20 فروری ، 2022
سیاسی حلقوں میں پچھلے دو ہفتوں سے وزیراعظم کے خلاف ’’تحریکِ عدم اعتماد‘‘ کا شور شرابہ سننے میں آرہا ہے، صورت حال مگر تاحال واضح نہیں کہ سیاست کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا لیکن جس تیز رفتاری سے اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں کے حکومتی اتحادیوں سے رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں کچھ نہ کچھ ہو کر رہے گا۔ عدم اعتماد کا ’’خطر ناک‘‘ کھیل جہاں حکومت کی چھٹی کرا سکتا ہے وہاں ناکامی کی صورت میں اپوزیشن کی سیاست کو نا قابلِ تلافی نقصان بھی پہنچا سکتا ہے۔ اب تو پی ڈی ایم میں ’’عقاب‘‘ بھی یہ خطرناک کھیل کھیلنے کی حمایت کر رہے ہیں۔
مریم نواز بھی کہہ رہی ہیں کہ موجودہ حکومت سے نجات دلانے کے لیے ہمیں تحریکِ عدم اعتماد کا رسک لینا چاہیے۔ شہباز شریف نے پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لانے کے لیے کمیٹی قائم کر دی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی، جنہوں نے ابھی تک اپنی مٹھی نہیں کھولی، نے کہا ہے کہ سیاسی بادل جلد چھٹ جائیں گے اور مطلع صاف ہو جائے گا جب کہ ایم کیو ایم کے رہنما عامر خان نے کہہ دیا ہے کہ حکومت کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کے تمام آپشن اوپن ہیں بظاہر وزیراعظم اپنی ’’باڈی لینگوئج‘‘ سے مشکل صورت حال میں مطمئن دکھائی دینے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن وہ اپنی حکومت کا ’’تختہ‘‘ الٹنے کی کوشش پر ان کے حالیہ بیانات ’’گھبراہٹ‘‘ کا اظہار کر رہے ہیں۔
غالباً 2009کی بات ہے، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کو قریب تر کرنے اور چوہدری برادران اور شریف خاندان کے درمیان فاصلے ختم کرنے کے لیے جاتی امرا میں ظہرانے کا اہتمام کیا گیا لیکن کسی طرح یہ ظہرانہ ہی منسوخ کروا دیا گیا جس کے بعد چوہدری برادران اور شریف خاندان کے درمیان ایسی خلیج حائل ہوئی جسے کئی سال تک عبور نہ کیا جا سکا لیکن سیاسی منظر نامے پر ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں کی خواہش نے میاں شہباز شریف کو 14سال بعد جرأت مندانہ اقدام اُٹھانے پر مجبور کر دیا۔ اُن کے اس اقدام سے دونوں اطراف برف ضرور پگھلی ہے۔
طویل جدائی ختم ہونے کے بعد شہباز شریف اور چوہدری پرویز الٰہی نے ایک دوسرے کو گلے لگایا۔ چوہدری برادران سے عمران خان کے سیاسی مخالفین کی ہونے والی ملاقاتوں پر بنی گالہ کے ’’مکین‘‘ ضرور تشویش کا شکار ہیں۔ اس تشویش کو دور کرنے کے لیے چوہدری برادران نے وفاقی وزیر آبی وسائل چوہدری مونس الٰہی کے ذریعے جو پیغام بھجوایا اس سے وزیراعظم عمران خان کا حوصلہ بڑھا ہے۔
چوہدری برادران کی طرف سے وزیراعظم کو نہ گھبرانے کا جو مشورہ دیا گیا ہے اس سے ان کا مورال بلند ہوا ہے جس کے بعد وزیراعظم نے بھی چوہدری مونس الٰہی کی تقریر کے جواب میں کہا کہ ’’گھبرائی ہوئی اپوزیشن کو ایک دم چوہدری شجاعت کی صحت کا خیال آگیا، چوہدری شجاعت حسین بہترین انسان ہیں اور ان کا سیاست کا بہترین تجربہ ہے، ہمیں مسلم لیگ (ق) اور چوہدری برادران پر پورا اعتماد ہے‘‘۔ وزیراعظم کی طرف سے اپوزیشن رہنمائوں کی سرگرمیوں کا نوٹس لینے سے اس تاثر کو تقویت ملی ہے کہ وہ اپوزیشن کی طرف سے تحریک عدم اعتماد کی تیاریوں سے غافل نہیں لیکن پریشان ضرور ہیں۔
’’تحریکِ عدم اعتماد‘‘ کے ’’غلغلہ‘‘ میں پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کی طرف سے الگ الگ شروع ہونے والے ’’لانگ مارچ‘‘ قدرے پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی تمام تر توجہ ’’تحریکِ عدم اعتماد‘‘ کی کامیابی پر مرکوز کر دی ہے۔ اس وقت اپوزیشن جماعتوں کی اولین ترجیح تحریک عدم اعتماد ہے۔ میرا صحافتی تجربہ کہتا ہے کہ اگر وزیراعظم عمران خان نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوتے دیکھی تو وہ اپوزیشن کے ہاتھوں شکست قبول نہیں کریں گے بلکہ قومی اسمبلی تحلیل کرنے کو ترجیح دیں گے۔
تحریکِ عدم اعتماد کے سلسلے میں جہاں اپوزیشن جماعتوں کے درمیان رابطے اور ملاقاتیں ہو رہی ہیں وہیں حکومت اتحادی جماعتوں کو راضی رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تحریکِ عدم اعتماد کے بارے میں اپوزیشن کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مسلم لیگی قیادت سے ناراضی کے باوجود جہاں آصف علی زرداری شہباز شریف کے ہاں حاضری دینے پہنچ گئے وہیں آصف علی زرداری نے چوہدری برادران سے تحریک عدم اعتماد لانے کیلئے مدد مانگ لی ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف کی 14سال بعد چوہدری برادران سے ملاقات میں تحریک عدم اعتماد بارے کوئی بات نہیں کی البتہ اس ملاقات میں دونوں اطراف پائی جانے والی ’’سرد مہری‘‘ ’’گرمجوشی‘‘ میں تبدیل ہونا ہی کامیابی تصور کی جا رہی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان اور جمعیت علمائے اسلام کی قیادت بھی چوہدری برادران اور مسلم لیگی قیادت سے ملاقات کر چکی ہے۔ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں تاحال کوئی ٹھوس بات سامنے نہیں آئی۔ چوہدری برادران میدانِ سیاست کے تجربہ کار شہسوار ہیں، وہ ان رابطوں اور ملاقاتوں کے حوالے سے کوئی بات منظر عام پر نہیں لائے۔ ان کی طرف سے مکمل خاموشی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دیگ میں ’’کھچڑی‘‘ پکنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
کسی کو کچھ علم نہیں کہ انہوں نے ’’سوالیوں‘‘ کے دامن میں کچھ ڈالا بھی ہے یا خالی ہاتھ واپس بھیج دیا ہے؟ اپوزیشن جماعتوں سے ملاقاتوں کے بعد پاکستان مسلم لیگ (ق)کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس مرکزی سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ کی زیرصدارت منعقد ہو چکا ہے جس میں اسپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الٰہی، وفاقی وزیر برائے آبی وسائل مونس الٰہی، سینیٹر کامل علی آغا اور دیگر رہنمائوں نے شرکت کی۔ اجلاس کے بعد مختصر اعلامیہ جاری کیا گیا کہ تمام اراکینِ اسمبلی نے چوہدری پرویزالٰہی کو فیصلوں کا اختیار دے دیا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی و ناکامی سے جہانگیر ترین گروپ کا بڑا رول ہو گا۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔