آلودگی دنیا میں ہونے والی ہر 6 میں سے ایک موت کی وجہ

آلودگی دنیا میں ہونے والی ہر 6 میں سے ایک موت کی وجہ

ماحولیاتی آلودگی کے باعث ہر سال 90 لاکھ افراد ہلاک ہورہے ہیں یعنی دنیا بھر میں ہر 6 میں سے ایک موت کی وجہ یہ ہے۔

یہ بات ایک نئے تحقیقاتی تجزیے میں سامنے آئی۔

تجزیے میں بتایا گیا کہ زہریلی ہوا، آلودہ پانی اور سطح انسانی صحت کے ساتھ زمین کے لیے بھی خطرہ ہیں اور ان کے باعث معاشروں کا استحکام متاثر ہوسکتا ہے۔

آلودگی کے باعث ہونے والی اموات نے دنیا بھر میں ٹریفک حادثات، ایچ آئی وی/ ایڈز، ملیریا اور ٹی بی سے ہونے والی مجموعی اموات کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

تحقیق میں تخمینہ لگایا گیا کہ آلودگی سے ہونے والی اموات کے باعث ہر منٹ 9 ڈالرز اور سالانہ بنیادوں پر 4.6 ٹریلین ڈالرز کا معاشی نقصان ہورہا ہے۔

تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ آلودگی کے اثرات میں 2017 کے پہلے عالمی تجزیے کے مقابلے میں کوئی بہتری نہیں آئی ، اور اس وقت سے اب تک ساڑھے 4 کروڑ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

تجزیے کے مطابق 2017 سے زہریلی ہوا اور کیمیکلز سے اموات کی شرح میں 7 فیصد جبکہ 2000 کے مقابلے میں 66 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔

تحقیقی ٹیم کے قائد اور امریکا کے بوسٹن کالج کے پروفیسر فلپ لینڈریگن نے بتایا کہ آلودگی اب بھی انسانوں اور ہماری زمین کے لیے بہت بڑا خطرہ ہے، آلودگی کی روک تھام سے موسمیاتی تبدیلیوں کی رفتار کو بھی سست کیا جاسکتا ہے اور ہماری رپورٹ میں روایتی ایندھن کے مقابلے میں ماحول دوست توانائی پر فوری منتقلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

تحقیقی ٹیم میں شامل ایک اور محقق اور گلوبل الائنس آن ہیلتھ اینڈ پولیشن کے ماہر رچرڈ فولر نے کہا کہ اب تک دنیا کی 11 حکومتوں نے ایکشن پلان پیش کیے ہیں ، آلودگی کی سطح کی جانچ پڑتال اور عوام تک ان اعدادوشمار کو پہچانا بھی تبدیلی کی لہر پیدا کرسکتا ہے ۔

اس تجزیے کے نتائج جریدے جرنل لانسیٹ پلانیٹری ہیلتھ میں شائع ہوئے اور اس کے لیے 2019 کے گلوبل برڈن آف ڈیزیز پراجیکٹ کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔

محققین نے دریافت کیا کہ آلودگی سے ہونے والے 90 لاکھ اموات میں سے لگ بھگ 75 فیصد فضائی آلودگی کے باعث ہوتی ہیں۔

اسی طرح زہریلے کیمیلز 18 لاکھ اموات کا باعث بنتے ہیں جس میں سیسے کی آلوگی سے ہونے والی 9 لاکھ ہلاکتیں بھی شام ہیں۔

آلودگی سے ہونے والی 90 فیصد سے زیادہ اموات غریب اور متوسط آمدنی والے ممالک میں ہوتی ہیں جبکہ ترقی یافتہ ممالک نے آلودگی کی بدترین اقسام کوکنٹرول کیا ہوا ہے۔

آلودہ پانی سے پہلے ہر سال 14 لاکھ اموات ہوتی تھیں مگر نکاسی آب اور طبی سہولیات کے باعث اب اس میں کمی آئی ہے، مگر ابھی اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق 2 ارب سے زیادہ افراد کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں۔

مزید خبریں :

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM