12 مارچ ، 2021
ابھی تھوڑی دیر پہلے اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی نے اپنے بیٹے اور قومی اسمبلی کے رکن مونس الٰہی (جنہیں کسی بھی وقت وفاقی وزیر بنایا جا سکتا ہے )کے ساتھ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ملاقات کی۔اختلافات کی افواہوں کی کرچیاں وزیر اعلیٰ کے آفس کی دہلیز پر بکھر گئیں ۔اپوزیشن کا چہرہ اتر گیا ۔
مولانا فضل الرحمٰن کے دھرنے سے لے کر موجودہ سینیٹ کے انتخابات تک اپوزیشن جب بھی عمران خان کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئی تو اس نے اپنی توپوں کا رُخ عثمان بزدار کی طرف کیا۔ اِدھر سے کچھ نہ بنا ،لاہور فتح نہ ہواتو پھراسلام آباد کو چل پڑی۔
یعنی اپوزیشن لاہور سے اسلام آباد جانے والی موٹر وے ہی کو پیاری ہوچکی ہے۔ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ اگر عثمان بزدار واقعی نالائق ہیں تو اپوزیشن کو توان کی حمایت کرنا چاہئے تھی کہ ان کی وجہ سے عمران خان کو نقصان پہنچ رہا ہے مگر اپوزیشن اس کے برعکس عمران خان سے زیادہ عثمان بزدار کے خلاف ہے کیونکہ اپوزیشن سمجھتی ہے کہ عثمان بزدار اگر پانچ سال پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہ گئے تو پھر پنجاب میں پیپلز پارٹی تو پہلے ہی ختم ہو چکی ہے ، نون لیگ بھی ’مک ‘جائے گی۔
عوام میں شعور کی شمع عمران خان نے فروزاں کی ،نتائج 2018 ءکے عام انتخابات میں نظر بھی آئے مگر بغض کی بیماری اور اندھی محبت کا وائرس ابھی تک کچھ لوگوں میں زندہ ہے۔ اس سیاسی بغض کا سب سے بڑا شکار وزیر اعلیٰ عثمان بزدار ہیں۔ ان کے خلاف بغض کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ جب کسی بھی دفتر میں کسی محنتی اور لائق کھلاڑی کی انٹری ہوتی ہے، اس کو افسر سے شاباش ملتی ہے تو اس دفتر میں کام کرنے والوں کو یہ بات بالکل نہیں بھاتی۔ کیونکہ اس محنتی شخص کی وجہ سے باقیوں کی ناکامی ظاہر ہونے لگتی ہے۔
بس یوں سمجھ لیں کہ عثمان بزدارکے پیچھے بھی چند سیاسی ناکام عاشق اور سیاسی کام چور ملازم لگے ہوئے ہیں۔عثمان بزدار کی کامیابی سے ان سیاسی کام چوروں کی نااہلی ظاہر ہوچکی ہے۔ ویسے تو عثمان بزدار کے سیاسی سفر کو کوئی خطرہ نہیں لیکن ایک عجیب کمیونی کیشن Chaos ضرور پیش آجاتا ہے۔ جس کا مقصد نظام کی بہتری میں خلل ڈالنا ہے۔
صاف ظاہر ہے کہ جنوبی پنجاب میں وزیر اعلیٰ نے ترقیاتی منصوبوں سے تبدیلی کے سفر کا آغاز جو کیا ہے، وہ اس سے پہلے نہ سوچا گیا کیونکہ ماضی میں جنوبی پنجاب کا بجٹ تو لاہور پر لگتا رہا ہے۔ اسی لئے بزدار تو اپنے امتحان میں ٹاپ کرتے نظر آرہے ہیں۔ پنجاب میں آج سے پہلے نہ اتنے اسپتالوں پر کام ہوا اور نہ عوام کی صحت کبھی ماضی کے حکمرانوں کی ترجیح رہی۔ پچھلے ادوار میں تعلیم کے شعبے پر بھی کوئی نظر کرم نہ ڈالی گئی۔ یہ بزدار صاحب ہیں جو ہر ضلع میں کم از کم ایک یونیورسٹی کے قیام کے خواب کو تعبیر دے رہے ہیں۔
گورننس اور انتظامی اعتبار سے جس تباہ حال حکومت کو عثمان بزدارنے سنبھالا اور پھر مشکل فیصلوں سے نظام کو نئی سمت پر ڈالاہے اسے دیکھ کر میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ 2023تک صوبے کو درپیش مسائل حل ہو چکے ہونگے ۔ناقدین کے پاس کوئی سیاسی نعرہ نہیں بچے گا کیونکہ جس تبدیلی کا بیڑا انہوں نے اٹھایا ہے اگر عثمان بزدار وہ مکمل طور پر لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر سیاسی دشمن کس بات پر، کس منشور پر پنجاب میں حکومت قائم کرنے کا خواب دیکھیں گے۔عثمان بزدار کی کامیابی کی ایک اہم وجہ عمران خان کی جانب سے دیا گیا اعتماد اور فری ہینڈ ہے۔
حکومت کے آغاز میں وزیر اعظم نے بزدار صاحب کو اپنا وژن دیا، اس پر چلنے کی ہدایت کی اور پھر ان کو انتظامی اور سیاسی خودمختاری دی۔ وزیر اعلیٰ نے یہی خودمختاری اپنے وزراء کو دی اور اپنی کابینہ کے علاوہ بیوروکریسی اور پولیس کو بھی خودمختار بنایا۔ اس وقت مختلف شعبوں میں تعینات سیکرٹریز اور ضلعوں میں تعینات ڈپٹی کمشنرز مکمل طور پر بااختیار ہیں، وہ وقت چلا گیا جب ان لوگوں کو عوام کی بجائے سابق وزیر اعلیٰ کی خوشنودی کیلئے کام کرنا پڑتا تھا۔
پہلی بارسرکاری ملازم تک عوام کی رسائی ممکن ہوئی ہےورنہ سیکرٹری تو دور کی بات، سیکشن آفیسر بھی خود کو فرعون سمجھتے تھے۔ پہلی بار ہوا ہے کہ بڑے سے بڑے انتظامی افسر کی کارکردگی کو جانچا جارہا ہے۔ سب کو کام کرنا پڑ رہا ہے ۔ ماضی میں سرکاری دفاتر میں اپنی سیٹ پکی کرنے کیلئے حکمرانوں کے ہاتھ پر بیعت کرنا لازم تھا، اب ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ اب کسی افسر کی جانب سے کام میں کوتاہی ہو تو اس کا حساب ہوتا ہے۔
جب بھی وزیر اعلیٰ کی تبدیلی کی جھوٹی خبر میڈیا پر پھیلائی جاتی ہے تو سب یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ پنجاب میں اتنے آئی جی اور اتنے چیف سیکرٹری تبدیل ہوئے وغیرہ وغیرہ مگر سوال یہ ہے کہ تبدیل ہوئے کیوں ؟ ہر بڑے عہدے کو انتظامی بہتری کیلئے بڑا ٹاسک سونپا جاتا ہے، جو آئی جیز یا چیف سیکرٹریز رہے، ان کو بھی کچھ ٹاسک دیے گئے۔ جہاں حکومت کو لگا کہ بہتری کی گنجائش ہے وہاں تبدیلی عمل میں لائی گئی، کسی کی تذلیل نہیں کی گئی، سندھ کی طرح سیاستدان اور پولیس کے درمیان ادارہ جاتی خودمختاری پر بحث نہیں ہوئی، بڑے مہذب طریقے سے تبدیلیاں ہوئیں، سسٹم کو بہتر بنایا گیا اور انتظامیہ کی خودمختاری پر آنچ نہیں آئی۔
پنجاب میں جو مہذب سیاست اور مہذب گورننس کی روایت پڑ چکی ہے اس کی وجہ سے اب اس صوبے میں ون مین شو اور سیاسی غلامی کی گنجائش باقی نہیں بچتی۔ یہ وہ اہم تبدیلیاں ہیں جن کے آنے سے چند لوگوں میں عثمان بزدار سے بغض بڑھ رہا ہے۔ بہرحال یہ طے ہے کہ عثمان بزدار کچھ تو ایسا اچھا کر رہے ہیں جو ان کو نہیں بھا رہا۔ میں انہیں اتنا ہی کہوں گا کہ جب مخالفین کی جانب سے آپ اپنے خلاف مہم جوئی ہوتی دیکھیں تو گھبرانے کی بجائے یہ سوچیں کہ آپ کے صحیح فیصلوں سے غلط لوگ ہی تلملائیں گے۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔