26 اپریل ، 2022
سیاست کا مقصد عوام کی خدمت کرنا نہیں بلکہ حصول اقتدار ہوتا ہے،کم ازکم پاکستان میں تو ایسا ہی ہے۔ لیکن گزشتہ کچھ عرصہ میں سیاست،روایات اور اقدار ہی نہیںتبدیل کی گئیں بلکہ نیا پاکستان بنانے اور تبدیلی کا نیا نعرہ بھی بلند کیا گیا۔
دلچسپ بات یہ کہ نیا پاکستان بنانیوالوں نے پاکستان کی موجود عمارت کو گرا کر نئی عمارت بنانی تھی۔
اس عمل میں پرانی عمارت کے مکین بھی شامل ہوگئے اوربالکل اس طرح کوششیں شروع کردی گئیں جس طرح ہمارے ہاں ٹھیکیدار سڑک کی مرمت کے نام پر اچھی بھلی سڑک کھود کر برباد کردیتے ہیں اور پھر حکومتی متعلقہ اداروں کے افسران سے ملی بھگت کرکے رقم وصول کرکے غائب ہوجاتے ہیں۔ تو اسی طرح پرانے پاکستان کا حلیہ بگاڑنے کی پوری کوششیں کی گئیں۔
نیا پاکستان تو خیر کیا بننا تھاجہاں تک نعرے کےدوسرے حصے یعنی تبدیلی کا تعلق ہے اس میں البتہ کافی کامیابی ہوئی۔ وہ اس طرح کہ پاکستان میں روایات، اقدار اور سیاسی اصولوں کے قد آور درختوں کو کاٹ پھینکا گیا۔ جو کسی حد تک پھلدار اور ملک وقوم پر سایہ فگن بھی تھے۔ اور ان کی جگہ ایسے کانٹے دار درخت لگائے گئے جن کا نہ پھل ہے اور نہ سایہ۔ اب یہ درخت کافی بڑے ہوچکے ہیں۔
اگر یہ فوری طور پر کاٹ کر نہ پھینکے گئے تو خدشہ ہے کہ ان کی جڑیں بہت دور تک پھیل جائیں گی۔ تبدیلی والوں نے پاکستان کی روایات، اقدار اور سیاسی اصولوں کو روند کر رکھ دیا۔
یہاں تک کہ اہم ترین اداروں اور شخصیات کو کمزور اور بے توقیر کرنے کی باقاعدہ مہم شروع کردی گئی جو اب بھی جاری ہے۔ اس سارے عمل میںوہ لوگ زیادہ پیش پیش رہے ہیں جو حادثاتی طور پر وزیر، مشیر بنے اور جن کو شاید اپنے محلے میں بھی کوئی نہیں جانتا۔ ان میں اکثریت امپورٹڈ خواتین وحضرات کی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو سابق حکومت ہی اصل میں امپورٹڈ تھی۔
پاکستان کو بین الاقوامی طور پر بدنام اور کمزور کرنے اور اداروں واہم شخصیات کی بے توقیری میں اب وہ بھی شامل ہوگئے ہیں جو خود کبھی نیک نام رہے اور نہ ہی قابل توقیر رہے۔
ان میں ایک وہ صاحب بھی شامل ہوگئے ہیں جو ہیں تو سیاستدان لیکن چند دن پہلے اپنے آپ کو فوج کا خودساختہ ترجمان کہتے رہے۔ لیکن کوئی اس غلط فہمی میں ہرگز نہ رہے کہ وہ شتر بے مہار رہیں گے۔ اور جو جی میں آئے کرتے جائیں۔ گیڈر کی موت آتی ہے تو شہر کا رخ کرتا ہے۔ جو ملک اور اداروں کے دفاع اور عزت ووقار کے محافظ ہیں، پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے، وہ سوئے ہوئے نہیں ہیں۔
یہ سلسلے زیادہ نہیں چلتے۔ ابھی تو بہت کچھ سامنے آنیوالا ہے۔ بہت سے فیصلے ہونے ہیں۔ بس تبدیلی بہت ہوگئی۔ یہ کونسی سیاست ہے کہ جو فیصلہ خلاف مرضی ہو اس کو رد کردو۔ پنجاب میں لگایا گیا تماشہ بھی اب ختم ہونیوالا ہے۔ جوکچھ ہوا اور جو ہورہا ہے یہ سیاست نہیں بلکہ فساد پھیلانے کامنصوبہ ہے۔
اب ایک ردالفساد آپریشن اس طرف بھی ہونا چاہیے۔ کوئی کچھ بھی کرلے یہ ملک بھی قائم رہے گا۔ اور جلد ترقی کا عمل بھی شروع ہوگا۔ الیکشن میں ابھی مزید دس ماہ کا عرصہ نظر آرہا ہے۔ لیکن اس سے پہلے بھی بہت کچھ ہوسکتا ہے۔ سیاست اور حصول اقتدار کا یہ کھیل کسی منطقی انجام کی طرف بڑھتا نظر آرہا ہے اور اصل تبدیلی آکے رہے گی۔
تحریک انصاف کے جن لوگوں نے استعفے دئیے ہیں اور جن کے منظور ہونگے۔ وہاں فوری ضمنی الیکشن کاامکان ہے۔ الیکشن کمیشن سے بعض اہم ترین فیصلے بھی اگلے ماہ کے وسط تک آنے کا امکان ہے۔
اسی لیے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف منظم مہم شروع کردی گئی ہے۔ لیکن میرے خیال میں یہ سب بے سود ہے۔ نہ وہ مستعفی ہورہے ہیں نہ ہی اس مہم کا آنیوالے فیصلوں پرکوئی اثر پڑنے کا امکان نظر آرہا ہے۔ بلکہ اداروں یا شخصیت کے خلاف مہم ان ہی کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنے گی جو ایسی مہم چلانے والے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک کے جلد سامنے آنے کا امکان ہے جن کے ارکان کی تعداد38کے قریب ہوسکتی ہے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اگر عید کے بعد پی ٹی آئی نے مجوزہ احتجاجی تحریک شروع کی تو ان کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔ دوسری طرف ذرائع کے مطابق اس وقت پی ٹی آئی میں ایک تعداد وہ ہے جو کسی قسم کی بھی احتجاجی تحریک کے خلاف ہے۔
احتجاجی تحریک کے حامی چند ایک ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو کسی بھی وقت پرواز کے لیے تیار ہیں۔ یہ صرف عمران خان کو آخری اور مکمل دھکا دینا چاہتے ہیں۔
مبینہ طور پر وہ یہ جانتے ہیں لیکن اب وہ بے بس ہوچکے ہیںاور ڈوبتے ہوئے ان تنکوں کا سہارا لینے پر مجبور ہیں۔اگر عید کے بعد کسی قسم کی پنجہ آزمائی کی کوشش شروع کی گئی تو مہم جوئوںکو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق ایسی کوئی بھی مہم جلد دم توڑ جائے گی کیونکہ اب مہم جوئی کے شوقینوں کے بارے میں اقدامات کا امکان ہے۔
امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کچی گولیاں نہیں کھیلیں کہ وہ کسی کے لیے خود یا اپنی جماعت کو استعمال کریں۔ اور ناکردہ گناہ کا بوجھ اپنے سر پررکھ لیں۔ اس لیے یہ سہارا ڈوبنے کا سہارا بنتا نظر نہیں آتا۔ اور کسی کو عمران خان نے چھوڑا نہیں ہے۔ باقی آپ خود سمجھدار ہیں۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔