Time 29 ستمبر ، 2019
دنیا

سُلگتا، بِلکتا، سِسکتا کشمیر

فوٹو: فائل

حَسین وادیاں، بلند و بالا برف پوش پہاڑ، پھلوں سے لدے باغات،جن کے بیچ رنگ برنگے پرندوں کے مسحور کُن گیت، سر سبز لہلہاتے کھیت، یہ ہے میرا کشمیر، آپ کا کشمیر، ہم سب کا کشمیر…

مگر اب اُس کی پہچان یہ قدرتی حُسن نہیں، جو آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے، بلکہ بچّوں کی چیخیں، جوان لاشے تھامے ماؤں کی سِسکیاں، گھروں سے اُٹھتے آگ کے شعلے، لڑکیوں کی ویران آنکھیں، جو اُن پر فوجی کیمپس میں بیتی اَلم ناک کہانیاں سُناتی ہیں، ایسی کہانیاں، جو سینے چیر ڈالیں۔

مِٹتی بستیاں اور بڑھتے قبرستان، یہ ہے آج کا کشمیر، یہ کوئی دو چار برس کا قصّہ نہیں، ظلم کی اِس سیاہ رات کو پون صدی بیت چُکی۔ وہ اذیتیں، مصیبتیں سہہ رہے ہیں…مگر پھر بھی حوصلے بلند ہیں، صرف مرد…؟؟نہیں ،عورتیں بھی۔صرف جوان؟ نہیں ،بوڑھے بھی۔ گولیاں چلیں یا گھر جلیں…سب کا آج بھی ایک ہی نعرہ ہے’’ ہم کیا مانگیں…آزادی‘‘ اور’’ کشمیر بنے گا، پاکستان‘‘، ایسا ہوگا اور ضرور ہوگا۔ اِن شاء اللہ

سرزمینِ مہر و وفا

دو لاکھ 22 ہزار 236 مربع کلومیٹر پر مشتمل کشمیر اِن دنوں تین ممالک بھارت، پاکستان اور چین میں منقسم ہے۔ بھارت کے پاس اس کا46 فی صد، پاکستان کے پاس 38 فی صد، جب کہ چین کے پاس کشمیر کا16 فی صد حصّہ ہے۔ 

مختلف رپورٹس کے مطابق، اِس پورے کشمیر کی مجموعی آبادی ایک کروڑ 85 لاکھ کے قریب ہے، جس میں آزاد کشمیر کی آبادی 60 لاکھ 45 ہزار 366 ، جب کہ مقبوضہ کشمیر کی آبادی ایک کروڑ 25 لاکھ 41 ہزار 302 ہے۔ بھارت کے زیرِ قبضہ وادیٔ کشمیر میں 95 فی صد مسلمان اور 4 فی صد ہندو بستے ہیں۔ جمّوں اور لداخ میں بھی مسلمان بہت بڑی تعداد میں ہیں۔ 

بھارت نے 2011ء کی مردم شماری میں جمّوں و کشمیر میں مسلمانوں کی مجموعی آبادی68 فی صد ظاہر کی، جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے سنجیدہ اعتراضات سامنے آئے۔ پھر یہ کہ بھارت ،مقبوضہ کشمیر میں آبادی کا تناسب بدلنے کے لیے ایک منظّم سازش پر بھی کام کر رہا ہے، جس میں غیر مقامی افراد کی وہاں آبادکاری بھی شامل ہے۔

تنازعے کی ابتدا

ہندوستان میں 565 کے لگ بھگ آزاد ریاستیں تھیں، جنھیں تقسیمِ ہند کے وقت پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق یا پھر آزادانہ حیثیت برقرار رکھنے کا حق دیا گیا۔ کشمیر بھی اُن میں سے ایک ریاست تھی، جس پر مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی، تاہم آبادی کی اکثریت مسلمانوں پر مشتمل تھی۔

وہاں کے عوام کیا چاہتے تھے، اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنوری 1947 ء میں کشمیر کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مسلم کانفرنس نے کام یابی حاصل کی اور پھر اسمبلی نے 19 جولائی 1947ء کو پاکستان کے ساتھ الحاق کی قرار داد منظور کی۔ مگر عوامی خواہشات کے برعکس، مہاراجہ نے اپنی حکومت بچانے کے لیے ریاست کی آزادانہ حیثیت برقرار رکھنے کی کوشش کی اور اِس مقصد کے لیے اپنے ہم مذہب ہندوؤں کو مسلّح کرنا شروع کردیا۔

اس طرح مسلمانوں کے خلاف ظلم و جبر کا نیا باب کُھل گیا، جس پر وہاں کے عوام اُس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے۔ پاکستان کے پختون قبائل بھی اپنے مظلوم بھائیوں کی مدد کو پہنچے، یہاں تک کہ حریّت پسند سری نگر تک جا پہنچے، جس پر راجا پہلے جمّوں اور پھر وہاں سے بھی فرار ہو کر دہلی پہنچ گیا۔ اس کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور بھارتی وزیرِ اعظم، جواہر لال نہرو نے ایک سازش کے تحت اعلان کردیا کہ راجا نے کشمیر کا بھارت کے ساتھ الحاق کردیا ہے اور پھر دوسرے ہی روز، یعنی 27 اکتوبر 1947 ء کو بھارتی افواج کشمیر میں داخل ہوگئیں اور اب تک وہاں قابض ہیں۔

یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ بھارتی حکومت نے تقسیمِ ہند کے موقعے پر کئی ایسی ریاستوں پر قبضہ کرلیا تھا، جس کے حکم ران مسلمان تھے اور اس قبضے کا جواز یہ پیش کیا کہ اُن ریاستوں میں اکثریتی آبادی ہندوؤں پر مشتمل ہے، مگر اُس نے یہ فارمولا کشمیر میں اپنانے سے انکار کردیا۔ گو کہ ماؤنٹ بیٹن اور نہرو نے کشمیر کے بھارت سے الحاق کے اعلان کے ساتھ یہ بھی واضح کیا تھا کہ یہ الحاق عارضی ہے اور حالات درست ہوتے ہی عوامی منشا کے مطابق خطّے کے مستقبل کا فیصلہ ہوگا، اس ضمن میں نہرو کی تقاریر اور خطوط ریکارڈ پر ہیں، مگر 72 برس گزرنے کے باوجود یہ وعدہ وفا نہ ہوا، بلکہ اب بھارت ان حقائق تک سے انکاری ہے۔

مزید خبریں :