Geo News
Geo News

Time 04 مارچ ، 2022
بلاگ

آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا!

تحریک عدم اعتماد کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ یہ معاملہ اب پنجاب اور وفاق کے اقتدار پر اٹکا ہوا ہے، ورنہ اپوزیشن کے پاس نمبر شاید پورے سے بھی زیادہ ہیں۔ حیرانی کی بات ہے کہ اتنے تجربہ کار سیاستدان ہوکر بھی وہ ابھی تک یہ طے نہیں کرسکے۔شاید اس کی بنیادی وجہ چوہدری برادران ہیں۔

مسلم لیگ (ن) کسی بھی طرح بہت لمبے عرصے کے لیے پنجاب کو چوہدری پرویز الٰہی کے سپردنہیں کرنا چاہتی۔ پنجاب پورے پاکستان میں سب سے بڑا اور اکثریتی صوبہ ہے اور یہاں مسلم لیگ (ن) کا ہی ڈنکا بجتا ہے۔ میاں نواز شریف شاید یہ سمجھتے ہیں کہ اگر زرداری فارمولے کے مطابق پنجاب میں چوہدری پرویز الٰہی کی حکومت قائم ہو جائے تو پیپلزپارٹی ان کے ساتھ مل کر مسلم لیگ (ن) کے لوگوں کو توڑے گی اور مسلم لیگ (ن) کو پنجاب میں اتنا کمزور کر دیا جائے گا کہ پھر وہ کوئی اہم کردار ادا کرنے کے قابل ہی نہیں رہے گی۔

 علاوہ ازیں اگر زرداری فارمولے کے مطابق وفاق میں مسلم لیگ (ن) کو حکومت مل بھی جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ مسلم لیگ (ن) خود یہ تجربہ کرچکی ہے۔ جب پنجاب میں مسلم لیگ اور وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومت تھی اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید وزیراعظم تھیں تو میاں نواز شریف نے نہ صرف پنجاب میں اپنی جماعت کو مضبوط کیا بلکہ محترمہ شہید کی حکومت کو فیض آباد تک محدود کردیا تھا۔

 ان وجوہات کی بنا پر پنجاب کو مسلم لیگ (ق) کے حوالے کرنا مسلم لیگ (ن) کے لیے ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ آصف علی زرداری کی کوششوں میں بظاہر پی پی کا تو کوئی فائدہ نظر نہیں آتا۔ پھر وہ کیوں اتنی بھاگ دوڑ کر رہے ہیں، لانگ مارچ بھی کیا جارہا ہے جس کی ذمہ داری بلاول بھٹو زرداری کو دی گئی ہے اور خود اہم ملاقاتیں، صلاح مشورے اور معاملات سلجھانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ یہ ایک اہم سوال ہے۔

آصف علی زرداری وقت اور حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہیں۔ مثلاً انہوں نے وقت کے اتار چڑھاؤ کو دیکھتے ہوئے فہم و فراست سےاپنے سابقہ دورِ صدارت کے پانچ سال مکمل کیے۔ وہ خود صدر مملکت تھے اور وزیراعظم بھی پیپلزپارٹی سے ہی تھا۔ قارئین کو اگریاد ہو تو آصف علی زرداری نے عہدہ صدارت سنبھالنے سے بہت پہلے کہا تھا کہ بہت جلد ایوانِ صدر میں جئے بھٹو کے نعرے گونجیں گے اور پھر ایسا ہوا بھی۔ ان کی کوششوں سے لگتا ہے کہ ان کا ٹاسک عمران خان کو باہر کرنا ہے۔ اور اس کے بعد ملک میں جو سیاسی افراتفری پھیلے گی اس کا ان کو علم ہے۔ 

ان کو معلوم ہے کہ اس افراتفری کے نتیجے میں ایسا کچھ ہوگا ہی نہیں جو (ن) لیگ یا دوسری جماعتیں اور سیاستدان سمجھتے ہیں۔ دوسری وجہ، ان کوپتہ ہے کہ پنجاب میں ان کی حکومت تو بن نہیں سکتی اور کچھ معمولی حصہ لینے سے فائدہ نہیں۔ تیسری وجہ، وہ ہر صورت سندھ بالخصوص کراچی سے پی ٹی آئی کا بوریا بستر گول کرنا چاہتے ہیں اور اطلاعات کے مطابق اس پر کام بھی ہو رہا ہے۔ آصف زرداری کے لیے ایم کیو ایم سے سیاسی لین دین اور معاملات طے کرنا کوئی مشکل کام نہیں۔ وہ بہر صورت کم از کم سندھ اور جنوبی پنجاب کی حد تک اور خیبر پختونخوا کے بعض علاقوں میں اپنی جماعت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ وجوہات ہیں کہ تمام تر تیاری کے باوجود تحریک اعتماد کی بیل ابھی تک منڈھے چڑھنے کے انتظار میں ہے۔

وزیراعظم عمران خان آخر کار چل کر چوہدری برادران کے گھرتشریف لے گئے۔ بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے۔ چوہدری برادران وہ الفاظ بھولے نہیں ہیں جو کنٹینرز سے ان کے بارے میں کہے جاتے تھے، ان کو فی الوقت یہ خوشی ہے کہ آخر وہ خود ہمارے پاس آگئے۔ مصدقہ اطلاع کے مطابق یہ ملاقات نشستند، گفتند،برخاستند ہی رہی۔ صرف عیادت ہوئی۔ ایک دوسرے کا شکریہ ادا کیا گیا۔ دونوں طرف سے نہ تو مانگا گیا نہ دیا گیا۔ کوئی یقین دہانی کرائی گئی نہ کوئی وعدے ہوئے۔ سیاستدانوں کی ملاقاتوں سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ بس ملاقات ہوگئی تو معاملات طے ہوگئے۔

 ایک باوثوق ذریعے کے مطابق بعض ذرائع کے میاں نواز شریف کے ساتھ رابطوں کے بعد امکان ہے کہ بہت جلد پنجاب کی وزارت اعلیٰ کا مرحلہ طے ہو جائے گا اور چوہدری برادران بھی کسی اطلاع کے منتظر ہیں۔ یہ معاملہ اگرکسی بھی طرح حل ہو جائے جس میں ضروری نہیں کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ پرویز الٰہی کو مل جائے لیکن اس ذریعہ نے اس امکان کو سرے سے رد بھی نہیں کیا۔ اس کےبعد چوہدری برادران میاں شہباز شریف کے ظہرانے یا عشایئے پر ماڈل ٹاؤن تشریف لے جائیں گے۔ ویسے اگر اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار نہ ہوتی تو پھر یہ معاملات نہ چوہدری برادران کے لیے مشکل ہوتے نہ ہی دوسروں کیلئے۔ چونکہ اسٹیبلشمنٹ غیر جانبدار ہے تو سیاستدانوں کی سیاست اور جمہوریت کو دیکھیں کہ وہ اپنے سیاسی معاملات ہی طے نہیں کرپا رہے۔

بریگیڈیئر (ر) اسد منیر بالآخراپنی وفات کے تین سال بعدبری ہوگئے۔ یہ کیسا ملک ہے کہ جنہوں نے اسد منیر کو ایک بے بنیاد اور جھوٹے کیس میں گرفتار کیا۔ ان کو ذلیل کرتے رہے۔ ان کو ان کی فیملی کو تاحیات اذیت میں مبتلا کیا اور بریگیڈیئر (ر) اسد منیر کو ذلت کی اس حد تک پہنچایا کہ ان سے مزید جب برداشت نہ ہوا تو مبینہ طور پر انہوں نے اس ظالم نظام اور بے وفا دنیا سے رخصت ہونا ہی بہتر سمجھا۔

 وہ پاک آرمی کے مایہ ناز سپاہی تھے۔ ان کی اس ملک کے لیے پیشہ ورانہ بہت خدمات تھیں کیا وہ اس سلوک کے مستحق تھے؟ کیا ان لوگوں سے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ پتہ نہیں کیسے کیسے عزت دار اور بے گناہ لوگ اس دور میں ذلیل کیےگئے کیسے بدنام کیے گئے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ یہ تو شکر ہے کہ ایک عدالت اور بھی ہے وہاں زبردست انصاف ہوگا اور ضرور ہوگا۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔