18 جنوری ، 2021
وزیر اعظم کے مشیر برائے احتساب اور داخلہ شہزاد اکبر کہتے ہیں کہ ماضی کی ڈیلز اور این آر او کا خمیازہ عوام کو بھرنا پڑ رہا ہے، نوازشریف تو 2000ء تک ایون فیلڈ کو اپنی ملکیت مانتے ہی نہیں تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ نیب اور براڈ شیٹ کے درمیان معاہدہ 2000ء میں ہوا، دسمبر 2000 میں نواز شریف ڈیل کر کے سعودیہ چلے گئے تھے۔
شہزاد اکبر کے مطابق ایون فیلڈ کی مد میں براڈ شیٹ کو 1.5 ملین ڈالر دیے گئے، 21.5 ملین ڈالر میں سے 20 ملین ڈالر کی ادائیگی نوازشریف کے دیگر اثاثوں پر ہوئی، براڈ شیٹ کیس کے فیصلے کے مطابق ان کی چوری کا تخمینہ 16 ارب روپے لگایا گیا،فیصلے میں 2007 کے این آر او کا بھی ذکر ہے۔
شہزاد اکبر نے کہا کہ براڈ شیٹ کے وکلا سے تحریری طور پرفیصلے پبلک کرنے کی اجازت لی جو پہلے پبلک نہیں تھی۔