20 دسمبر ، 2018
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں شرح خواندگی 60 فیصد سے کم ہوکر 58 فیصد ہوگئی ہے۔
سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے شفقت محمود نے کہا کہ کچھ رپورٹس کے مطابق دو کروڑ 28 لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، تعلیم بالغان کے حوالے سے بھی خصوصی مہم شروع کی جارہی ہے، کوششوں سے شرح تعلیم میں 10 سے 15 فیصد بہتری ہوسکتی ہے۔
وفاقی وزیر تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا کہ پچھلے 5 سال کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 376 طلبہ کو بیرون ممالک اسکالرشپ دی گئی ہے، سرکاری یونیورسٹیوں کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے سفارشات مرتب کی گئی ہیں، ایچ ای سی کا نظام بھی بہتر بنایا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ شرح خواندگی میں اضافے کیلیے خصوصی مہم چلائی جائے گی۔ وزیراعظم کی ہدایت پر ایچ ای سی نے 171 یونیورسٹیوں کی نظم و نسق اور معیار کا جائزہ لیا، ایچ ای سی کی کارکردگی کو قوانین کی حدود میں رہتے ہوئے بہتر بنایا جائے گا، ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ 18 ویں ترمیم کی خلاف ورزی کا بھی کسی طرف سے اعتراض سامنے آئے۔
وزیر تعلیم نے کہا کہ سرکاری یونیورسٹیوں کے مالی، انتظامی اور دیگر معاملات میں بہتری کیلئے وزارت خزانہ کے ساتھ مشاورت کے بعد بنیادی سفارشات مرتب کی گئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 1998ء کی مردم شماری کے مطابق مجموعی شرح خواندگی 43.92 فیصد تھی، مردوں میں شرح خواندگی 54.81 اور خواتین 32.02 فیصد تھی، یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ جنوبی ایشیائی ممالک میں مالدیپ میں سب سے زیادہ شرح خواندگی 99 فیصد اس کے بعد سری لنکا میں 91 اور ایران میں 85 فیصد ہے۔
شفقت محمود نے کہا کہ افغانستان واحد ملک ہے جس کی شرح خواندگی پاکستان سے بھی کم ہے اور یہ بات بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ شرح خواندگی میں اضافے کی بجائے کمی ہوئی ہے، شرح خواندگی میں اضافے کیلئے خصوصی مہم چلائی جائے گی۔
وزیر تعلیم نے سینیٹ کو بتایا کہ اس وقت ملک میں اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد دو کروڑ 28 لاکھ کے لگ بھگ ہے، فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں، اسلام آباد میں 27 سے 28 ہزار اسکول نہ جانے والے بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے کیلئے مہم شروع کر دی گئی ہے۔
شفقت محمود نے بتایا کہ اسکول نہ جانے والے بچوں کی تعداد یونیسکو، اقوام متحدہ کے دیگر اداروں اور ہمارے اداروں کی معلومات پر مشتمل ہے، تاہم اس کی مزید تصدیق کی بھی ضرورت ہے، اسکول نہ جانے والے طلبا و طالبات کی تعداد میں زیادہ فرق نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ فنی تربیت کے زیادہ تر ادارے مکمل طور پر 18 ویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل ہو چکے ہیں، وفاقی سطح پر ہم مختلف ذرائع سے فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے فروغ کیلئے فنڈز کا انتظام کررہے ہیں۔