01 اپریل ، 2022
جس نام نہاد خط کا بڑا چرچا ہوا اور ایک عجیب ہیجانی صورتحال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی، یہ اب تک ایک سوالیہ نشان ہے۔ درحقیقت نہ تو ایسا کوئی خط تھا نہ کسی ملک کی طرف سے ایسا کوئی خط بھیجا گیا تھا۔ میں نے گزشتہ کالم میں بھی ذکر کیا تھا کہ نہ یہ طریقہ کار ہے نہ ایسا ہوتا ہے۔
یہ مکمل طور پر ایک بچگانہ حرکت تھی۔ اس سے ہماری جگ ہنسائی ہوئی اور ساتھ ہی وزارت خارجہ کو بھی بے خبر رکھتے ہوئے دنیا کے سامنے کمزور ظاہر کیا گیا۔ وہ ’’مشہور خط‘‘ دراصل امریکہ میں ایک سابق پاکستانی سفیر کا تجزیہ تھا اور مبینہ طور پر اس فرمائشی خط میں وہ مندرجات شامل کروائے گئے تھے جن کی اس وقت یہاں ضرورت تھی۔ اس خط کو تحریکِ عدم اعتماد سے جوڑ کر سازش قرار دیا گیا۔ جبکہ لگتا تو یہ ہے کہ سازش تو خود یہ خط ہے۔ اب اس معاملے کے منصوبہ سازوں کو بے نقاب کرنا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنا ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن کے جعلی دستخط کے ساتھ ایک اور جعلی خط کے بھی منظر عام پر آنے کا امکان ہے۔
تحریک عدم اعتماد کا نتیجہ وزیر اعظم عمران خان کے بارے میں کیا نکل سکتا ہے یہ تو سامنے ہے لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس تحریک کے نتیجے میں جن کو متاثر ہونا ہےوہ تو دیکھا جائے گا لیکن اس تحریک کے اثرات سے عثمان بزدار اور چوہدری پرویز الٰہی سب سے پہلے اور زیادہ متاثر ہو گئے۔ عثمان بزدار وزارت اعلیٰ سے گئے اور بے آبرو مندانہ طریقے سے قربانی کا بکرا بنائے گئے جس طرح جہانگیر ترین اور علیم خان بنائے گئےتھے۔
جہاں تک چوہدری پرویز الٰہی کا تعلق ہے ان کے ساتھ کسی نے کچھ نہیں کیا۔ وہ مبینہ طور پر ایک کال کے نتیجے میں اپنے بیٹے مونس الٰہی کے کہنے اور خواہش پر بھٹک گئے اور وزیر اعظم عمران خان کے پاس جا کر ان کی ہلکی سی پیشکش فوری طور پر قبول کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے اس یکطرفہ فیصلے سے چوہدری شجاعت حسین اور مسلم لیگ ق کے اراکین قومی و صوبائی اسمبلی کے شجاعت گروپ نے شدید ناراضی کا اظہار کیا۔
دو دن بعد خاندان کی عزت کی خاطر چوہدری شجاعت حسین نے اختلافات کے بارے میں تردیدی بیان جاری کیا یہ ان کی بصیرت تھی اور انہوں نے یہ بیان جاری کر کے اچھاکیا۔ کیونکہ گھر کے اندر جو بھی ہو مگر عزت دارلوگ گھر کے میلے کپڑے چوراہے میں نہیں دھوتے۔ لیکن چوہدری پرویز الٰہی کے اس نامعقول فیصلے نے ان کے نام اور قد کے علاوہ ان کی سیاست کو بھی بہت نقصان پہنچایا۔ اس کے اثرات مستقبل میں ان کے سامنے ضرور آئیں گے۔
تحریکِ عدم اعتماد اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھ رہی ہے،حکومتی پوزیشن یہ ہے کہ اس وقت تک ان کے ارکان کی تعداد142رہ گئی ہے۔ اور اپوزیشن کے ارکان کی تعداد 162سے بڑھ کر 196ہو گئی ہے۔ میں نے گزشتہ کالم میں عرض کیا تھا کہ اپوزیشن کے ارکان کی تعداد197ہو جائے گی۔ ان میں تحریک انصاف کے 22ارکان بھی شامل ہیں، جن کو حکومت منحرف کہتی ہے۔ کسی نے وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دیا کہ وہ قوم سے فوری خطاب کریں، جس میں مبینہ طور پر ملک میں ہنگامی صورتحال نافذ کرنے کا اعلان شامل ہو۔
اس خطاب کے مندرجات تیار کئے گئے اور پی ٹی وی کے متعلقہ عملے کو بھی بلایا گیا۔ ذرائع کے مطابق اس خطاب کی ریکارڈنگ شروع بھی کر دی گئی تھی کہ عین اس وقت کسی نے ریکارڈنگ رکوائی اور وزیر اعظم کو نصیحت کی گئی کہ و ہ خطاب منسوخ کر دیں۔ جس کو مانا گیا۔ یہ بھی نصیحت کی گئی کہ جب تک تحریک عدم اعتماد کا نتیجہ سامنے نہیں آتا اور اس نتیجہ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کامیاب نہیں ہوتے اس وقت تک وہ کوئی بھی ایگزیکٹو فیصلہ کرنے سے گریز کریں۔ معلوم نہیں وہ اس نصیحت پر عمل کرتے ہیں یا نہیں، یہ ان کا اختیار اور مرضی ہے۔
وزیر اعظم کے ایک قریبی ساتھی نےدعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم کو قتل کرنے کی سازش کا انکشاف ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس لئے وہ وزیر اعظم عمران کو مشورہ دیتے رہے کہ وہ جلسوں میں مخصوص جیکٹ پہن کر جایا کریں۔لیکن عمران خان نے ہمیشہ اس مشورے کو رد کیا۔ اگر ایسی کوئی معلومات تھیں یا ہیں تو اس کی فوری چھان بین کرانی چاہئے تھی، یہ ملک کے وزیر اعظم کی زندگی کا معاملہ ہے کوئی معمولی بات نہیں۔ اور اگر یہ دعویٰ درست نہیں ہے اور ان صاحب کے سابقہ دعوؤں کی طرح کا دعویٰ ہے تو پھر یہ انتہائی مضحکہ خیز بات ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے گزشتہ روز ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کے سامنے نہ صرف ان کی تعریفوں کے پل باندھے۔ ان کی صحت، زندگی اور کامیابی کیلئے دعائیں دیں بلکہ انکو نہایت قیمتی مشورے بھی دیے جو وزیر اعظم کی خوشی کا باعث بنے۔
کہا جارہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے قریبی افراد نے ان کو اس بات پر قائل کیا ہے اور وہ افراد بار بار اعلان بھی کرتےہیں کہ وزیر اعظم استعفیٰ بالکل نہیں دیں گے اور آخری گیند تک لڑیں گے۔ پتہ نہیں وہ اب اور کیا کریں گے جبکہ سب کچھ عیاں ہے۔
ذرائع کے مطابق گورنر پنجاب نہ صرف عہدہ بلکہ پارٹی بھی چھوڑ دیں گے، ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ کے پی میں وزیر اعلیٰ محمود خان کےخلاف تحریکِ عدم اعتماد پیش ہونے والی ہے،جس کیلئے پی ٹی آئی کے بعض اہم عہدیدار اور اراکینِ اسمبلی کی ایک بڑی تعداد بھی متحرک ہے۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔