Can't connect right now! retry

بلاگ
06 اپریل ، 2021

افریقی ملکوں کی کہانی

فائل فوٹو

سامراجی قوتوں نے جان بوجھ کر اقوامِ متحدہ کے دفاتر جنیوا اور نیویارک میں قائم کئے۔ پوری دنیا پر رابطے کے لئے اپنی زبان انگریزی مسلط کر دی حالانکہ انگریزی دنیا کی بڑی زبان نہیں ہے۔ چونکہ ہم افریقی ملکوں کے حوالے سے بات کر رہے ہیں، اس لئے بات کا رخ براعظم افریقہ کی طرف موڑتے ہیں۔ 

براعظم افریقہ کے پانچ ریجن ہیں اور چھٹا افریقہ کا سینگ ہے۔ ان پانچ ریجنوں میں وسطی، مغربی، مشرقی، شمالی اور جنوبی افریقہ شامل ہیں، چھٹا افریقہ کا سینگ ہے۔ افریقہ کا سینگ چار ممالک پر مشتمل ہے۔ جبوتی، صومالیہ، ایری ٹیریا اور ایتھوپیا اس کا حصہ ہیں۔ یہ چاروں ممالک مسلمان ہیں۔ 

ان ملکوں میں مسلمان اکثریت تو ہے مگر ان میں سے کم از کم دو ملکوں یعنی ایری ٹیریا اور ایتھوپیا کے اقتدار پر غیر مسلم قابض ہیں، ایتھوپیا میں مسلمان وزیر اعظم بنا تھا مگر اس نے غیر ملکی آقائوں کو خوش کرنے کےلئے مسلمانوں ہی کے خلاف کام کیا۔ دس صوبوں پر مشتمل ایتھوپیا کی گیارہ کروڑ آبادی میں سے دو کروڑ تو ارمارا قوم ہے۔ ارمارا لوگوں کی اکثریت مسلمان ہے۔ افریقہ کے سینگ کا اہم ملک جبوتی ہے۔ سمندروں کی دنیا کو چھوتا ہوا جبوتی اس لئے اہم ہے کہ اس کی بندرگاہ انتہائی اہم مقام پر ہے۔ یہ بندر گاہ اب چین لے چکا ہے، جبوتی کے آس پاس دنیا کی بڑی طاقتوں کے اڈے ہیں۔

افریقی ملکوں کی اکثریت پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں آزاد ہوئی۔ کہنے کو تو یہ آزاد ملک ہیں مگر ان کی آزادی برائے نام ہے کیونکہ وہاں اب بھی غلامی کے اثرات نہ صرف جاگتے ہیں بلکہ بولتے بھی ہیں۔ان آزاد افریقی ملکوں پر اب بھی غیر ملکی اثرات ہیں جو جس کی کالونی تھا وہاں کی سرکاری زبان اسی کی بن گئی۔ آپ کو افریقہ میں سرکاری سطح پر افریقی زبانیں نہیں ملیں گی بلکہ وہاں کہیں انگریزی ملے گی تو کہیں فرنچ اور کہیں سرکاری زبان اسپینش نظر آئے گی۔ دراصل آقائوں نے زیر قبضہ ملکوں کو کچھ اس انداز سے تقسیم کیا کہ قبائل آپس میں بٹ گئے، زبانیں تقسیم ہوگئیں۔ 

مثال کے طورپر نائیجریا کو لے لیجئے جہاں مقامی زبانیں تو دو سو پچاس ہیں مگر وہ لوگ کسی ایک پر بھی متفق نہیں، اس لئے وہاں سرکاری زبان انگریزی ہے۔ غیر ملکی آقائوں کی کالونیاں رہنے والے ان ملکوں میں اب بھی اسٹیبلشمنٹ پرانے آقائوں سے رہنمائی حاصل کرتی ہے، سو آزاد ہو کر بھی افریقی ملکوں میں غلامی کی زنجیریں صاف نظر آتی ہیں ۔ پورے براعظم افریقہ میں سب سے امیر ترین خطہ شمالی افریقہ کا ہے۔

شمالی افریقہ کا پورا بلاک مسلمان ملکوں پر مشتمل ہے۔ ان ملکوں میں مصر، لیبیا، تیونس، سوڈان، مراکش اور الجزائر شامل ہیں۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ یورپی ملکوں کو فتح کرنے والے فاتحین طارق بن زیاد اور موسیٰ بن نصیر کا تعلق شمالی افریقہ کے ملکوں لیبیا اور تیونس سے تھا۔ قدرت نے اس پورے خطے کو قدرتی وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے۔ 

شمالی افریقہ کے بعد مشرقی افریقہ کا تذکرہ ہو جائے کیونکہ وسائل کے اعتبار سے اسی کا نمبر آتا ہے۔ افریقہ کے اس بلاک میں مسلم اور غیر مسلم ملک ہیں۔ ان ممالک میں کینیا، تنزانیہ، یوگنڈا، روانڈا، برونڈی اور جنوبی سوڈان شامل ہیں۔ اس ریجن میں جہاں مسلم اکثریت بھی ہے وہاں اقتدار پر غیر مسلم قابض ہیں۔ یہاں مافیاز نے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ایسی بساط بچھائی کہ اقتدار پر غیر مسلم ہی مسلط رہیں۔ 

اس کے بعد مغربی افریقہ پر ایک نگاہ ڈالتے ہیں معدنیات سے بھرے ہوئے مغربی افریقہ میں مسلمان ملکوں کی اکثریت ہے۔ یہاں کا امیر ترین ملک نائیجریا ہے جہاں 55فیصد سے زائد مسلمان آباد ہیں، ساتھ ہی جڑے ہوئے نائیجر میں 99 فیصد مسلمان ہیں۔ اسی طرح برکینافاسو، آئیوری کوسٹ، گیمبیا، جمہوریہ گنی، گنی بسائو، مالی، موریتانیہ، سینی گال اور سیرالیون میں مسلم اکثریت ہے۔ اس ریجن میں دوسرے ممالک بنین، لائبیریا، ٹوگو اور گھانا ہیں۔ اس خطے میں بدقسمتی سے اکثریت کے باوجود اقتدار مسلمانوں کے پاس کئی ممالک میں نہیں۔ 38 کروڑ آبادی پر مشتمل مغربی افریقہ میں بے شمار قدرتی وسائل ہیں مگر یہاں غربت دور دور تک نظر آتی ہے۔ غربت کی بستیاں بچھانے میں یہاں کی کرپٹ اشرافیہ کا مرکزی کردار ہے۔

جنوبی افریقہ کے خطے میں صرف جنوبی افریقہ نامی ملک میں ترقی نظر آتی ہے باقی ملکوں زمبیا، زمبابوے، موزمبیق، سوازی لینڈ، بوٹسوانا، لیسوتھو، ملاوی، جزائر قمر، ماریشس، سیشلس اور نمیبیا میں ہر طرف غربت کی آوارگی ہے۔ معدنیات کی اس خطے میں بھی کمی نہیں مگر رہنمائی کی کمی تو ہے، یہاں بھی بدعنوانی کا دور دورہ ہے۔ وسطی افریقہ کا بلاک سب سے غریب ممالک پر مشتمل ہے۔ 

اس میں چاڈ، کیمرون، ڈیموکریٹک کانگو اور ری پبلک آف کانگو، وسطی افریقی جمہوریہ، استوائی گنی، گیبون، انگولا اور سائو ٹوم و پرنسیپ شامل ہیں۔ رقبے کے لحاظ سے افریقہ دوسرا بڑا براعظم ہے اس کے شمال میں بحیرہ روم، مشرق میں بحرہند اور مغرب میں بحراقیانوس ہے۔ افریقہ کے اکثر ملکوں میں وہاں کی علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں اگرچہ سرکاری زبانیں بیرونی آقائوں کی ہیں۔

براعظم افریقہ کے سب سے بڑے شہر مصر کا دارالحکومت قاہرہ ہے۔ مشرقی افریقہ میں بجیبورا، مورونی، جبوتی، اسمارا، عدیس ابابا، نیروبی، ماموزو، کیگالی، دارالسلام، موغا دیشو، ڈوڈوما، لوساکا اور ہارے جیسے شہر مشہور ہیں جبکہ مغربی افریقہ میں اوگا دوگو، یاما سوکرو، لاگوس، بانجل، کونا کری، آبدجان، بسائو، بماکو، ابادان، نواکشوت، کانو، نیامی، ابوجا، جیمز ٹائون، لوم اور ڈاکار مشہور ہیں۔ جنوبی افریقہ میں جوہانسبرگ، گیبرون، کیپ ٹائون اور ایم بابانے کی بڑی شہرت ہے۔ شمالی افریقہ میں سکندریہ، الجزیرہ، طرابلس، قاہرہ، رباط، خرطوم، تیونس، دارالبیضا یا کاسابلانکا مشہور ہیں۔ وسطی افریقہ میں لوانڈا، بانگوئی، این جامینا، کنشاسا، مالابو اور سائوٹوم شہرت رکھتے ہیں۔ جنگلوں، صحرائوں اور معدنیات سے بھرے ہوئے افریقہ سے متعلق ابھی بہت کچھ باقی ہے۔ فی الحال اس کورونائی موسم میں ایمان قیصرانی کا شعر پیش خدمت ہے ؎

دل تو پہلے ہی جدا تھے یہاں بستی والو

کیا قیامت ہے کہ اب ہاتھ ملانے سے گئے

(جاری ہے) 


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM