Can't connect right now! retry

'کاش کوئی معجزہ ہوتا اور وہ زارا کو ڈھونڈ لیتے'

فوٹو: فائل

گزشتہ روز پی آئی اے کی پرواز پی کے 8303 ائیرپورٹ کے قریب آبادی پر گر کر تباہ ہوگئی جس میں 91 مسافر اور عملے کے8 ارکان سوار تھے اور بد قسمتی سے اس پرواز میں پاکستان فیشن انڈسٹری کی ماڈل زارا عابد بھی موجود تھیں۔

ریسکیو حکام کی جانب سے پوری رات لاشیں نکالنے کا سلسلہ جاری رہا جس میں سے 16 لاشوں کی شناخت کی گئی جب کہ 50 لاشوں کی شناخت نہ ہو سکی۔

اس بد قسمت طیارے میں موجود پاکستان فیشن انڈسٹری کی ماڈل زارا عابد بھی موجود تھیں جو کہ اب اس دنیا میں نہیں رہیں۔

زارا عابد کے انتقال پر پوری شوبز انڈسٹری شدید رنج و غم میں مبتلا ہو گئی ہے جب کہ زارا عابد کی سب سے قریبی دوست کی جانب سے بھی انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی گئی۔

View this post on Instagram

You broke me

A post shared by Abeer Rizvi (@abeerrizviofficial) on

 زارا عابد کی قریبی دوست نے ان کے ساتھ ایک ویڈیو شیئر کرکے لکھا کہ تم نے مجھے توڑ دیا۔

عبیر کی پوسٹ پر متھیرا نے کمنٹ کیا کہ 'کاش کوئی معجزہ ہوتا اور وہ زارا کو ڈھونڈ لیتے'۔

دوسری جانب زارا کے قریبی دوست اور اسٹائلسٹ کھوجی نے بھی کمنٹ کیا کہ 'اللہ ہم معجزے کا انتظار کر رہے ہیں'۔

فیشن انڈسٹری سے تعلق رکھنے والی فریحہ الطاف نے ٹوئٹ کرتے ہوئے بتایا کہ 'زارا عابد شوٹ میں مصروف تھیں کہ  اسی دوران ان کے انکل کا انتقال ہوگیا تھا جس وجہ سے انہیں فوراً لاہور  جانا پڑا تھا'۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 'زارا عابد کا اس طرح سے انتقال پاکستان فیشن انڈسٹری کے لیے ایک بہت بڑا خلا ہے'۔

ڈیزائنر نومی انصاری نے بھی ایک ٹوئٹ کی جس میں انہوں نے ماڈل زارا عابد کے ساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 'گزشتہ رمضان اسی دن ہم نے ساتھ افطار کیا تھا'۔

نومی انصاری نے مزید کہا کہ یہ بہت ہی تکلیف دہ لمحہ ہے۔

پاکستان انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کی مقبول ماڈل آمنہ الیاس نے بھی ساتھی ماڈل کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ 'میری ساتھی، میں جسے بے حد پسند کرتی تھی، ایک خوبصورت لڑکی، میں جب بھی اس سے ملتی تھی یہ مجھے بے حد گرم جوشی اور مسکراہٹ کے ساتھ گلے لگاتی تھی'۔

آمنہ الیاس نے مزید لکھا کہ 'معجزے کے منتظر ہیں'۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM