بلاگ
05 دسمبر ، 2021

سری لنکا !میں آپ کا مجرم ہوں

عمران خان نے سیالکوٹ واقعہ پر کہا،پاکستان کےلئے شرم کا دن ہے۔ عثمان بزدار نے کہا،ذمہ دار عناصر انسان کہلانے کے حقدار نہیں۔ تحریک لبیک پاکستان نےکہا،ہم اس افسوس ناک واقعہ کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔طاہر اشرفی نے کہا،بطور مسلمان میں اس واقعے پر شرمندہ ہوں۔ سراج الحق نے کہا،واقعہ انتہائی قابل افسوس اور اسلام و شرفِ انسانیت کی توہین ہے۔

مولانا طارق جمیل نے کہا،اسلام میں تشدد اورشدت پسندی کی کوئی جگہ نہیں۔علامہ سید ظفراللہ شاہ نے فرمایا،ایسے پُر تشدد واقعات کسی نئی قانون سازی کے متقاضی ہیں۔سابق وفاقی وزیر پرویز رشید نے کہا ،میں اپنے ہم وطنو ں کو سمجھانے میں ناکام ہوا ہوں، سری لنکا !میں آپ کا مجرم ہوں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ،یہ بہیمانہ قتل انتہائی قابل مذمت اور شرمناک ہے۔فواد چوہدری نے کہا ،جب تک اگلا واقعہ نہ ہو یہ بے حسی کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے۔پنجاب حکومت کے ترجمان حسان خاور نے کہا، غفلت پر پولیس کے خلاف کارروائی کریں گے۔ہر ایسے سانحہ کے بعد ایسے بیانات پڑھنے کو مل جاتے ہیں مگر اس کے بعد ؟

2009 میں گوجرہ میں عیسائیوں کے چالیس گھر جلا دئیے گئے تھے۔2013لاہور کی جوزف کالونی میں بھی ایک سو سے زائد مسیحیوں کے گھر وں کوراکھ کا ڈھیر بنا دیا گیا تھا۔ ایسے واقعات سے ماضی قریب کی تاریخ بھری پڑی ہے۔یہ کون ہے جو پاکستان کودرندوں کی بستی بنا رہا ہے۔ کون ہے جس نے معاشرے میں یہ جاہلیت بھری انتہا پسندی بھر دی ہے۔

میرے نزدیک پاکستان میں پھیلے ہوئے ان مسائل کا پہلاسبب ذوالفقار علی بھٹو ہیں اور دوسرا جنرل ضیا الحق، آپ حیران ہو رہے ہیں کہ میں نے بھٹو کا نام کیوں لیا؟بھٹو اگر چہ آزاد خیال رہنما تھےمگر انہوں نے اپنی حکومت کو طوالت دینے کےلئے مولویوں کے ایسے مطالبات مان لئے۔

جن کے سبب پاکستان غیرملکیوں کےلئے اجنبی ہوتا چلا گیا جس سے ایک طرف ٹورازم کی صنعت تباہ ہوئی تو دوسری طرف پاکستان کاروباری طور پر بھی مہینے میں چاردن،دنیا سے کٹ گیا۔ ہفتہ اور اتوار کو دنیا بند، جمعہ کوپاکستان بند۔بھٹو کے بعد جنرل ضیا نے آکر اور بربادی پھیلا دی۔ مضطرب دلوں اور تر دماغوں نے ہجرتیں کرنی شروع کردیں۔ جنرل ضیا نے جو مجاہدین پیدا کئے، ان سے اللہ اور اس کے رسولؐ کے نام پردشمن کو مارنے کا کام تو لے لیا گیا مگر اس کے بعد؟ 

اس کے بعد انہیں واپس گھروں میں بھیج دیا جہاں دنیاکچھ اورتھی۔ پھر یہ ہواانہی سے طالبان نے جنم لیا۔ پھر ان طالبان سے ’’پاکستانی طالبان ‘‘پیدا ہوئے، جنہوں نے ہمیں تو قتل کیا سو کیا، اسکولوں میں ہمارے بچے تک مارنے سے گریز نہیں کیا۔

جنرل ضیا کےدور میں فلم، آرٹ اور ڈرامہ وغیرہ کاجہاں تک قتل عام ہو سکتا تھا، کیا گیا اور پھر وہ مسلسل جاری رہا۔ اس سے معاشرے میں برداشت کے رویے ختم ہوتے چلے گئے۔ برداشت ختم ہوئی۔ وہ جو دل دھڑکتا تھا، پتھر بنتا گیا۔کیا پوچھتے ہوپاکستانی معاشرہ پُر تشددکیوں ہوا۔ 

لوگوں سے جب ہر طرح کی تفریح چھین لی جائے گی تو لوگ کیا کریں گے۔ آج پاکستان میں کتنے سینما ہیں جہاں لوگ فلم دیکھ سکتے ہیں۔ کتنے تھیٹر ہیں جہاں ڈرامہ دیکھا جاسکتا ہے، کتنی آرٹ کونسلیں ہیں۔ پچھلے دنوں ایک میٹنگ میں پنجاب کے سیکرٹری انفارمیشن اینڈ کلچر راجہ جہانگیر انور نے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ کچھ شہروں میں کرائے پر بلڈنگز لے کر وہاں آرٹ کونسلزبنا دی جائیں تو کسی نے مجھ سے کہا’’یہ راجہ صاحب کو آرٹ کونسلزشروع کرنے کی اتنی جلدی کیا ہے۔جب لوگ فنون لطیفہ کوغیر ضروری چیزسمجھنے لگیں گے تو معاشرہ پُر تشدد نہیں ہو گاتو اور کیا ہوگا۔ 

پہلے ہر شہر میں ایک سال میں آٹھ دس چھوٹے بڑےمشاعروں کا انعقاد ہوجایا کرتا تھا، اب ایک بھی نہیں ہوتا۔کسی شہر میں آرٹ کی کوئی سوسائٹی باقی نہیں رہی۔ ادبی تنظیمیں ختم ہو کررہ گئی ہیں۔ اب وزیر اعلیٰ عثمان بزدار نے اس طرف خاص توجہ دی ہےہر شہر میں ادبی بیٹھکیں بنانے کا حکم دیا ہےمگرچالیس سال سے تباہ شدہ معاشرے کو اصلی حالت میں واپس لانے پر وقت تو لگنا ہے۔

میں نے زندگی کے کئی برس برطانیہ میں گزارے۔ وہیں بیٹھ کرمیں نے ایک بار لکھا تھا’’ میں بلیک کنٹری کے شہر ڈڈلی کی بڑی مسجد میں بیٹھا ہواہوںیہ مسجد ہائی اسٹریٹ کے آغاز کے ساتھ ہی جڑی ہوئی ہے اسی ہائی اسٹریٹ کے آخر میں ایک بلند قامت چرچ بھی ہے جس کے نوک دار مینار کے سائے میں محمد علی جناح ہال بھی ہے اور اس کے قرب و جوار میں کوئی سینی گاگ بھی موجود ہے۔ 

میں مسجد، چرچ اور سینی گاگ کے درمیان ہونے والے مکالمے کو سن رہا ہوں۔ میری سماعت صدیوں پر محیط ہوتی جارہی ہے میری بصارت زمانوں کو اپنی گرفت میں لے رہی ہے۔ بین المذہبی اور بین الثقافتی معاشرہ میں ان تینوں عالمگیر مذاہب کے بیچ جتنی قربتیں ہیں، میں انہیں محسوس کر رہا ہوں۔ 

ابراہیم علیہ اسلام کی چوکھٹ پر ان تینوں راستوں کو ایک دوسرے کے قریب ہوتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ برطانیہ نے ایسا معاشرہ کیسے تشکیل دیا۔ ہم اس منزل کی طرف کب جائیں گے۔ میرے یہ سوال کب تک تشنہ ِ جواب رہیں گے؟ کوئی ہے جو مجھے بتا سکے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM