Can't connect right now! retry

بلاگ
05 جولائی ، 2021

عورت کا حق کھانے والا معاشرہ

میں نے بڑے اچھے اچھے لوگ دیکھے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور عمومی طور پر اچھے مسلمان جانے جاتے ہیں لیکن وہ بہنوں، بیٹیوں سمیت دوسری خواتین کو وراثت میں اُن کا حق نہیں دیتے، جس کا اسلام سختی سے حکم دیتا ہے۔ 

کئی تو ایسے ہیں جو اپنی زندگی میں ہی اپنی جائیداد اور مال و دولت کو اپنے بیٹوں کے نام منتقل کر جاتے ہیں‘ اس ڈر سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے مرنے کے بعد اُن کا مال و دولت بیٹیوں کے ذریعے دوسروں کے پاس نہ چلا جائے۔

 اگر کسی نے ایسا نہ کیا اور اس نیت سے بھی اپنا مال چھوڑ دیا کہ مرنے کے بعد اسلامی طریقہ اور قانون کے مطابق تمام وارث اپنی اپنی وراثت کا حصہ حاصل کر لیں گے لیکن اگر مرنے والے کے بیٹے بیٹیاں ہیں تو بیٹا ایک ہو یا زیادہ اکثر کیسوں میں تمام جائیداد کو اپنے قبضہ میں لے کر بیٹھ جاتے ہیں۔

 بہنوں کو جذباتی طور پر بلیک میل کر کے، بہلا پھسلا کر یا زبردستی جائیداد اپنے نام کروا لیتے ہیں اور بہنوں سے قربانی کا تقاضہ کرتے ہیں۔ اگر کوئی بہن نہ مانے اور اپنے حصے کا تقاضہ کرے تو اُس سے ناراض ہو جاتے ہیں اور اگر کوئی بہن اپنا حصہ لینے کے لیے قانونی کارروائی کرتی ہے تو اُسے باغی تصور کیا جاتا ہے۔

 ہمارے معاشرے کی اکثریت یہ بات کرتی نظر آئے گی اور اسے justify بھی کرے گی کہ بہنوں نے بھائی یا بھائیوں کو اپنا حصہ معاف کر دیا۔ یہ سب بلیک میلنگ کا نتیجہ ہے، یہ سب اُس مائنڈ سیٹ کا شاخسانہ ہے جس کا اسلام اور اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں۔ 

کوئی پوچھے کتنے بھائی اپنی بہنوں کو اپنا حصہ معاف کر کے وراثت سے دست بردار ہو جاتے ہیں۔ نمازیں پڑھتے رہے، روزے رکھتے رہے، حج اور زکوٰۃ کے فرائض بھی پورا کرتے رہے‘ یہ بھی کہتے سنتے رہے کہ یوم آخرت میں اپنے اعمال کا سخت حساب دینا ہے، جانتے بوجھتے بھی کہ مال اور اولاد کیسے فتنہ بن جاتے ہیں‘ ہم عمومی طور پر وہی کرتے ہیں جو اسلام کے حکم کے برعکس ہے۔ 

بیٹیوں اور بہنوں کو ایسے مت دیں کہ جیسے ان پر کوئی احسان کیا جا رہا ہے۔ اُن کا وراثت میں اپنے تناسب کے لحاظ سے اُسی طرح حق ہے جس طرح بیٹے باپ کے مال پر اپنا حق جتاتے ہیں۔ یہاں یہ بھی دیکھی گئی ہے کہ بہنوں اور بیٹیوں کے شوہر اور سسرال والوں کی بھی ایسے مال پر نظر ہوتی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ اُن کی بیوی، بہو کو وراثت میں حصہ ملے۔ 

تاہم، یہی شوہر اور یہی سسرال والے اپنی بہنوں بیٹیوں کو ترساتے اور بلیک میل کرتے ہیں اور اپنے حق سے دستبرداری کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں جس کا اُن کی بیوی، بہو کو سامنا ہوتا ہے۔ یہ پیسہ بیٹی اور بیوی کا ہے۔ اس پیسے پر شوہر یا سسرال والوں کی نظر نہیں ہونی چاہیے۔ یہ بہنوں بیٹیوں کا حق ہے کہ وہ کس طرح اپنے پیسے کو استعمال کریں اور اگر اُن کے شوہر واقعی کسی مالی مشکل میں نہ ہوں تو میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ جن بیٹیوں بہنوں کو اپنے والدین کی وراثت میں سے جو مال و دولت ملتی ہے وہ اُسے اپنے ہاتھ میں رکھیں، اُس کا استعمال ایسے کریں کہ اُن کی اپنی مالی ضرورتیں پوری ہوں اور اُنہیں کسی دوسرے کی طرف نہ دیکھنا پڑے۔ 

یہاں یہ بنیادی بات ہے کہ بیوی ہو، بیٹی یاماں اُن کی ہر جائز ضرورت کو پورا کرنا مرد کی ذمہ داری ہے۔ یہاں ایسے بھی مرد دیکھے گئے ہیں جو عورت کو وراثت میں حصہ ملتے ہی اُس کے مال کو اپنے قبضہ میں لے کر عیاشیوں میں اُڑا دیتے ہیں یا بیوی سے پوچھے بغیر اپنی مرضی سے اُس مال کے مالک بن کر اسے خرچ کر دیتے ہیں۔

 ایسے کئی کیس سامنے آئے کہ شوہر بیوی کے بیچ طلاق ہو گئی اور یوں خاتون کا جو پیسہ تھا وہ مرد کے ہی قبضہ میں رہا۔ ہمارا قانون تو وہی کہتا ہے جو اسلام کی تعلیمات ہیں یعنی وراثت کی تقسیم شرعی احکامات کے مطابق ہو گی لیکن یہاں المیہ یہ ہے کہ معاشرہ کے مرد کی طرح ہمارے نظام کا مائنڈ سیٹ بھی ایسا ہے کہ عورت اگر وراثت میں اپنا حصہ مانگے تو اُس کے لیے اتنی مشکلات پیدا کر دی جاتی ہیں کہ خدا کی پناہ، یعنی کورٹ کچہری اور محکمہ مال کے دفتروں میں اُسے اتنا خوار کر دو کہ کوئی عورت وراثت میں اپنا حصہ لینے کا سوچنا بھی چھوڑ دے۔ 

پنجاب حکومت نے قانون بھی بنایا، ضلعی لیول پر کمیٹیاں بھی بنائیں اور یہ بھی وضع کیا کہ عورت کو وراثت کا حق اور اُس کے حق کے مطابق تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور اگر محکمہ مال کا افسر دو ماہ کے اندر ایسا نہیں کرے گا تو اُس کے خلاف کارروائی ہو گی لیکن عملاً ایسا کچھ نہیں ہو رہا جس کا تمام تر نقصان عورت کو ہو رہا ہے، اُسے وراثت میں اُس حق سے محروم کیا جا رہا ہے جس کا حکم اسلام دیتا ہے۔ اس بارے میں میڈیا خاموش ہے، حکومتیں اور ریاست بے سدھ ہے، حقوق نسواں والوں کو اس سے ملنا کچھ نہیں اس لیے این جی اوز کی بھی اس طرف کوئی توجہ نہیں۔

 ان حالات میں وہ لوگ مبارکباد کے مستحق ہیں جو بہنوں بیٹیوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق وراثت میں ان کا حصہ دیتے ہیں اور اپنے بیٹوں بیٹیوں کو اپنی زندگی میں تعلیم دیتے ہیں‘ اُن کی ذہن سازی کرتے ہیں کہ اُن کے مرنے کے بعد اُن کے مال میں سب کا حق ویسا ہی ہے جس کا فیصلہ اسلام نے کر دیا اور اس پر کسی کا کسی پر کوئی احسان نہیں نہ کسی کو یہ حق حاصل ہے کہ کسی بھی بہانے کسی دوسرے کا حق کھا لے یا اُسے معاف کر وا لے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM