21 دسمبر ، 2018
تشکیل و تکمیلِ فن میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
ابولاثر حفیظ جالندھری بالکل درست فرما گئے ہیں، واقعی یہ دو چار برس کی بات نہیں ہے بلکہ حفیظ جالندھری نے اپنی زندگی کا نصف سے زیادہ حصہ علم و ادب کی آبیاری پر لگایا اور آج انھیں ہم سے بچھڑے 36 برس ہو چکے ہیں۔
قومی ترانے کے خالق کی حیثیت سے حفیظ جالندھری پاکستانیوں کے دل میں مکمل احترام اور مبحت کے ساتھ زندہ ہیں اور رہیں گے۔
حفیظ جالندھری 14 جنوری 1900 کو ہندوستان کے شہر جالندھر میں پیدا ہوئے، آپ کا قلمی نام ’ابولاثر‘ تھا اور یہ ان کے قلمی نام ہی کا اثر ہو گا کہ حفیظ جالندھری نے جو کچھ لکھا وہ پُراثر ٹھہرا۔
اب چاہے وہ آپ کا فنی کارنامہ اسلام کی منظوم تاریخ ’شاہ نامہ اسلام‘ ہو یا کروڑوں پاکستانی دلوں کی دھڑکن پاکستان کا قومی ترانہ۔
اس کے علاوہ ملکہ پکھراج کی آواز میں 'ابھی تو میں جوان ہوں' بھی لوگوں کے ذہنوں میں گونجتا ہے۔
حفیظ جالندھری کی خدمات کے صلے میں آپ کو شاعرِ اسلام اور شاعرِ پاکستان کے خطابات سے نوازا گیا۔
حفیظ جالندھری کی علمی اور قومی خدمات کے عوض حکومت کی جانب سے آپ کو ہلال امتیاز اور تمغۂ حسنِ کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔
ان کے کئی اشعار ضرب المثال بنے اور زبان زد عام ہوئے ؛
'ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں تو ڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے'
'دیکھا جو تیرکھا کہ کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی'
ان کے کلام کے مجموعے نغمہ زار، سوزوساز، تلخابہ شیریں، چراغ سحر اور بزم نہیں رزم کے نام سے موجود ہیں۔
پھول مالی اور بچوں کی نظمیں اور اپنے موضوع پر ایک منفرد کتاب چیونٹی نامہ خصوصاً قابل ذکر ہیں۔
حفیظ جالندھری82 سال کی عمر میں21 دسمبر 1982 کو اس جہان فانی سے کوچ کر گئے۔ ان کے انتقال سے علم و ادب کا ایک باب بند ہو گیا لیکن ان کا علم ہمیں سیراب کرتا رہے گا۔