Can't connect right now! retry

بلاگ
23 اگست ، 2019

ریاست ِمدینہ کا نعرہ؛ عمل میں تضاد کیوں؟

فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان کی طرف سے یہ اعلان کہ ’’پاکستان ریاستِ مدینہ کے اصولوں پر بنا‘‘ واقعی قابل تعریف ہے۔ گزشتہ دنوں خصوصی افراد کے لیے صحت سہولت کارڈ کے اجراء کے سلسلے میں منعقدہ تقریب میں انہوں نے پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کے لیے جن اصولوں کا ذکر کیا وہ بھی قابلِ تعریف ہیں، مثال کے طور پر انہوں نے کہا ’’ریاستِ مدینہ میں رحم، عدل و انصاف، احساس اور انسانیت کے اصولوں پر عمل کرنے سے ہی اللہ تعالیٰ پاکستان کو ترقی دے گا‘‘۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اب تک پاکستان میں ان اصولوں پر بہت کم عمل کیا گیا مگر ساتھ ہی میں بڑے ادب سے وزیراعظم عمران خان سے استفسار کرنا چاہوں گا کہ کیا آپ کے ایک سالہ دورِ حکومت میں ان اصولوں میں سے کسی ایک اصول کو اپنانے کے لیے کوئی پیشرفت ہوئی؟ میرا خیال ہے کہ ان اصولوں پر اب تک کے عملدرآمد کے بارے میں صورتحال اطمینان بخش نہیں۔ فی الحال ہم فقط عدل و انصاف کے اصول پر ہی ابتدائی تجزیہ کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں ملک بھر میں موجودہ حکومت کی کارکردگی پر کئی خدشات ہیں مگر سب سے زیادہ شکایتیں سندھ کو ہیں۔ سندھ کے عوام کو سب سے بڑی شکایت یہ ہے کہ عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد جب عمران خان نے خطاب کیا اور پارٹی کا قومی ایجنڈا پیش کیا تو اس میں سندھ کا کہیں ذکر نہیں تھا، بعد میں سندھ کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان کے اعلانات یا اقدامات کا سندھ سے کوئی مثبت تعلق نظر نہیں آیا۔ جہاں تک پاکستان کو ریاستِ مدینہ بنانے کا اعلان ہے تو اس حوالے سے سندھ کے اکثر لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر واقعی ان کا اسلام سے اتنا لگاؤ ہے تو پھر ان کو سندھ کے لیے بہت احترام ہونا چاہیے کیونکہ اس خطے میں اسلام سب سے پہلے سندھ نے قبول کیا۔

شاید عمران خان کو یہ بھی پتا نہیں کہ دنیا بھر میں قرآن شریف سب سے پہلے اگر کسی غیر عربی زبان میں ترجمہ ہوا ہے تو وہ سندھی زبان ہے۔ اب تک کئی علماء نے اپنے مکتوبات میں یہ باتیں لکھی ہیں کہ سندھ واحد صوبہ ہے جہاں سے 10 سے 20 تک لوگوں کے وفود مدینہ شریف پہنچے اور ہمارے نبی کریمﷺ کے حضور پہنچ کر ان کے دستِ مبارک پر اسلام قبول کیا۔ ان مکتوبات کے مطابق بعد میں سندھ سے آئے ہوئے ان وفود میں سے کچھ کو حضور نبی اکرمﷺ نے حکم دیا کہ وہ سندھ واپس جائیں اور وہاں اسلام کی تبلیغ کریں۔ ان میں سے کچھ بعد میں انتقال کرگئے اور ان کی قبریں آج بھی سندھ کے مختلف علاقوں میں ہیں۔

علماء کے ان مکتوبات میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سندھیوں اور ہمارے نبی کریمﷺ کے درمیان تعلق کا آغاز اس وقت سے ہوا جب ابھی ہمارے نبی کریمﷺ نے اعلانِ نبوت نہیں فرمایا تھا۔ اس وقت سیدہ خدیجۃ الکبریٰؓ جو ابھی حضور اکرمﷺ کے عقد میں نہیں آئی تھیں، کا شمار عرب کے بڑے بیوپاریوں میں ہوتا تھا اور اس وقت حضور اکرمﷺ سیدہ خدیجہؓ کے چند اہم کاروباری ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ اس دور میں سندھ سے بھی بیوپاریوں کی خاصی تعداد عرب میں بیوپار کرنے جاتی تھی۔

معروف مورخ ابنِ حبيب نے اپنی کتاب ’’تصنيف المحبر‘‘ ميں یہ بھی ذکر کیا ہے کہ سندھی بیوپاریوں کا ہمارے نبی کریمﷺ سے اکثر رابطہ رہتا تھا۔ یہ سندھی اکثر سندھ کی اجرک میں ملبوس ہوتے۔ یہ اجرک حضور اکرمﷺ کو بھی بہت پسند آئی اور سندھی بیوپاریوں نے کچھ اجرکیں حضور اکرمﷺ کو تحفے کے طور پر دیں جنہیں آپؐ اکثر اوڑھا کرتے تھے۔

اب ہم عدل و انصاف کے حوالے سے موجودہ حکومت کی طرف سے سندھ کے ساتھ جو غیر منصفانہ سلوک کیا گیا ہے اس کا ذکر کرتے ہیں۔ اس دور میں عوام نے دیکھا کہ سپریم کورٹ کے ایک چیف جسٹس ڈیم بنانے کی مہم کا حصہ بنے اور اس کے لئے ملک کے اندر اور بیرون ملک شخصی طور پر چندے کی مہم چلائی۔ بعد میں اس مہم میں وزیراعظم عمران خان بھی شریک ہوئے۔

اس مرحلے پر میں وزیراعظم اور دیگر عناصر کی اس بات کی طرف توجہ مبذول کراؤں گا کہ سندھ دریائے سندھ کے آخری سرے پر ہے حالانکہ عالمی طور پر یہ اصول تسلیم شدہ ہے کہ کسی بھی دریا پر سب سے پہلا حق آخری سرے (ٹیل) کا ہوتا ہے جبکہ یہاں اس اصول کے منافی ناانصافی شروع سے جاری ہے، دریا کے اوپر والے حصے میں ڈیم بنائے جاتے رہے ہیں۔ جس کا اثر یہ ہوا کہ دریائے سندھ سے سندھ کو فراہم کئے جانے والے پانی میں بڑے پیمانے پر کمی ہوئی جس سے فصلوں کو شدید نقصان ہوتا رہا ہے۔

میں یہاں اس بات کا ذکر کرتا چلوں کہ اس ایشو پر اسلام کیا کہتا ہے اور خود ہمارے نبی حضرت محمد مصطفیٰﷺ کیا فیصلے دے چکے ہیں۔ کچھ عرصے پہلے مجھے لاڑکانہ سے ایک عالم دین نے اس ایشو کے حوالے سے کچھ قرآنی آیات، احادیث مبارکہ اور کچھ حضور اکرمﷺ کی طرف سے ایسے مسائل پر کئے گئے مختصر فیصلے ارسال کئے۔

ان میں سے میں یہاں ایک حدیث شریف اور ایک حضور اکرمﷺ کا ایسے ہی ایک ایشو پر دیا گیا فیصلہ پیش کر رہا ہوں۔ مراسلے کے مطابق مدینہ شریف کے قریب ایک کینال ہوتی تھی جو غالباً ابھی تک ہے، ایک مرحلے پر اس کینال پر کاشت کرنے والے ایک مسلمان کاشتکار اور ایک یہودی کاشتکار کے درمیان اس بات پر تنازع پیدا ہو گیا کہ اس کینال کے پانی پر زیادہ حق اوپر والے کاشتکار کا ہے یا نچلے حصے والے کاشتکار کا؟ آخر کار دونوں کاشتکار یہ تنازع نبی کریمﷺ کے پاس لے آئے۔ حضور نبی اکرمﷺ نے دونوں کا موقف سننے کے بعد متعلقہ علاقہ کا خود معائنہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ معائنہ کرنے کے بعد سید الانبیاءﷺ نے فیصلہ دیا کہ چونکہ یہودی کاشتکار کا تعلق نچلے حصے سے ہے لہٰذا اس کینال کے پانی پر زیادہ حق یہودی کاشتکار کا ہے۔ 

بعد میں جب حضرت عمر فاروقؓ خلیفہ بنے تو یہ مسلمان کاشتکار حضرت عمر فاروقؓ کے پاس درخواست لیکر آیا کہ اسے اس کینال کے پانی کو استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں، لہٰذا اس معاملے کا جائزہ لیا جائے۔ ابھی یہ شخص اپنی فریاد سنا ہی رہا تھا کہ قریب موجود ایک صحابیؓ بول پڑے کہ یہ قضیہ ہمارے نبی کریمﷺ کے پاس آیا تھا، یہ سن کر حضرت عمر فاروقؓ نے اس کاشتکار کو خاموش کرایا اور ان صحابی سے پوچھا کہ حضور اکرمﷺ کا کیا فیصلہ تھا، اس پر انہوں نے بتایا کہ حضور اکرمﷺ نے فیصلہ دیا کہ پانی پر پہلا حق اس یہودی کاشتکار کا ہے جو نچلے حصے میں ہے۔ یہ سن کر حضرت عمر فاروقؓ نے تلوار نکالی اور اس کاشتکار کی گردن اڑا دی اور کہا کہ جو حضور اکرمﷺ کا فیصلہ نہیں مانتا، اس کے بارے میں میرا فیصلہ یہ ہے۔

اس فیصلے کی روشنی میں ہماری حکومت کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ اگر پاکستان کو واقعی ریاست مدینہ بنانا ہے تو پھر دریا کے پانی کی تقسیم بھی اس اصول پر ہونی چاہئے جو حضور اکرمﷺ نے طے کیا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں 00923004647998)


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM