05 جنوری ، 2021
لاہور ہائیکورٹ نے زیادتی کی شکار خواتین کے طبی معائنے کیلئے مخصوص ٹیسٹ غیر قانونی قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے زیادتی کی شکار خواتین کے مخصوص ٹیسٹ کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔
فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ جنسی زیادتی کے مقدمات میں متاثرہ خاتون کے طبی جانچ کے ٹیسٹ کی کوئی فارنزک اہمیت نہیں اور یہ ٹیسٹ خواتین کی عزت نفس کو مجروح کرتا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ طبی جانچ کا ٹیسٹ آئین سے متصادم ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ پنجاب حکومت متاثرہ خواتین کے طبی معائنے کیلئے بین الاقوامی معیار کے پروٹوکول وضع کرے۔
دوران سماعت پنجاب حکومت نے طبی جانچ کا ٹیسٹ ختم کرنے کا نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کیا۔