Can't connect right now! retry

بلاگ
02 جولائی ، 2021

عمران خان دل جیت رہے ہیں

چند روز قبل پنجاب اسمبلی میں میاں اسلم اقبال نے بڑی دھواں دھار تقریر کی، جارحانہ انداز میں اپوزیشن کی ’’چھترول‘‘ کی۔ میاں اسلم اقبال لاہور میں پی ٹی آئی کے مقبول ترین رہنما ہیں۔طویل عرصے سے پی ٹی آئی کے ساتھ ہیں۔ یہ ن لیگ سے اس موسم میںبھی نہیں ہارے تھے جب ن لیگ نے لاہور فتح کیا تھا۔ اسلم اقبال عام طور پر نرم لہجے میں گفتگو کرتے ہیں۔ انہوں نے تقریر میں اپوزیشن کو چاروں شانے چت کیا، ان کے لیڈر عمران خان نے تو کمال ہی کردیا۔ عمران خان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ نرم لہجے میں بات کرنے کے قائل ہی نہیں۔ 

طویل ترین دوستی کے باعث عمران خان سے متعلق صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ ہر طرح کے حالات میں، جبر کے موسم کی پروا کئے بغیر آخری وقت تک لڑتا ہے، لڑائی میں کسی کی پروا نہیں کرتا، اس کی نظریں صرف خدا پر ہوتی ہیں، وہ آخری لمحات تک ﷲ تعالیٰ سے کامیابی کی امید باندھے رکھتا ہے۔

یہ 2018کے الیکشن سے مہینہ ڈیڑھ پہلے کی بات ہے عمران خان سے اسد عمر کےمتعلق بات ہوئی تو میں نے ان سے کہا کہ اسد عمر کو وزیر خزانہ نہ بنانا، کہنے لگے ’’کیوں؟‘‘میں نے ایک بڑے ہوٹل میں ہونے والی تقریب کا حوالہ دیا اور پھر کہا کہ اسد عمر وزارت خزانہ نہیں چلا سکیں گے کیونکہ انہیں معیشت سے متعلق زیادہ پتہ نہیں۔ عمران خان بولے’’کیا کروں، میں نے تو وعدہ کر رکھا ہے بلکہ میں تو اعلان کر چکا ہوں کہ میرا وزیر خزانہ اسد عمر ہوگا، اس حوالے سے کئی مرتبہ ذکر کر چکا ہوں‘‘ میں نے کہا کہ بس میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا۔ اس پر عمران خان کہنے لگے ’’مجھے پتہ ہے کہ آپ بہت کم باتیں کرتے ہیں، بہت سوچ سمجھ کر رائے دیتے ہیں مگر میں وعدہ کر چکا ہوں‘‘۔

خان صاحب نے وعدہ پورا کیا، اسد عمر کو وزیر خزانہ بنا دیا، میں نے جنگ کےصفحات پر اس فیصلے کے خلاف لکھنا شروع کیا، پھر جب وزیر اعظم کو عالمی مالیاتی ادا روں نے بتایا تو وہ حیران ہوئے اور پھر ایک دن ایسا آیا کہ کچھ لوگوں نے وزیر اعظم کو ملکی معاشی صورتحال کا حقیقی عکس دکھایا تو انہیں اپنا فیصلہ بدلتے ہوئے اسد عمر کو ہٹانا پڑا۔ وزیراعظم کو آئی ایم ایف سے خود مذاکرات کرنا پڑے۔ اس کے بعد معاشی ٹیم بدل دی گئی اور کام چل پڑا۔ اب اسد عمرپلاننگ کےوزیر ہیں، یہ وزارت ان کے لئے بالکل درست ہے، وہ این سی او سی کےچیئرمین ہیں، ان کی حکمتِ عملی سے پاکستان دنیا کے پانچ بہترین ملکوں میں شامل ہوگیا ہے، ایسے ملک جنہوں نے کورونائی موسم میں شاندار کارکردگی دکھائی۔ آج عالمی ادارے کہہ رہے ہیں کہ پاکستان سے سیکھو کہ کس طرح کورونا جیسی وبا کا سامنا کرنا چاہئے۔

چند ماہ پیشتر ایک ملاقات میں وزیر اعظم کہنے لگے ’’آپ کی اسد عمر سے متعلق رائے درست تھی، وہ چند مہینوں کی مسافت بڑی مہنگی پڑی، ہمیں پہلے دن ہی آئی ایم ایف کے پاس چلے جانا چاہئے تھا، خیر اب ہماری معیشت درست سمت میں جارہی ہے، تھوڑا سا مشکل سفرہے، یہ سفر بھی ختم ہو جائے گا‘‘۔

عمران خان کی معاشی ٹیم نے جو حالیہ بجٹ پیش کیا، وہ موجودہ صورت حال میں شاندار بجٹ ہے، اسی لئے اپوزیشن منہ تکتے رہ گئی ہے۔ اپوزیشن کے سارے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے، بجٹ منظور بھی ہوگیا اوراپوزیشن پہلے سے زیادہ تقسیم ہو گئی۔ عمران خان موجودہ صورت حال میں خوش ہیں کہ ایک طرف اپوزیشن تقسیم در تقسیم کا شکار ہے تو دوسری طرف ان کی معاشی ٹیم نے شاندار بجٹ پیش کیا ہے۔ اگرچہ اپوزیشن نے ایوان کا ماحول خراب کرنے کی بھرپور کوشش کی مگر وہاں حماد اظہر جیسے نرم لہجے میں کھری سنانے والے بھی موجود ہیں۔ 

فواد چودھری جیسا تیکھا سیاست دان اطلاعات کا وزیر، شاہ محمود قریشی تجربہ کار وزیر خارجہ اور کئی وزارتوں کا تجربہ رکھنے والا شیخ رشید وزیر داخلہ ہے۔ ایوان کے خراب ہوتے ہوئے ماحول کو بہتربنانے اور بجٹ کی منظوری کے لئے حاضری کو بھر پور بنانے میں سب سے بڑا کردار ملک عامر ڈوگر کا ہے۔ ملتان کا عامر ڈوگر پورے اعتماد کے ساتھ وزیر اعظم کو ایوان میں لاتا ہے، وزیراعظم نے دو دن لگاتار دو تقریروں کے ذریعے نہ صرف اپوزیشن کی زبان پر قفل لگا دیئے بلکہ پاکستانیوں کے دل بھی جیت لئے۔

عمران خان نے جنرل اسمبلی میں یادگار تقریر کی تھی، اس تقریر کو دنیا بھر کے مسلمانوں نے پسند کیا تھا، اس تقریر نے اسلام دشمن قوتوں کو خاصا پریشان کیا تھا، اب بدھ کے روز انہوں نے جو تقریر قومی اسمبلی میں کی ہے اس نے پاکستانیوں کو خوش کر دیا ہے۔ عمران خان پاکستان کے لوگوں کے دلوں کی آواز بن کر بولے۔ 

انہوں نے ڈورن حملوں کی حقیقت سے پردہ اٹھایا اور کہا کہ کیا ہم برطانیہ پر ڈورن گرا سکتے ۜہیں وہاں تیس برس سے ہمارا ایک دہشت گرد بیٹھا ہے، صاف صاف بتادیا کہ جنگ میں امریکا کا ساتھ نہیں دیں گے، امن کے لئے حاضرہیں۔ جب تک بھارت کشمیر سے متعلق 5 اگست کے اقدامات واپس نہیںلیتا، مذاکرات نہیں ہوسکتے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وزیر اعظم کی حالیہ تقریروں نے لوگوں کے دل جیت لئے ہیں مگر یاد رکھیے کہ لندن ٹھگوں کی جنت ہے۔ وزیراعظم کی امریکہ سے متعلق تقریروں پر سلیم شہزاد کا شعر یاد آتا ہے کہ :

یہ معجزہ تجھے پھر لوگ کم دکھائیں گے

ترے بغیر تجھے جی کے ہم دکھائیں گے

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM