Time 30 نومبر ، 2019
پاکستان

’جن سے ایک نوٹی فکیشن نہیں بن سکا، وہ ایوان میں کیسے اتفاق رائے پیدا کریں گے‘

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جن سے ایک نوٹی فکیشن نہیں بن سکا، وہ ایوان میں 6 ماہ میں کیسے اتفاق رائے پیدا کریں گے۔

آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں پیپلزپارٹی کے یوم تاسیس کے جلسے سے خطاب میں بلاول بھٹو  زرداری نے وزیراعظم عمران خان کو خبردار کیا کہ عمران خان،  سن لیں، آصف علی زرداری نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی بنیاد رکھی اور ہم اس منصوبے پر یوٹرن نہیں لینے دیں گے، سی پیک کا تحفظ کرنا جانتے ہیں،کسی صورت متنازع نہیں بننے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جب سے حکومت آئی ہے کوئی شعبہ ایسا نہیں جو زوال پذیر نہ ہوا ہو، حکومت سے جان چھڑانا ہوگی اور سلیکٹڈ کو گھر بھیجنا ہوگا، کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ کے بارے میں ہمیں پتا تھا، یہ نالائق ہے، اس وقت معیشت ناکام، خارجہ پالیسی ناکام اور سیاست ناکام ہے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ نالائقی کی انتہا ہے کہ پوری حکومت مل کر 3 مہینے میں ایک نوٹی فکیشن درست طریقے سے نہیں بنا سکی، آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کامعاملہ اب پارلیمان میں آئے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جن سے ایک نوٹی فکیشن نہیں بن سکا، وہ معاملے پر ایوان میں 6 ماہ میں کیسے اتفاق رائے پیدا کریں گے؟ جو ایک سال میں ایک قانون بھی پاس نہ کرسکے، وہ کیسے قانون سازی کریں گے؟ 

ان کا کہنا ہے کہ آج سیاست کا محور بدل گیا ہے، آج سیاست میں نظریات نہیں بلکہ سستی شہرت کے لیے مخالفین پر کیچڑ اچھالا جاتاہے، کسی جامع پالیسی کے بغیر عوام کو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے حکومت کو 6 ماہ میں قانون سازی کرنے کا حکم دیتے ہوئے چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت میں 6 ماہ کی مشروط توسیع دی تھی۔

مزید خبریں :