کومی کی خود نوشت 'اے ہائیر لوئیلٹی: ٹرتھ، لائیز اینڈ لیڈر شپ' (A Higher Loyalty: Truth, Lies, and Leadership) شائع ہونے والی ہے۔
جیمز کومی کی کتاب اخلاقی قیادت کے موضوع پر ہے، جو ان کی زندگی سے لی گئی کہانیوں پر مبنی ہے جن سے انہوں نے سبق حاصل کیا۔
کتاب میں 3 امریکی صدور کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں سے 2 اخلاقی قیادت کی اعلیٰ مثال جبکہ ایک اس کی متضاد صورتحال پیش کرتے ہیں۔