Geo News
Geo News

Time 10 دسمبر ، 2021
بلاگ

سندھ کا مقدمہ

ہر سال دسمبر کا پہلا اتوار سندھی ثقافت کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔پچھلے برسوں کی طرح اس سال بھی پانچ دسمبر کو یہ دن منایا گیا۔ اس مرتبہ پورے صوبہ سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہات میں یہ دن خوب جوش و خروش سےمنایا گیا بلکہ ملک کے مختلف حصوں میں بھی اس دن سندھی ثقافت نظر آئی۔ اب یہ سلسلہ اتنا پھیل گیا ہے کہ دنیا کے کئی شہروں میں ’’سندھی ثقافت ڈے‘‘ منایا جاتا ہے۔

اس دن لوگ اجرک پہنتے ہیں، ٹوپی پہنتے ہیں، گیت گاتے ہیں اور پھر گیتوں پر جھومتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا آغاز 2009ء میں آصف علی زرداری نے اپنے دور صدارت میں کیا۔ اس میں بھی شک نہیں کہ اس اہم دن کو یادگار بنانے میں پلیجوخاندان کا بھی بڑا کردار ہے۔’’سندھی ثقافت ڈے‘‘ پر ایاز لطیف پلیجو، اسد پلیجو اور سسی پلیجو نمایاں نظر آتے ہیں۔

یہ بات بھی شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ اب اس دن کو سندھ دھرتی کے تمام لوگوں نے اپنا لیا ہے۔ یہ بات پورے یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اس دن پورا سندھ بول رہا ہوتا ہے کہ یہ دھرتی صوفیاء کی دھرتی ہے، امن کی دھرتی ہے۔ اس طرح کے دن منانے سے معاشرے میں شدت پسندی اور عدم برداشت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ اس طرح کے تہوار دوسرے صوبوں کو بھی منانے چاہئیں ۔

اگر پاکستان کے تمام صوبوں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ سندھ کے لوگ سب سے زیادہ وسیع القلب ہیں۔ سندھ کی دھرتی نے بہت سے بلوچوں کو سمویا ہوا ہے، اس دھرتی نے عرب اور ایران سے آنے والے لوگوں کو بھی قبول کیا۔ یہاں بہت سے پنجابی اور سرائیکی بولنے والے بھی آباد ہیں۔

سندھ میں اردو، پشتو، گجراتی سمیت کئی بولیاں بولنے والے آباد ہیں۔ یہ درست ہے کہ یہ لوگ سندھ کے مختلف علاقوں میں خدمات انجام دیتے ہیں مگر اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ان تمام لوگوں کو سندھ پالتا ہے، پالنے والی ذات تو پاک پروردگار کی ہے لیکن یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ ان لوگوں کا روزگار سندھ میں ہے ۔یہاں جو لوگ آئے سندھ نے انہیں اپنا بنا لیا۔

سندھ پاکستان کا جنوب مغربی صوبہ ہے یہ صوبہ قدیم ترین تہذیبی اور تاریخی ورثے کا مالک ہے۔جو معاشی و صنعتی سرگرمیوں کا مرکز ہے 140,914کلو میٹر یعنی 54,407مربع میل پر پھیلا ہوا یہ صوبہ رقبے کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر ہے ۔ اس کا رقبہ انگلستان سے تھوڑا سا زیادہ ہے۔ 

صوبہ سندھ کی آبادی 47,886,051ہے، یہ واحد صوبہ ہے جہاں قریباً نصف آبادی شہروں میں بستی ہے اس وقت سندھ میں ساڑھے پچاس فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے جبکہ 49.50فیصد آبادی کا بسیرا شہروں میں ہے ۔ اس صوبے میں قومی اسمبلی کی 75نشستیں ہیں جبکہ یہاں کی صوبائی اسمبلی کی نشستیں 168ہیں۔سندھ کے بڑے شہروں میں کراچی، حیدر آباد، سکھر، خیرپور، لاڑکانہ، شکار پور، ٹنڈو آدم، نواب شاہ، جیکب آباد اور میر پور خاص ہیں۔ 

اگر سندھ کی انتظامی تقسیم پر نگاہ ڈالی جائے تو کراچی کے پانچ ا ضلاع کو شامل کرکے کل 29 اضلاع بنتے ہیں۔اس بڑے صوبے میں 119تحصیلیں ہیں۔صوبہ سندھ کے مغرب اور شمال میں صوبہ بلوچستان، شمال میں پنجاب جبکہ مشرق میں بھارت ہے۔ صوبہ سندھ کے جنوب میں بحیرہ عرب واقع ہے، سندھ میں ساحلی علاقہ 380کلو میٹر طویل ہے۔ صوبہ سندھ کے پہلے پانچ ڈویژن یعنی کراچی، حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ اور میر پور خاص تھے ۔ اب بھنبھور کے نام سے ایک نیا ڈویژن قائم کیا گیا ہے۔ یہ ڈویژن ٹھٹھہ، بدین اور سجاول کے اضلاع پر مشتمل ہے ۔اس نئے ڈویژن کا ڈویژنل ہیڈ کوارٹر ساحلی ضلع ٹھٹھہ میں تاریخ مقام مکلی میں قائم کیا گیا ہے۔

صوبہ سندھ میں سندھی، بلوچی، سرائیکی اور اردو زیادہ بولی جانے والی زبانیں ہیں۔سندھ کے کچھ علاقوں میں کئی دیہات پنجابی آباد کاروں کے ہیں، جہاں پنجابی بھی بولی جاتی ہے۔ صدیوں پرانی تاریخ کے حامل اس صوبے میں آثار قدیمہ کی فہرست بھی لمبی چوڑی ہے ۔ موہنجوداڑو کے آثار سے کون واقف نہیں مگر شاید آپ میں سےبہت سے لوگ آمری، بھنبھور، جھکر کاٹیلہ، سرنی کوٹ، علی مراد کا ٹیلہ، غازی شاہ کا ٹیلہ، لکھمیرٹیلہ، مومل جی ماڑی، ٹھل ہیرو خان، چنھودڑو، چوکنڈی قبرستان، کاہو جودڑو اور کوٹ ڈیجی سے واقف نہ ہوں ۔سندھ اپنے دامن میں ثقافتی ورثہ بھی رکھتا ہے ۔ 

اس سلسلے میں خالق دینا ہال، راما پیر مندر، رانی کوٹ، شری سوامی ، نارائن مندر کراچی، شیو مندر عمر کوٹ، فریئر ہال، قائد اعظم ہائوس، مزار قائد، موہٹہ پیلس، مکلی قبرستان، وزیر مینشن، گورنر ہائوس سندھ اور ہولی ٹرینیٹی کیتھڈرل کراچی کا تذکرہ ضروری ہے۔ سندھ کی تاریخ میں منگولوں کے حملے، میانی کی جنگ اور پالانی کی جنگ کا تذکرہ خاص طور پر ملتا ہے ۔ساتویں صدی کے بعد مسلمانوں نے سندھ کو فتح کیا۔711ء میں یہاں اموی گورنر آ گئے کوئی نصف صدی یہ دور رہا۔

اس حکومت میں سندھ کے علاوہ مکران، توران اور ملتان بھی شامل تھے ۔پھر یہاں عباسیوں کی حکومت قائم ہو گئی ۔سندھ پر تالپوروں کی بھی حکومت رہی ۔بلوچ قبیلے تالپور کا جداعلیٰ شہداد تالپور تھا جب بلوچ کلہوڑا فوج میں بھرتی ہوئے تو شہداد تالپور سید سالار بن گیا۔ اس کے بعد کلہوڑوں نے تالپور سرداروں کو قتل کروایا اور 1783ءکی جنگ پالانی میں کلہوڑوں کو تالپوروں نے شکست دی۔ ان کے چھ حکمرانوں نے 1843ء تک حکومت کی ۔ انہوں نے سندھ میں تین ریاستیں حیدرآباد، میر پور خاص اور خیر پور قائم کی تھیں۔1843ء میں برطانوی فوج نے چارلس جیمر نیپئر کی زیر کمان تالپوروں کو میانی کی خونی جنگ میں شکست دے کر پورے سندھ پر قبضہ کرلیا جو پاکستان بننے تک قائم رہا ۔

ویسے تو وادی سندھ کی تہذیب ساڑھے تین ہزار سال قبل مسیح کی ابتدائی تہذیبوں میں شامل ہے۔اگر صدیوں کا تذکرہ کرنا شروع کروں تو پھر شاید بہت سی کتابیں لکھنا پڑیں مگر میں کالموں کی مختلف اقساط میں صرف تعارف کے ساتھ آگے بڑھوں گا ۔ صوفیاء کی یہ دھرتی اپنی مثال آپ ہے۔یہ دھرتی عبداللہ شاہ غازیؒ،لعل شہباز قلندرؒ، سچل سرمست ؒ اور شاہ عبدالطیف بھٹائی ؒ کی محبتوں سے بھری پڑی ہے۔ کوشش کروں گا کہ پاکستان بننے کے بعد کے حالات وواقعات کو زیادہ جگہ دوں تاکہ ہماری موجودہ نسل اس عظیم دھرتی سے شناسا ہو سکے جہاں شیر دریا، سندھو دریا بہتا ہے کہ

جئے سندھ جئے سندھ وارا جیئن

سندھی ٹوپی اجرک وارا جیئن

(جاری ہے)


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔