Can't connect right now! retry

دنیا
18 نومبر ، 2020

امریکا کا افغانستان و عراق میں فوجیوں کی تعداد 20 سال کی کم ترین سطح پر لانے کا اعلان

آئندہ سال 15 جنوری تک افغانستان میں 2000 امریکی فوجیوں کی تعداد کم کی جائے گی اور اس کو 4500 سے 2500 کیا جائے گا: امریکی قائم مقام وزیردفاع— فوٹو: امریکی ائیرفورس

امریکا نے آئندہ سال جنوری تک افغانستان اور عراق میں فوجیوں کی تعداد تقریباً 20 سال کی کم ترین سطح پر لانے کا اعلان کردیا۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا کے قائم مقام وزیر دفاع کرسٹوفر ملر نے پینٹاگون میں پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے افغانستان اور عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کا روڈ میپ پیش کیا۔

امریکا کی جانب سے فوجیوں کی تعداد میں کمی کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ صدارتی انتخاب میں شکست کے بعد 20 جنوری کو اقتدار چھوڑ دیں گے جبکہ گزشتہ روز نیٹو کے سربراہ نے بھی اس پر خدشات کا اظہار کیا تھا۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں قائم مقام امریکی وزیر دفاع کرسٹوفر ملر نے کہا کہ آئندہ سال 15 جنوری تک افغانستان سے 2000 امریکی فوجیوں کو واپس بلالیا جائے گا اور اسے وہاں امریکی فوجیوں کی تعداد 4500 سے کم کرکے 2500 کردی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ عراق سے بھی مزید 500 فوجیوں کا انخلاء کیا جائے گا جس کے بعد عراق میں تعینات فوجیوں کی تعداد بھی 2500 ہوجائے گی۔

امریکی قائم مقام وزیر دفاع کے مطابق افغانستان اور عراق میں مجموعی طور پر ڈھائی، ڈھائی ہزار امریکی فوجی رہیں گے۔

آئندہ سال 15 جنوری تک افغانستان سے 2000 امریکی فوجیوں کو واپس بلالیا جائے گا اور اسے وہاں امریکی فوجیوں کی تعداد 4500 سے کم کرکے 2500 کردی جائے گی— فوٹو: اے ایف پی

کرسٹوفر ملر نے نیٹو کی جانب سے امریکا طالبان معاہدے پر خدشے کو مسترد کیا اور کہا کہ امریکا نےخطےمیں زیادہ تر مرکزی اہداف حاصل کرلیے اور فوجیوں کی کمی کا یہ اقدام افغانستان اورعراق میں دہشتگردوں کیلئے دروازے کھولنے کے مترادف نہیں۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے جنرل سیکرٹری اسٹالٹن برگ نے امریکا کو خبردار کیا تھا کہ افغانستان سے جلد بازی میں فوج کے انخلاء کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔

طالبان کا امریکی اعلان کا خیر مقدم

دوسری جانب افغان طالبان نے افغانستان اور عراق سے امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی کے پینٹاگون کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ یہ ایک اچھا اقدام ہے جو دونوں ممالک کے لوگوں کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ غیرملکی افواج جتنی جلدی جائیں گی جنگ بھی اتنی جلدی ختم ہوگی۔

خیال رہے کہ رواں سال کے اوائل میں امریکا اور طالبان کے درمیان امن معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت 14 ماہ میں تمام امریکی اور نیٹو افواج کا افغانستان سے انخلاء ہوگا۔

اس امن معاہدے کے تحت امریکا کو مئی 2021 تک افغانستان سے مکمل انخلاء کرنا ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM