Geo News
Geo News

بلاگ

قومی انتشار اور سنہری مواقع کا ظہور

وزیراعظم کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے محرک مولانا فضل الرحمٰن اپنے دور میں ہی عوامی رائے اور تیور دیکھتے نظامِ جاریہ کو گلاسٹرا نظام قرار دینے والے اور یہ باور کرانے والے کہ ’’یہ نظام نہیں چلےگا‘‘ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف اور یک نہ شد دو شد نہلوں پہ دہلا، اپنےدورِ صدارت میں وزارت عظمیٰ کے بھی مزے اڑانے والے جناب آصف زرداری کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ آپ تینوں کی بے وقت اور لاحاصل سیاسی سعی، ’’استعفوں تا تحریکِ عدم اعتماد‘‘ بھلے کتنی آئینی ہو، یہ اب واضح طور پر مسلسل قومی انتشار کی شکل اختیار کرکے ایک اور ’’آئینی بحران‘‘ کی طرف بڑھ رہی ہے۔ 

سیاست ہو یا سفارت کاری، فیصلہ سازی بارے یہ یونیورسل اصول اب سکہ بند اور ’’گورنمنٹ اینڈ پولیٹکس‘‘ ڈسپلن کا بڑی فری کوئنسی میں آزمودہ اصول ہےکہ ’’اقوام، حکومتوں اور سیاسی جماعتوں اور قائدین کے لیے وہی فیصلے کارآمد اور آنے والی نسلوں کے لیے مفید ہوتے ہیں جو صورتحال کے مطابق ہوں‘‘یہ وہ علم ہے (تجزیہ یا رائے نہیں) جس کااطلاق دنیا بھر میں کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جہاں نہیں ہوتا وہاں بہت بڑے بڑے ڈیزاسٹربڑی بڑی اقوام سے بھی ہو رہے ہیں۔ اس لیے کہ فیصلے صورتحال کے برعکس کسی جنونی جذباتی کیفیت یا انا میں محدودانفرادی گروہی، محدود مقصد کے لیے اور صورتحال سے متصادم ہوتے ہیں تو تباہ کن ہوتے ہیں۔ آپ اسی راہ پر ہیں۔

سیاسی عمل (حتیٰ کہ جیسا تیسا بھی) کا تسلسل واقعی جمہوریت کا حسن ہے۔ چلیں این آر او سے ہی سہی، 2008 میں جو آئینی جمہوری عمل بحال ہوا اس میں اقتدار کی باریاں پہلی بار مکمل تو ہوئیں، یوسف رضا گیلانی اور میاں نواز شریف کی مدتِ اقتدار سے پہلے وزارتِ عظمیٰ سے علیحدگی عدالتی فیصلوں کا نتیجہ تھی۔ موجودہ جاری دور میں بھی یہ سیاسی عمل جاری و ساری رہنا ہی ہے کہ آپ کے امیدوار ضمنی انتخابات جیتتے رہے اور اِسکفر کا ٹوٹنا حقیقی ارتقاء ثابت ہوا کہ ’’ضمنی انتخاب میں ہمیشہ حکومتی امیدوار ہی کامیا ب ہوتا ہے‘‘۔ہوتا تو تھا، ہر دور میں ایسا ہی ہوتا رہا اور یہ روایتی بیانیہ عملاً لازمہ سا بن گیا تھا اور اپوزیشن اور اس کے امیدوار اپنی ہار پر ذہنی طور پر آمادہ رہتے تھے۔ مولانا صاحب! غور فرمائیں، کہ جمہوری وسیاسی عمل کے اسی تسلسل میں سیاسی عمل کا یہ کتنا بڑا ارتقاء ہوا کہ بلدیاتی انتخابات میں آپ کی جماعت کی روایتی الیکٹورل بیس صوبہ خیبر میں پھر غالب ہوگئی۔ آپ کی محرومی بڑی حد تک دور ہوئی اور آپ نے ماحول پھر گرما دیا۔ یہ گرمی مکمل قابلِ قبول اور سیاسی عمل کے لیے مطلوب حد میں جاری نہیں رہنی چاہیے؟

شہباز صاحب! مانا کہ آپ کو اپنی جماعت کو سیاسی مہم جوئی اور لندنی سایوں سے بچانے کے لیے فاضل محنت کرنا پڑی، یہ بھی آپ کی خوش قسمتی ہے کہ آپ کے سفید ہاتھیوں جیسے ’’ترقیاتی منصوبوں‘‘ کے مقابل بزدار حکومت کے ترقیاتی پراجیکٹس کے منصوبے کہیں زیادہ فلاحی اور کم خرچ ہیں۔ 

صحت کارڈ، احساس پروگرام، صوبے میں ٹیکسٹائل اور کنسٹرکشن انڈسٹری کی سرگرمی اور بمپر کیش فصلیں، وبائی ماحول میں شروع ہوئے لنگر خانے اور پناہ گاہیں، نئی سڑکوں اور ہسپتالوں کی تعمیر میٹرنٹی اسپتالوں پر خصوصی توجہ آپ کے دور کے مقابل تعداد و معیار دونوں میں زیادہ آئے اور یہ سب ہوا بھی کورونا بحران میں، ویکسی نیشن تو خیر پورے ملک میں بہت کامیابی سے ہوئی اور دنیا میں ہماری کوویڈ کرائسس مینجمنٹ کو مانا گیا۔ یہ آپ کی خوش قسمتی ہے کہ حکومت کو اسے پراجیکٹ کرنا نہیں آتا، تعلیم کے معاملے میں بزدار حکومت کی کارکردگی مایوس کن رہی۔ آپ نے کبھی اس حساس ایریا کو نظر انداز کرنے کی نشاندہی نہیں کی۔ 

آپ کے میٹرو اور اورنج ٹرین جیسے بوجھل اور اخراجات کے تناسب کے اعتبار سے حکومت مخالف منصوبوں پرتنقید اس لیے کم اثر ہوگئی کہ ان مکمل غیر مطلوب ٹرانسپورٹ منصوبوں کی نقل خیبر پختونخوا میں بھی ہوئی، جسے عوامی رائے میں ’’کرپشن کے بڑے حربے‘‘ کی نقل سمجھا گیا۔ آپ یقین جانیئے بزدار حکومت و قیادت کی جملہ کمزوریوں کے باعث آپ بچے رہے، مہنگائی کا معاملہ غالب آگیا اور اتنا کہ لوگ آپ کویاد کرنے لگے، حالانکہ آپ کا دور خاصا قابل احتساب رہا جو نہیں ہوا، جو ہوا، وہ بے سود اور بیمار نظام عدل و انصاف کے آپ بڑے بینی فشری بنے۔

زرداری صاحب! یہ تو آپ جانتے ہیں کہ آپ کتنے متنازعہ ہیں۔ اس حیثیت میں بھی پاکستانی سیاسی تاریخ نے آپ کو کتنا بڑا امتیاز دیا، غور فرمائیں کہ آپ ملک کے واحد سول صدرِ مملکت رہے جس نے اپنے دورِ صدارت میں وزارتِ عظمیٰ جیسے مزے اڑائے۔ یہ ہی نہیں آپ کی صدارت میں ایوان صدر پی پی کا بھی محور بنا رہا۔ اس ملک سے آپ کو کیا کیا اسباب ملے یہ اللہ جانتا ہے یا صرف آپ یا شاید آپ کوبھی یاد نہ رہتا ہوکہ کتنا اور کیا کیا؟ اب خیر سے ’’قیادت وسیاست‘‘ بھی بھٹوئوں سے زرداریوں میں آگئی، اور نہ جانے آپ کو کیا چاہیے۔ سیاسی حساب کتاب کے آپ ماہر،تبھی تو آپ نے بروقت پنجاب کا رخ کرنے کا صحیح فیصلہ کرلیا تو آپ کو پنجاب کی سیاست کے بہت سے تقاضے پورے کرنے ہوں گے، جنہیں ایڈریس کرکے پی پی کے بانی قائد نے قومی عوامی پارٹی بنائی تھی۔اس سارے پس منظر میں پاکستان اور اس کے 22کروڑ عوام کے آپ بڑے ’’مقروض‘‘ ہیں، جن کے لیے آپ کو بالآخر بہت کچھ کرنا ہے جو آپ کو گوارا نہیں۔ یہ تو آپ نے آخر کار دیکھا کہ سیاسی اجارا طوالت اختیار نہیں کرسکتا۔ آپ تینوں اور آپ کے خاندان کو یہ طوالت ملی تو اس کی وجہ طویل غیر آئینی سول ملٹری ادوار کی سیاسی مہمات بنیں۔

آپ تینوں یاد رکھیں کہ آپ نے پاکستان اور اس کے عوام کےوسیع تر مفادات کے حوالے سے ’’آئینی حقّ‘‘ کی آڑ میں قابلِ مذمت چھانگا مانگا، سوات ماڈل، غیر ملکی اثر اور لندن ریفرنس کے روایتی غیر آئینی حربوں کےساتھ خوشحال اور مستحکم پاکستان کے ظہور پذیر مواقع پر پاکستان کی عالمی علاقائی اہمیت اور حیثیت جو موجود قیادت کے غیر روایتی کردار میںیکسو ہوگئی، کو عین موقع پر ضرب لگائی تو ملک میں حقیقی عوامی تحاریک کے انداز اور نتائج یاد رکھیں۔ آپ کی اطلاع کے لیے وزیر اعظم پاکستان کے یورپین یونین کو روس کی مذمت کے مطالبے پر سفارتی جواب کے بعد یورپین یونین بھارت کی طرف بھی آگئی۔ یونین خود پولینڈ کو روس کے خلاف بیس کیمپ بنانے کی امریکی خواہش پوری کرنے سے بھی گریزاں ہوگئی۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔