Can't connect right now! retry

ڈیوڈ ملرکس پاکستانی فاسٹ بولر سے متاثر ہیں ؟

فوٹو: فائل

جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کے مڈل آرڈر بیٹسمین اور پشاور زلمی کےکھلاڑی ڈیوڈ ملرکا کہنا ہےکہ انہوں نےکیریئر میں اب تک جتنے بھی فاسٹ بولرز کا سامنا کیا ہے، پاکستانی فاسٹ بولر وہاب ریاض ان میں سے ایک ہیں۔

پیر کو آن لائن پریس کانفرنس میں پاکستان سپرلیگ کی ٹیم پشاور زلمی کے کھلاڑی نے کہا کہ وہ پی ایس ایل 6 کے بقیہ میچز میں محدود وقت کیلیے ہیں، زلمی کے ساتھ جتنی بھی دیر رہیں گے ان کی کوشش ہوگی کی ٹیم کیلیے موثر کردار ادا کریں۔

پشاور زلمی کے کپتان اور پاکستان ٹیم کے فاسٹ بولر وہاب ریاض کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نےاپنے کیریئر میں کئی مرتبہ وہاب ریاض کا سامنا کیا ہے، وہاب تیز ترین بولرز میں سے ایک اور مقابلہ کرنے والا پلیئر ہے، وہ وہاب ریاض کی قیادت میں کھیلنے پر کافی خوش ہیں،بطور کپتان وہاب ریاض کافی پرجوش رہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ فیلڈ میں ہر کھلاڑی اپنا بھرپور کھیل پیش کرے۔

ڈیوڈ ملر نے کہا کہ وہ یہاں کم وقت کیلیے ہیں، ٹیم کے ساتھ دو میچز کھیلیں گے اور کوشش کریں گے کہ اس دوران اپنی ٹیم کیلیے موثر کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے کھیل کی حکمت عملی ٹیم کی پوزیشن کے حساب سے ہوگی، وہ مڈل آرڈر بیٹسمین ہیں، کبھی تیسرے اوور میں بھی بیٹنگ آسکتی ہے اور کبھی پندرہویں اوور میں بھی، صورتحال کے مطابق اپنا کھیل کھیلیں گے۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات کی کنڈیشن میں اسپنر ز کا کردار اہم ہوگا، ملر کا کہنا تھا کہ ٹی ٹوئنٹی میں اسپنرز ویسے بھی مؤثر ہوتے ہیں، ان کو رنز پڑتے ہیں لیکن وہ وکٹیں بھی حاصل کرتے ہیں اس لیے اسپنرز کے کردار کو اہم رکھنا ہوگا، اگلے دو ہفتے میں اسپنرز کا کافی عمل رہے گا اور کنڈیشن دیکھ کر بیٹنگ کرنا ہوگی۔

ایک سوال پر جنوبی افریقا کے تجربہ کار کرکٹر نے کہا کہ اب تک پاکستانی بولرز کو جتنا کھیلا ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ یہ ضرور کہیں گے کہ پاکستان میں فاسٹ بولنگ کے ٹیلنٹ کی کمی نہیں، اس ملک نے کئی ٹیلنٹڈ فاسٹ بولرز دیے ہیں، پاکستان کے پاس تیز رفتار بولرز کا ذخیرہ ہے جو اس ملک کے کرکٹ ماحول کے صحتمند ہونے کا عکاس ہے۔

انہوں نے فاف ڈو پلیسی کے بیان سے اتفاق کیا اور کہا کہ ٹی ٹوئنٹی لیگز دنیا بھر میں کافی مضبوط ہوچکی ہے اور انٹرنیشنل سرکٹ کی وجہ سے لیگز کا کلینڈر بھی متاثر ہورہا ہے، امید ہے آئندہ دو سال میں کوئی ایسا راستہ نکلے گا کہ انٹرنیشنل کرکٹ بھی جاری رہے گی اور ٹی ٹوئنٹی لیگز کا سلسلہ بھی چلتا رہے گا، ڈیوڈ ملر کے مطابق وہ ذاتی طور پر مختلف لیگز میں کھلینے کا کافی شوق رکھنے ہیں کیوں کہ ان لیگز میں شرکت کرکے انہیں دنیا بھر کے کرکٹرز سے ملنے اور مختلف جگہوں کی ثقافت جاننے کا موقع ملتا ہے۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM