خادم حسین رضوی کی یادیں اور باتیں

(گزشتہ سے پیوستہ)

2005 میں امریکہ میں جب قرآن پاک کی توہین کا سانحہ پیش آیا تو لاہور میں داتا دربار سے پنجاب اسمبلی تک ریلی نکالی جانی تھی، بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر قیادت نے یہ ریلی جی پی او چوک میں ہی ختم کرنے اور وہیں پر تقریریں کرنے کا کہا تو میں نے مائیک سنبھالا اور اعلان کر دیا کہ علی پور سیداں والے مشائخ کا حکم ہے کہ ریلی کو پنجاب اسمبلی تک لے جایا جائے، سندھی شاگردِ خاص نے مجھ سے مائیک پکڑ کر یہ اعلان کیا کہ استاذ یعنی خادم حسین صاحب کا بھی حکم ہے کہ آگے بڑھیں۔ 

پولیس کی جانب سے آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی آوازوں میں خادم حسین صاحب نے سخت خطاب کیا اور دعا کرائی۔یہ وہ دن تھا جب مولانا خادم حسین رضوی اصل خادم رضوی بن کر اُبھرے۔ البتہ تحفظ ناموس رسالت محاذ کی میٹنگ میں میرے محسن و مربی سرفراز نعیمی، مفتی محمد خان قادری، مفتی عبدالقیوم ہزاروی، پیر محمد افضل قادری، ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی، پیر محمد اطہر القادری اور علامہ رضائے مصطفیٰ نقشبندی کی قیادت میں شرکت کیا کرتے تھے۔ 

14فروری 2006کی ریلی میں بھی ان کا کردار جاندار و نہایت شاندار تھا۔ گستاخانہ خاکوں کے خلاف ریلی کی وجہ سے سرفراز نعیمی اور دیگر کو گرفتارکیا گیا، داتا دربار میں سخت تقریر کی پاداش میں خادم حسین صاحب، مولانا رضائے مصطفیٰ، پیر سید عرفان اور دیگر کے ہمراہ گرفتار ہوئے۔ اگست 2006کو فدایانِ ختمِ نبوت میں اختلاف ہوا، دسمبر 2006میں تنظیم چار حصوں میں تقسیم ہو گئی، جنوری 2007کو مولانا خادم حسین رضوی مرکزی امیر بن گئے۔ 

الیکشن 2008کے بعدن لیگ کی پنجاب میں حکومت آئی اور 2008میں والٹن روڈ لاہور پر ایک واقعہ پیش آیا جس کے بارے جامعہ نعیمیہ کا فتویٰ اور تھا جب کہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی اور مولانا خادم حسین رضوی کا فتویٰ کچھ اور تھا، یہ وہ مقام تھا جہاں سرفراز نعیمی کے ساتھ خادم حسین صاحب کا اختلاف پیدا ہوا۔ خادم حسین صاحب کے والد گرامی حاجی لعل کا انتقال 30اپریل 2008میں ہوا، جب ہم فاتحہ کے لئے حاضر ہوئے توکہنے لگے آخری بار میرے والد نے میری گردن پر بوسہ دیا تو مجھے ایک کرنٹ سا محسوس ہوا، میری چھٹی حس نے کہا کہ شاید یہ آخری ملاقات ہے۔ 

خادم حسین صاحب کے پختہ دین دار ہونے کی بڑی وجہ والد گرامی کی سخت تربیت بھی تھی، فرمایا ایک بار میں نے بچپن میں روزہ رکھا، والد گرامی گرمی میں سارا دن کنویں کا پانی میرے اوپر ڈالتے رہے، شام کو والدہ کو معلوم ہوا تو والد سے بہت خفا ہوئیں کہ آپ نے میرے بیٹے کا کیا حال کر دیا ہے۔ 

معذور ہونے کا واقعہ کچھ یوں ہے کہ 2009میں اپنے گائوں روانہ ہوئے، نماز فجر موٹروے بھیرہ انٹرچینج پر ادا کی، اس کے بعد ایک سی این جی پمپ پر وضو کیا، خادم حسین صاحب کہتے تھے آخری بار کھڑے ہو کر وضو اسی پمپ پر کیا تھا، اس کے بعد راستے میں ڈرائیور کی آنکھ لگ گئی اور گاڑی حادثے کا شکار ہو گئی، ڈرائیور محفوظ رہا، خادم حسین صاحب کے سر پر شدید چوٹ لگی اور حرام مغز بری طرح متاثر ہوا، نچلا دھڑکام کرنا چھوڑ گیا، خادم صاحب کہا کرتے تھے کہ زندگی میں جب بھی دوبارہ حادثے والے مقام سے گزرتا تو توبہ استغفار کرتا۔ 

خادم حسین صاحب کے والد کے انتقال کے دو برس بعد 24نومبر 2010کو اُن کی والدہ حاجن صاحبہ کا انتقال ہوا۔ فرماتے تھے شاید ان کی موت کا سبب میرا حادثہ تھا جس کی بناپر میں معذور ہوا، مزاروں پر حملے ہوئے تو صاحبزادہ فضل کریم کی قیادت میں سنی اتحاد کونسل بنی جس میں خاص قوت سنی تحریک، پیر خواجہ قطب الدین اور پیر حبیب عرفانی کی تھی۔ سرفراز نعیمی کی شہادت کے بعد شملہ پہاڑی کے نزدیک ایک مہربان کے گھر میں ایک اجلاس ہوا، ہمارے مولانا محمد علی نقشبندی، میری اور مولانا خادم حسین رضوی کی حمایت سے چھ ماہ کے لئے جنرل سیکرٹری بنے، اس موقع پر پیر منیر احمد یوسفی نے مجھے جنرل سیکرٹری بننے کا کہا لیکن نہ میرا خیال تھا اور نہ میں نے بننا تھا۔

 جنوری 2011میں مَیںنے ماہنامہ فکر مومن شروع کیا جس کا آفس شملہ پہاڑی لاہور کے قریب بنایا، خادم حسین صاحب کئی بار میرے پاس تشریف لائے، ایک بار پانچ سو روپے انعام کے طور پر دیے، میرے اس دفتر کو یہ اہمیت حاصل رہی کہ تمام مسالک کی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے سرکردہ رہنما وہاں تشریف لاتے۔ صاحبزادہ فضل کریم نے جب متحدہ علماء بورڈ سے استعفیٰ دیا تو کافی عرصہ انہوں نے میرے دفتر کو سنی اتحاد کونسل کے دفتر کے طور پر استعمال کیا۔ 

حتیٰ کہ دو بار ممتاز قادری کے ایشو پر میرے دفتر میں بیٹھ کر انہوں نے ملک گیر ہڑتال کی کال دی۔ اس سے پہلے خادم حسین صاحب نے جامعہ نعمانیہ کو سنبھالا، اختلافات کے باوجود، مکمل کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ تحفظِ ناموس رسالتؐ محاذ کے زیر اہتمام عتیق اسٹیڈیم لاہور میں جلسہ ہوا، اس میں اختلافات ہوئے، یوں ان کو پھر کھل کر ذاتی حیثیت میں اپنے آپ کو منوانے کا موقع ملا۔ 

مختلف ریلیوں میں مفتی حسیب، مفتی کریم، مفتی عمران، مولانا مجاہد عبدالرسول، مولانا محمد علی اور دیگر سے ان کے کارکن اُلجھتے رہتے۔ اُدھر سلمان تاثیر نے 15مئی 2008کو بطور گورنر پنجاب حلف اٹھایا، 295سی کے بارے میں اُن کے بیانات سامنے آئے، 4جنوری 2011کو ممتاز حسین قادری نے اُنہیں قتل کر دیا، 29فروری 2016کو ممتاز قادری کو پھانسی دے دی گئی۔

 یکم مارچ 2016کو لیاقت باغ راولپنڈی میں لاکھوں لوگوں نے ممتاز قادری کی نماز جنازہ پڑھی۔ یکم مارچ 2016کو پیر محمد افضل قادری نے تجویز دی کہ تحریک رہائی کی جگہ تحریک یارسولؐ اللہ قائم کی جائے، پیر افضل قادری بانی و سرپرست بنے، 4اکتوبر 2015کو جب ڈی سی گوجرانوالہ نے ابو داؤد محمد صادق کی نمازِ جنازہ اسٹیڈیم میں پڑھانے کی اجازت نہ دی تو پیر افضل قادری نے کہا کہ تم اپنی فورسز لاؤ، ہم اپنے لوگ لاتے ہیں اور یوں ڈی سی گوجرانوالہ نے بے بس ہو کر اسٹیڈیم کھول دیا۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM