12 اگست ، 2021
ایک امریکی اہلکار نے خیال ظاہر کیا ہے کہ افغان دارالحکومت 30 دن کے اندر دباؤ میں آ سکتا ہے اور طالبان اگلے 90 روز میں کابل پر قبضہ کر سکتے ہیں۔
امریکی ٹی وی چینل سی بی ایس کے مطابق افغانستان کے 65 فیصد حصے پر طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے اور ان کی پیش قدمی مسلسل جاری ہے۔
افغان فورسز اور طالبان میں جھڑپیں جاری ہیں اور طالبان کی جانب سے رات گئے ہرات شہر پر حملہ کیا گیا۔
گورنر ہرات کا کہنا ہے کہ طالبان کو سکیورٹی فورسز اور سویلین فورسز کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے، حکومتی فورسز نے طالبان کو ہرات شہر سے پیچھے دھکیل دیا ہے۔
افغان میڈیا کے مطابق غزنی میں بھی سکیورٹی فورسز اور طالبان کے درمیان شدید جھڑپیں جاری ہیں، صوبے میں پولیس ہیڈ کوارٹر طالبان کے قبضے میں آگیا ہے جبکہ صوبائی عمارت کے قریب جھڑپیں جاری ہیں۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق طالبان چند روز میں افغانستان کے 9 صوبائی دارالحکومتوں کا قبضہ حاصل کر چکے ہیں اور بلخ صوبے کا ہیڈکوارٹر مزار شریف طالبان کا اگلا ممکنہ ہدف ہے۔
دوسری جانب پے در پے شکستوں اور طالبان کی پیش قدمی روکنے میں ناکامی کے بعد افغان آرمی چیف آف اسٹاف عبدالولی احمد زئی کو عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے اور جنرل ہیبت اللہ علی زئی کو نیا آرمی چیف تعینات کر دیا گیا ہے۔