Can't connect right now! retry

بلاگ
20 جولائی ، 2021

آزاد کشمیر کا میدانِ سیاست

یہ بہت عجیب بات ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما ان علاقوں کا رخ کرتے ہیں جہاں الیکشن کا ڈول ڈالا جائے۔ عام حالات میں لیڈران ایسے علاقوں کا رخ نہیں کرتے بلکہ ان کی پروازیں مغربی ملکوں کی طرف ہوتی ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں حکمران طبقہ جونہی پسماندہ علاقوں کا رخ کرتا ہے تو لوگ محض دید کے لئے دیوانہ وار چلے آتے ہیں۔ یہ ٹرینڈ ہمارے بڑے شہروں میں نہیں رہا، اسی لئے کسی بھی جماعت کا جلسہ لاہور یا پنڈی میں ہو تو دوسرے علاقوں سے لوگ لا کر جلسہ گاہ کوبھرا جاتا ہے۔ جس شہر میں جلسہ ہو رہا ہو وہاں کے رہنے والے کم تعداد میں شریک ہوتے ہیں۔ بڑے شہروں میں جلسوں کا اب رواج نہیں رہابلکہ میڈیا اورسوشل میڈیا سے کام چلایا جاتا ہے۔

آج کل جلسوں کے حوالے سے آزاد کشمیر کی قسمت جاگی ہوئی ہے۔ ابتدا میں بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کے علاوہ چند وفاقی وزراء نے جلسوں کا آغاز کیا، بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز کو میڈیا نے خواب کوریج دی، سوشل میڈیا پر بھی دعوئوں کے محلات تعمیر کئے گئے۔ بلاول بھٹو زرداری کچھ ہی دنوں بعد امریکہ روانہ ہوگئے تو پارٹی کی انتخابی مہم پھیکی پڑ گئی پھر آصفہ بھٹو زرداری کو میدان میں اتارا گیا۔ مریم نواز واحدسیاسی رہنما ہیں جنہوں نےبھرپور مہم چلائی ان کی انتخابی مہم رکی نہیں وہ ہر حلقے میں گئیں۔ انہوں نے خود کو کرائوڈ پلر ثابت کیا۔ 

بصد افسوس انہوں نے اداروں پر تنقید جاری رکھی، ان کی تقریروں کے کچھ کلپس مقبوضہ کشمیر میں مودی کی ظالمانہ حکومت نے سرکاری طور پر چلائے، چند کلپس بلاول بھٹو زرداری کے بھی۔ اسی طرح ایک وفاقی وزیر کےکلپس کابھی چرچا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے پچھلے تین دنوں سے آزاد کشمیر کا رخ کیا ان کی تقریروں کا زیادہ حصہ ایک عالمی رہنما کے طور پر عالمی اور علاقائی مسائل پر مشتمل رہا، وہ ریاست مدینہ کی باتیں، چینی ماڈل کی تعریف اور اسلامی اکابرین کے اقوال بھی سناتے رہے۔ 

غربت سے نکلنے کا فلسفہ بیان کرتے رہے، ایک بات قابل غور ہے کہ عمران خان نے پیپلز پارٹی پر تنقید نہیں کی، انہوں نے ن لیگ کو ہدف تنقید بنایا۔ عمران خان کے جلسوں نے پی ٹی آئی کی بے جان انتخابی مہم میں جان ڈالی، عمران خان کو ایک فن بخوبی آتا ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں گھر کرلینے والی باتیں بہت عمدگی سے ادا کرلیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی کشمیر سے وابستہ یادوں کو تازہ کرکے مہم چلاتی رہی۔

اس الیکشن میں کہنے کو تو 26 مختلف پارٹیاں حصہ لے رہی ہیں مگر میڈیا کے ذریعے لوگوں کو صرف تین پارٹیوں کا ہی پتہ چل رہا ہے۔ میڈیا کے اس طرز عمل کوبھی سوالیہ نگاہوں سے دیکھا جا رہا ہے۔ کشمیر کی واحد ریاستی جماعت مسلم کانفرنس میڈیا کی نگاہوںسے کہیں دور ہے حالانکہ اس جماعت نے ایک زمانہ تک بھرپور راج کیا۔ 

سردار عبدالقیوم خان اور سردار سکندر حیات نے بہت کم اپوزیشن دیکھی، مسلم کانفرنس کے موجودہ سربراہ سردار عتیق احمد خان آزاد کشمیر کےوزیراعظم رہے ہیں۔ آزاد کشمیر کے اکثر رہنمائوں کی زبان درازیوں کے قصے مشہور ہیں مگر سردار عتیق شاید واحد ایسے رہنما ہیں جنہوں نے شائستگی کا دامن سنبھال رکھا ہے، انہیں دوسرے رہنمائوں کی نسبت مقدمۂ کشمیر کی تاریخ سے زیادہ شناسائی ہے اور گفتگو کا ڈھنگ بھی خوب آتا ہے۔تمام جماعتوں میں کارکنوں کا برا حال ہے، نظریات کی جگہ دولت نے لے لی ہے۔ 

آزاد کشمیر کے حالیہ الیکشن میں مختلف جماعتوں کو مختلف مسائل کا سامنا ہے۔ مسلم کانفرنس کی کوکھ سے نکلنے والی مسلم لیگ ن پانچ سال اقتدار میں رہی، اس نے مسلم کانفرنس کے ساتھ جو کیا وہی اس کے ساتھ ہوگیا، اقتدار کاسورج غرب ہوتے ہی کئی وزراء اور ممبران پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے۔ اب ن لیگ کے پاس بڑی تعداد میں مضبوط امیدوار نہیں ہیں۔ مسلم کانفرنس کو اقتدار سے باہر ہوئے بارہ برس بیت چکے ہیں، اقتدار پاس نہ رہے تو بہت سے لوگ ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ 

پیپلز پارٹی پانچ برس پہلے اقتدار میں تھی، ان کے بھی کئی لوگ داغ مفارقت دے چکے ہیں۔ ایک زمانے میں پی پی کارکنوں کو نوازتی تھی مگر اب سردار عابد حسین جیسے چالیس سالہ رفاقت نبھانے والے کو نظر انداز کرکے ایک دولت مند کے لئے راستہ ہموار کیا گیا ہے۔ مسلم لیگ ن چونکہ اقتدار میں تھی لوگوں کو کام نہ ہونے کا شکوہ ہے، دھڑے بندی ہے اور کچھ لوگ چھوڑ بھی چکے ہیں۔ تحریک انصاف میں دوسری پارٹیوں سے لوگ آنے کے باعث ان کے کئی کارکن نظر انداز ہوئے۔ آزاد کشمیر دس اضلاع اور تین ڈویژنوں پر مشتمل ہے۔ 

ریاست کے اندر 33 حلقے ہیں اور ریاست سے باہر مہاجرین کی بارہ نشستیں ہیں، کل 45 نشستوں پر ڈائریکٹ الیکشن ہوگا۔ یہاں تحریک انصاف بڑی جماعت کی صورت میںسامنے آئے گی مگر باقی جماعتوں کو بھی نشستیں ملیں گی۔ آزاد کشمیر میں نئی سیاسی حکومت پی ٹی آئی کی بن جائے گی مگر تمام پارٹیوں کے اکابرین کو سوچنا ہوگا کہ جلسوں میں وہ ایک دوسرے کے خلاف جس طرح کی زبان استعمال کرتے رہے ہیں کیا اسے مہذب کہا جاسکتا ہے؟ کسی کا شعر یاد آ رہا ہے کہ ؎

زندگی تیرا سبھی حسن بجا ہے لیکن

تجھ کو جو غور سے دیکھے گا وہ ڈر جائےگا


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM