Geo News
Geo News

Time 08 فروری ، 2022
بلاگ

نظام ِحکومت کونسا؟

آج کل ایک بحث بڑے زور و شور سے جاری ہے کہ صدارتی نظام بہتر ہے یا پارلیمانی نظام حکومت؟ کوئی صدارتی نظام کو بہتر قرار دے رہا ہے اور کوئی پارلیمانی طرز حکومت کی تعریف کر رہا ہے۔ پارلیمانی نظام کے معترفین صدارتی نظام کی بات کو بے وقت کی راگنی اور غیر جمہوری قوتوں کا شوشہ قرار دے رہے ہیں۔ 

ان کے خیال میں صدارتی نظام کا تجربہ ہمارے ہاں ناکام ہوچکا ہے اور اب اس نظام کا قیام ممکن ہی نہیں ہے۔ وہ اس کمزور پارلیمانی نظام کو دوسرے کسی بھی نظام سے بہتر قرار دیتے ہیں۔ یہاں بعض سوالات بھی پیدا ہوتے ہیں مثلاً ایک سوال یہ ہے کہ اگر ہمارے ہاں صدارتی نظام کا تجربہ ناکام ہوچکا ہے تو پارلیمانی نظام سے کیا بہتری آئی ہے اورکس حوالے سے پارلیمانی نظام بہتر ہے۔ 

دوسرا سوال یہ ہے کہ وہ کونسی قوتیں ہیں جو ملک میں صدارتی نظام لانا چاہتی ہیں اور اس سے ان قوتوں کے کونسے مفادات وابستہ ہوسکتے ہیں۔ تیسرا سوال یہ ہے کہ صدارتی نظام سے ملک و قوم کا کیا نقصان ہوچکا ہے اور پارلیمانی نظام سے ملک وقوم کی کیا بہتری ہوئی ہے۔ چوتھا سوال یہ ہے کہ اگر صدارتی نظام سے بالفرض کچھ مخصوص قوتوں کے بعض مفادات وابستہ ہوسکتے ہیں تو پارلیمانی نظام پر زور دینے والوں کے یقیناً اس نظام سے اپنے مفادات وابستہ ہوں گے۔

اس ساری بحث میں دو ایسے اہم ترین عناصر ہیں جو مکمل طور پر نظرانداز ہیں۔ حالانکہ وہی اسلامی جمہوریہ کی بنیاد ہیں۔ ایک یہ کہ اس میں اسلام اور اسلامی طرز حکومت کا ذکر ہی نہیں ہے جو ایک اسلامی مملکت کی بنیاد ہونی چاہئے اور اگر ایسا نہیں ہے تو پھر وہ ملک محض اس لیے اسلامی ملک نہیں ہوسکتاکہ وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔

 جیسا کہ آج کل دنیا میں تقریباً ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمان آباد ہیں اور وہاں نام نہاد اسلامی حکومتیں بھی قائم ہیں لیکن اسلامی طرز حکومت شاید ہی کسی ملک میں مکمل طور پر قائم ہو۔ اور ان ممالک میں ہم بھی شامل ہیں۔ دوسرا یہ کہ اس صدارتی و پارلیمانی کی بحث میں عوام کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں کتنے لوگ ایسے ہیں جن سے ووٹ تو لیے جاتے ہیں لیکن ان بے چاروں کو یہ معلوم ہی نہیں کہ وہ کس نظام کے تحت ووٹ دے رہے ہیں۔ ان کو کیا معلوم کہ صدارتی نظام کیا ہے اور پارلیمانی نظام کس بلا کا نام ہے۔ پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ اسلامی طرز حکومت کیا ہے۔

 محسن انسانیت، تخلیق کائنات کی وجہ اور اللہ کریم کی محبوب ترین ہستی، رحمت اللعالمین حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دور حکومت کیسا تھا۔ تو ان کے دورحکمرانی میں بلاتفریق مذہب، رنگ و نسل نوع انسانی کے ساتھ عدل و انصاف، سماجی برابری اور مساوات کو بنیادی حیثیت حاصل تھی اور یہی بنیادی نکات ہر اسلامی ریاست کی بنیاد اور اساس ہیں۔ یہ ہمارے سامنے ایک بنا بنایا خاکہ ہے ہر اسلامی ریاست کو اسی خاکہ کو اپنا کر نظام حکومت و عدل قائم کرناچاہئے تب ہی وہ اسلامی ریاست اور اسلامی حکومت کہلوانے کی حقدار ہوسکتی ہے۔

 اور یہ ایسا بہترین نظام ہے جس کی پوری دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ یہ وہ نظام ہے کہ موجودہ حکمران جو ریاست مدینہ کی بہت باتیں کرتے ہیں اگر یہ نظام قائم کردیں تو مجھے یقین ہے کہ پورے ملک میں کوئی بھی اس کی مخالفت کرنے والا نہیں ہوگا۔ بلکہ لوگ اس کو سراہیں گے اور موجودہ حکمرانوں کا اس اقدام سے دنیا و آخرت میں بھلا ہو جائے گا۔ لیکن شاید ایسا قدم اٹھانے کے اہل نہ تو حکمران ہیں نہ سیاست دان اور اشرافیہ شاید یہ چاہتی نہیں۔ یہ سب سمجھتے ہوں گے کہ بس مسلمان ہونا ہی کافی ہے۔ بے شک اعمال اس کے برعکس ہوںتو پھر رہ جاتے ہیں تین نظام، بادشاہت، پارلیمانی اور صدارتی نظام۔

ہمارے ہاں موجودہ نظام ہی کو پارلیمانی یا جمہوری نظام کہا جاتا ہے حالانکہ یہ تو جمہوری بھی نہیں بلکہ ایک جمہوری آمرانہ و بادشاہی نظام ہے۔ اس میں مفادات کے سرَعام سودے ہوتے ہیں۔ ووٹ خریدے بھی جاتے ہیں۔ ووٹ زبردستی لیے جاتے ہیں، ووٹ کسی کو دیا جاتا ہے برآمد کسی اورکے صندوق سے ہوتا ہے۔ شخصیت کی پسند ناپسند پر بھی ووٹ دیا جاتا ہے۔ کہیں چوہدری، وڈیرے کے کہنے پر اس کے ڈر سے ووٹ دیے اور لیے جاتے ہیں۔ منتخب ہونے والے عوام کو بیوقوف اور بھیڑ بکریاں جبکہ خود کو افضل مخلوق سمجھتے ہیں۔

 پارلیمنٹ میں اپنے مفادات کے لیے حکمران اور اپوزیشن ایک ہو جاتے ہیں۔ ذاتی و مشترکہ مفادات کے بل فوری اور اتفاق رائے سے منظور کئے جاتے ہیں۔ اس نظام میں ملازمتیں اور عہدے فروخت ہوتے ہیں۔ ہر معاملہ میں میرٹ کا قتل عام ہوتا ہے۔ پارلیمنٹ کو گھٹیا الزامات اور گالم گلوچ کی یونیورسٹی کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اوراس کارخیر ونیک پر ان بھیڑ بکریوں کے کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں، آج کل اس نظام میں انصاف کا حصول مشکل ترین اور طویل امر ہے۔ 

مہنگائی اور بیروزگاری عروج پر ہے۔ سیاسی مخالفین ذلیل و رسوا ہورہے ہیں جبکہ حکمرانوں سے منسلک افراد کی پانچوں گھی اور سرکڑاہی میں ہے۔اس کے علاوہ بھی اس ’’بہترین‘‘ نظام کے ’’ثمرات‘‘ ہیں جن سے عوام مستفید ہورہے ہیں nلیکن صدارتی نظام اس کے بالکل برعکس عوامی نظام ہے جس میں ’’افضل‘‘ لوگوں کے لیے نہ گنجائش ہے نہ ایسی عیاشیاں ہیں اور اگر چاہا جائے تو اس نظام میں اسلامی طرز حکمرانی بڑی آسانی سے شامل کیا جاسکتا ہے۔ 

اس نظام کے مخالف عوام نہیں بلکہ وہ ’’افضل‘‘ مخلوق ہے جو عوام کو غلام اور بھیڑ بکریاں بناکر رکھنا چاہتی ہے اور اپنی آخرت کو بُھلا کر آئندہ نسلوں تک کے لیے حکمرانی اور عیاشیوں کا سامان قائم رکھنا چاہتی ہے۔ نہ اللہ تعالیٰ کا خوف نہ روز محشر کی سختیوں اور دوزخ کا ڈر ہے۔ بلکہ اس دو روزہ زندگی کو ہمیشہ اور دنیائے فانی کو جنت سمجھتے ہیں۔ اللہ کریم ہم سب کو ہدایت دے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔