Can't connect right now! retry

دنیا
03 دسمبر ، 2020

بھارت میں 'love jihad' قانون کے تحت پہلا مسلمان لڑکا گرفتار

 اترپردیش میں یہ متنازع قانون گذشتہ ماہ نومبر میں ہی منظور ہوا ہے،فوٹو: فائل 

بھارتی ریاست اُترپردیش میں پولیس نے ایک مسلمان لڑکےکو ہندو لڑکی کو شادی کے لیے اسلام قبول کروانے کے الزام میں گرفتار کرلیا ہے۔

 بھارتی میڈیا کے مطابق یہ گرفتاری تبدیلی مذہب کے خلاف نئے متنازع قانون کے تحت ہونے والی پہلی گرفتاری ہے۔ 

تبدیلی مذہب کے خلاف بننے والا یہ قانون دراصل ہندو انتہاپسندوں نے 'Love Jihad' کو روکنے کے لیے بنایا ہے، ' لو جہاد' ہندو انتہاپسندوں کی ایجاد کردہ اصطلاح ہے جن کا کہنا ہے کہ مسلمان لڑکے ایک بین الاقوامی سازش کے تحت ہندو لڑکیوں کو اپنی محبت کے دام میں پھنسا کر ان کا مذہب تبدیل کراتے ہیں اور پھر اُن سے شادی کرلیتے ہیں،ان شادیوں کو ہندو تنظیموں کی جانب سے لو جہاد کا نام دیا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ بھارت کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں یہ متنازع قانون گذشتہ ماہ نومبر میں ہی منظور ہوا ہے جب کہ مزید 4 بھارتی ریاستوں، کرناٹک، مدھیہ پردیش ، ہریانہ اور آسام میں بھی اس حوالے سے قانون سازی جاری ہے، ان تمام ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) برسراقتدار ہے۔

اس متنازع قانون پر بھارت میں کافی تنقید بھی کی گئی ہے  اور ناقدین کے مطابق یہ اسلامو فوبیا کا شکار افراد کے ذہن کی کارستانی ہے۔

اب  اترپردیش کے ضلع بریلی کی پولیس نے اس حوالے سے کی جانے والی گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

لڑکی کے والد نے برطانوی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ  لڑکے کی جانب سے اس کی بیٹی پر مذہب کی تبدیلی کے لیے دباؤ ڈالا جارہا تھا اور اس نے بات نہ ماننے کی صورت میں دھمکیاں بھی دی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق لڑکا اور لڑکی دونوں کے درمیان تعلقات بھی تھے تاہم سال کے آغاز میں گھر والوں نے لڑکی کی شادی کسی اور کے ساتھ کردی تھی۔

 اس حوالے سے پولیس کاکہنا ہےکہ لڑکی کے گھر والوں نے گذشتہ سال بھی اسی لڑکے کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کروایا تھاتاہم لڑکی کی بازیابی اور  اغواکے الزام سے انکار کے بعد مقدمہ ختم کردیا گیا تھا۔

گذشتہ روز گرفتاری کے بعد مسلمان لڑکےکو 14 روز کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، عدالت میں پیشی کے موقع پر لڑکے نے میڈیا کو بتایا کہ وہ بے گناہ ہے اور اس کا لڑکی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

رپورٹ کے مطابق نئے متنازع قانون کے تحت ملزم کو  3 سے 10 سال کی قید اور  15 سے 50 ہزار روپے تک کا جرمانہ ادا کرنا ہوگا اور یہ ایک ناقابل ضمانت جرم بھی ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM