23 اپریل ، 2021
پاکستان میں بیساکھی میلے کیلئے 10 دن گزار کر واپس بھارت جانے والے سکھ یاتریوں کو اپنے دیس میں پردیسیوں والے سلوک کا سامنا کرنا پڑ گیا۔
پاکستان میں بیساکھی میلے میں شرکت کے بعد 800 سے زائد سکھ یاتری واہگہ بارڈر کے راستے بھارت پہنچے تو ان کا کورنا ٹیسٹ لیا گيا۔
بھارتی پنجاب کے چیف سرجن نے 650 میں سے 200 سکھ یاتریوں کو کورونا پازیٹو قرار دے دیا لیکن جب رپورٹ طلب کی گئی تو چیف سرجن نے کہاکہ سکھ یاتریوں نے وہ رپورٹ پھاڑ دی ہے اور ریکارڈ بھی ضائع کردیا ، مشکوک بیان پر بھارتی حکومت نے بھی مزید انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔
ادھر صدر پنجاب سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی بی بی جاگیر کور نے بھی کورونا رپورٹ کو مشکوک قرار دیا اور کہا کہ جن یاتریوں کے ٹیسٹ مثبت آئے انہیں دیگر یاتریوں کے ساتھ ایک ہی بس میں کیوں بھیجا گیا؟
پاکستان متروکہ وقف املاک بورڈ کے سربراہ عامر احمد نے کہا ہے کہ کورونا ایس او پی کے تحت پاکستان آتے وقت ان تمام سکھ یاتریوں کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے ، ان کے ہمراہ میڈيکل ٹیمیں رہیں ، 200 سے زائد لوگوں کے کورونا میں مبتلا ہونے کی بات ٹھیک نظر نہيں آتی ، اگر 200 لوگوں کو 10 روز میں کورونا تھا تو کسی نہ کسی مرحلے پر معلوم ہوجاتا ، یاتریوں کی واپسی کے لیے کورونا ٹیسٹ کی شرط نہیں تھی۔