Geo News
Geo News

Time 28 دسمبر ، 2019
پاکستان

اقوام متحدہ کے بعد امریکا نے بھی ملالہ کو دہائی کی معروف ترین ’ٹین ایجر‘ قرار دے دیا

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے ایک جائزے میں ملالہ یوسفزئی کو 21 ویں صدی کی دوسری دہائی کی مقبول ترین نوجوان قرار دیا تھا— فوٹو:فائل 

اقوام متحدہ کے بعد امریکا نے بھی نوبیل انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کو رواں دہائی کی معروف ترین ’ٹین ایجر‘ قرار دے دیا۔

گزشتہ دنوں اقوام متحدہ کے ایک جائزے میں ملالہ یوسفزئی کو 21 ویں صدی کی دوسری دہائی کی مقبول ترین نوجوان قرار دیاگیا  تھا۔

اقوام متحدہ کی نیوز سروس نے اپنے جائزے میں ملالہ کی لڑکیوں کی تعلیم کے سلسلے میں کوششوں کا اعتراف کیا اور اُن پر قاتلانہ حملے سے لے کر عالمی اعزازات کے حصول کا ذکر بھی کیا گیا۔

اب امریکا نے بھی ملالہ یوسفزئی کی کوششوں کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں رواں دہائی کی معروف ترین ’ٹین ایجر‘ قرار دیا ہے۔

جنوبی اور وسط ایشیا کے لیے قائم مقام امریکی معاون سیکرٹری ایلس ویلز کا کہنا تھا کہ 2019 کے اختتام پر اقوم متحدہ کی معروف ٹین ایجر کی لسٹ میں ملالہ یوسفزئی بھی شامل ہیں جس کی ہم مکمل حمایت کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملالہ کو 2014 میں نوجوانوں پر ظلم و ستم کے خلاف اور بچوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد پر نوبیل امن انعام سے بھی نوازا گیا۔

خیال رہے کہ ملالہ یوسفزئی 1997 میں سوات کے شہر مینگورہ میں پیدا ہوئیں، تعلیم، امن اور لڑکیوں کی تعلیم کیلئے آواز بلند کرنے والی ملالہ کو خاموش کرنے کے لیے دہشت گردوں نے 9 اکتوبر 2012 کو ان پر فائرنگ کرکے شدید زخمی کیا۔

لیکن یہی ملالہ اس کے بعد دنیا بھر میں خواتین اور بچوں کی تعلیم کی آواز بن گئیں،  2014 میں ملالہ کو کم عمر ترین نوبل انعام یافتہ ہونے کا اعزاز ملا تو دنیا دنگ رہ گئی۔

ملالہ اب تک نوبیل امن انعام، سخاروف اور ورلڈ چلڈرن پرائز سمیت 40 سے زیادہ بین الاقوامی اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔ ملالہ یوسفزئی اب پاکستان کے علاوہ افریقا، شام اور دیگر خطوں کے تعلیم سے محروم بچوں کی بھی آواز بن گئی ہیں۔

ملالہ یوسفزئی خود پر ہونے والے حملے کے بعد سے برطانیہ میں مقیم ہیں اور اس وقت برطانیہ میں ہی تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ ملالہ نے ہمیشہ اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ دنیا میں حقیقی تبدیلی صرف تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔