25 اکتوبر ، 2018
اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیئرمین ایف بی آر نے عدالت کو بتایا کہ جن لوگوں کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں ان پر مقدمہ نہیں کرسکتے لہٰذا ان سے باہر ٹیکس ادا نہ کرنے کی صورت میں صرف ٹیکس لیا جا سکتا ہے۔
سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں چیئرمین ایف بی آر، گورنر اسٹیٹ بینک اور ڈی جی ایف آئی اے عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے چیئرمین ایف بی آر سے گرے کمیونیکیشن سے متعلق سوال کیا اور چیف جسٹس نے پوچھا کہ آپ انڈین ڈی ٹی ایچ کی اسمگلنگ روکنے کے لیے کیا کر رہے ہیں؟
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ممبر کسٹم آرہے ہیں وہ اس بارے میں بتائیں گے جب کہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ کچھ پیش رفت ہوئی ہے کچھ مزید وقت چاہیے۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے بتایا کہ ایک ہزار ارب کی جائیدادوں کی نشاندہی ہوگئی، اب انہیں واپس لانا کس کی ذمہ داری ہے؟ ان میں سے 100 افرادکو عدالت میں حاضر کریں۔
جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ کون 20 لوگ ہیں جنہیں ہم طلب کرکے پوچھیں کہ یہ جائیدادیں کیسے بنائیں؟ ہمیں لندن، دبئی اور دوسرے ملکوں کے بارے میں معلومات چاہیے۔
اس موقع پر ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ 150 لوگوں نے مانا ہے کہ ہماری جائیدادیں ہیں۔
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ بیرون ملک جائیدادیں رکھنے والے افراد 894 ہیں، چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل نے مکالمہ کیا کہ اگر قانون میں سقم ہے تو ترمیم کریں۔
چیف جسٹس نے ڈی جی ایف آئی اے سے مکالمہ کیا آپ کہتے ہیں کہ 1000 ارب کی جائیدادیں ہیں، 1000ارب میں ہمارا ڈیم بھی بن سکتا ہے۔
ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے عدالت کو مزید بتایا کہ 374 لوگوں نے کہا کہ ہم نے جائیداد ظاہر کردیں، ایف آئی اے کے تفتیشی افسر کو 150 لوگوں نے بیانات دیئے، 69 افراد کہتے ہیں انہوں نے ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کیا ہے، 82 افراد کہتے ہیں جائیدادیں ہماری ہیں ہی نہیں۔
چیف جسٹس نے بشیر میمن سے استفسار کیا کہ ڈی جی صاحب آپ کب کارروائیاں کریں گے؟ عدالت نے اٹارنی جنرل سے بھی کہا کہ حکومت کس چیز کا انتظار کر رہی ہے، آپ کو بندوں کی نشاندہی کرکے دے دی، آپ دس نمایاں لوگوں کو یہاں لے آئیں۔
اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ قانون کے مطابق گرفتار نہیں کر سکتے۔
اس موقع پر گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے عدالت کو بتایا کہ 150 لوگوں نے کہا کہ جائیداد ہماری ہے ظاہر نہیں کی، اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ ان 150 میں سے 10 کو بلا لیتے ہیں۔
ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت کو مزید بتایا کہ 150 لوگوں کی 203 جائیدادیں ہیں، قیمت کم از کم 5 کروڑ ہے، بیرون ملک جائیدادوں والے ہیں، اکاونٹس والے نہیں۔
جسٹس ثاقب نثار نے گورنر اسٹیٹ بینک سے سوال کیا کہ کیا عدالت قانون کے مطابق کسی کی بینک تفصیلات طلب کر سکتی ہے؟ کیا ان بینکوں کی بیرون ملک برانچوں سے تفصیلات طلب کر سکتے ہیں؟
گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ نے بتایا کہ وہ برانچیں پاکستان کی حدود میں نہیں آتیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ برطانیہ نے صرف جائیدادوں کی تفصیلات دی ہیں، کسی بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات نہیں، گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ برطانیہ کے ساتھ معلومات کے تبادلے کا معاہدہ یکم ستمبر سے مؤثر ہوا تھا جس پر جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ اس معاہدے کے تحت اب تک کیا معلومات نکالی ہیں؟
دوران سماعت ایف آئی اے کی جانب سے جائیدادوں سے متعلق عبوری رپورٹ پیش کی گئی جس میں بتایا گیا کہ 894 دبئی کی جائیدادیں ہیں، 374 افراد نے ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھایا ہے، 69 افراد نے جائیدادیں ظاہر کیں اور 150 افراد نے جائیدادیں ظاہر نہیں کیں جب کہ 82 افراد نے ملکیت سے انکار کیا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت پاکستان نے ایسٹس ریکوری یونٹ قائم کر دیاہے۔
چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کی بیرون ملک جائیدادیں ہیں ان پر مقدمہ نہیں کرسکتے، ان سے صرف ٹیکس لیا جا سکتا ہے وہ بھی صرف اس صورت میں اگر وہ باہر ٹیکس نہ ادا کر رہے ہوں۔
چیف جسٹس پاکستان نے چیئرمین ایف بی آر سے کہا کہ اگر آپ انہیں پراسیکیوٹ نہیں کرسکتے تو ٹیکس تو ریکور کریں۔
جسٹس ثاقب نثار نے گورنر اسٹیٹ بینک سے پوچھا کہ اگر ہم یہ آرڈر کریں کہ دبئی میں ایم سی بی پاکستانیوں کے اکاؤنٹس کی تفصیلات دے تو کیا وہ قانون کے تحت پابند ہو گا؟
طارق باجوہ نے بتایا کہ دبئی میں ایم سی بی کا لائسنس وہاں کی حکومت کا ہے، وہ قانون کے تحت ایسا کرنے کا پابند نہیں اور یہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
معزز چیف جسٹس نے کہا کہ جن لوگوں کے باہر بھاری اکاؤنٹس ہیں ان کا ہمیں پتہ نہیں چل سکتا؟ یعنی سوئس اکاؤنٹس کا بھی نہیں پتہ چل سکتا، ایف بی آر نے اس سلسلے میں کیا اقدامات کیے ہیں؟
گورنر اسٹیٹ بینک نے عدالت کو آگاہ کیا کہ سوئٹزر لینڈ سے ہمارا معاہدہ نہیں ہوا لیکن برطانیہ سے جائیدادوں کے حوالےسے معاہدہ ہو چکا ہے۔
اس پر چیف جسٹس پاکستان کا کہنا تھا کہ برطانیہ سے صرف جائیدادوں کی تفصیلات کے بارے میں معاہدہ ہوا ہے، اکاؤنٹس کے حوالے سے نہیں، آپ سے زیادہ تو مجھے علم ہے کہ یہ ڈیڑھ سو سے دو سو جائیدادیں ہیں۔
ڈی جی ایف آئی ایف بشیر میمن نے بتایا کہ دبئی میں 150 لوگوں کی 203 جائیدادیں ہیں، ان جائیدادوں میں سے ہر ایک کی قیمت 5 کروڑ روپے سے زائد ہے۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ اِنکم ٹیکس قوانین کے تحت جن پاکستانیوں نے جائیداد ظاہر نہیں کی انہیں گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔
اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ تو پھر قوم کے ذہن سے یہ شک نکل جانا چاہیے کہ یہ کوئی ناجائز پیسہ ہے، آپ گرفتار نہ کریں لیکن بلا کر پوچھ تو سکتے ہیں۔
اٹارنی جنرل اور ڈی جی ایف آئی اے نے مزید اقدامات کے لیے عدالت سے وقت دینے کی استدعا کی جس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ فروری سے یہ کیس سن رہے ہیں، ٹائم مانگتے مانگتے جنوری نکل جانی ہے، یا تو ہم اس کیس کو بند کر دیتے ہیں اور حکومت کو کہہ دیتے ہیں کہ حکومت جانے اور لوگ جانیں۔
عدالت نے ایف آئی اے کو حکم دیا کہ ایمنسٹی اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں میں سے 10 افراد، جائیداد ظاہر نہ کرنے والوں میں سے 10 افراد، ٹیکس نہ دینے والوں میں سے 10 افراد اور جائیدادوں سے انکار کرنے والوں میں سے بھی 10 لوگوں کے نام عدالت کو دیئے جائیں۔
عدالت عظمیٰ نے ایف آئی اے کو جمعرات تک فہراست فراہم کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت آئندہ جمعرات تک ملتوی کردی۔