Geo News
Geo News

بلاگ

شہر قرارداد میں عوامی نمائندوں کا بازار

23مارچ 1940کو جب آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں ہندوستان کو تقسیم کرکے مسلمانانِ ہند کے علیحدہ وطن کیلئے قرار داد منظور ہوئی تو سکت برابر اس کی مخالفت کرنے والے لاہور کے ہندو پریس نے چیختے پکارتے اپنے فالو اپ میں کانگریس اور ہندوئوں کو انتباہ کے طور اسے قرار داد پاکستان قرار دیا۔

 واضح رہے بحیثیت مجموعی ہندوستانی پریس میں اسے مسلم لیگ کی منظور ’’قرارداد لاہور‘‘ لکھا جا رہا تھا۔ کانگریس نواز اخبارات کا یہ بیانیہ کوئی غلط نہ تھا، جیسا کہ مسلم لیگی مطالبے کے مطابق 7 سال میں پاکستان قائم اور بھارت تقسیم ہوگیا۔ دنیا میں وقت کے مورخین نے ان ہونی (تقسیم ہند) کے ہونے کو بنتی عالمی تاریخ کے چند بڑے واقعات کے طور پر ریکارڈ کیا۔ گویا اسی (قرار داد) تاریخ ساز دستاویز سے ہندوستان منقسم ہوا اور پاکستان وجود میں آیا۔ آج ہماری 75 سالہ تاریخ کی سب سے مقدم بلکہ مقدس دستاویز یہ ہی قرارداد ہے۔

 اسی کو فرنگی حکومت اور متعصب حریف کانگریس سے منواتے اور خود عمل کرتے نومولود پاکستان میں بسنے کا عزم لئے ہندوستانی مسلمانوں نے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت اپنے نئے وطن کی جانب کی اور لاکھوںجانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی مطالبے پر یہ کوئی عام بڑا عمل اور نتیجہ نہیں تھا بلکہ اسی کار عظیم سے ایک مکمل امتیازی اور آزاد مملکت اسلامی جمہوریہ کے طور پر وجود آئی۔ ہمارے قائدین اور اکابرین کے عزم و عمل کے مطابق برصغیر میں مسلمانوں کی اسی نئی مملکت نے احکام الٰہی اور قرآن و سنت کے مطابق اسلامی جمہوری فلاحی مملکت بن کر کل عالم خصوصاً ترقی پذیر اور نو آزاد مسلم ممالک کیلئے مرکز محویت بننا تھا۔ 

ہم نے بحیثیت نئی قوم کے تقسیم ہند کے اپنے عوامی سیاسی شعور و تحریک اور راست باز سیاسی قیادت سے یہ ثابت کردیا تھا کہ ہماری اتنی سکت ہے کہ ہم ایسی ماڈل جدید ریاست بھی بنا سکتے ہیں۔ آج کے پرآشوب پاکستان کی تاریخ میں ایسا بہت کچھ ہوا جس سے عملاً اس عزم و عہد کے عمل میں ڈھلنے کی تصدیق ہوتی ہے۔ نئی نسل کیلئے یہ کہانی ہے تو مفصل لیکن اس کا اتنا حوالہ لازماً ذہن نشین ہو کہ ’’قرار داد پاکستان ایک بڑے جلسے میں ایک بڑے مطالبے کی خبر تھی جس کی جارحانہ مخالفت کرتے لاہور کے ہندو پریس نے خبروں اور تجزیوں کے فالو اپ سے خبردار کیا تھا کہ اسے فقط روایتی سیاست نہ سمجھا جائے‘‘ یہ انتباہ کوئی غلط تو نہ تھا، اسی مطالبے سے پاکستان نکل آیا۔

کتنا بڑا فخر ہے لاہور شہر کا کہ عظیم مطالبے اور اس کے تحریک پاکستان کاسنگ میل بننے نے شہرِ اقبال میں ہی اقبال کے مسلمانان ہند کے علیحدہ وطن کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کا اہتمام بھی کردیا۔ برصغیر کی سیاست و تاریخ و ثقافت، علم، ادب و دانش صحافت کا بڑا مرکز، باغوں اور زندہ دلان کا شہر ہونے کے اوصاف و اعزاز کوئی کم تھے جواس شہر قرارداد کو پاکستان ساز ہونے کا سہر بھی بندھا جو مینار پاکستان کی شکل میں ہر پاکستانی خصوصاً نئی نسل اور لاہوریوں کو مسلسل گرماتا ہے۔ ایسے شہر بیکراں کی کوئی حدود نہیں ہوتیں۔ ایسے ہی بستیوں اور شہروں پر نظر بد ڈالنے والے بھی کم نہیں ہوتے۔

 ہمارے سیاسی ابلاغ میں ذاتی مفاد کی سیاست کی انتہا پر جا کر مخالفین سے مل جانے والے بے ضمیروں کے لئے ’’لوٹا‘‘ کی اصطلاح بھی قیام پاکستان سے پہلے لاہوری سیاست کے رنگ میں بھنگ ڈالنے پر ہوئی ۔ مینار پاکستان جہاں قرارداد پاکستان کی منظوری کا سٹیج لگا اور اجتماع ہوا، وہیں سے انتخابی اکثریت کو نہ ماننے اور منتخب اسمبلی کے ڈھاکہ اجلاس میں جانے پر اپنے ہی جماعتی عوامی نمائندوں کے اجلاس میں جانے پر ہڈیاں ٹوٹنے کی دھمکی ملی۔

 اسی اسمبلی کے بائیکاٹ پر پاکستان ٹوٹنے کی راہ نکلی۔ 75 سال بعد آج لاہور کی قومی سیاست پر مسلط نظام بد کی بدیاں سرچڑھ کر اپنا اصل دکھا رہی ہیں۔ عملی سیاست کے دھندوں سے نکلے ایک بڑے ضمنی انتخاب کے اطمینان بخش ہونے اور ہارنے والوں کے قابل تحسین روایت شکن شکست کے تسلیم کے رویےکے بعد بھی، زر کے زور پر سیاسی زرداری سے لاہور کے پنج ستارہ ہوٹل میں لگے عوامی نمائندوں کی خرید و فروخت کی خبریں سوشل ہی نہیں مین اسٹریم میڈیا میں بھی بھری پڑی ہیں۔ 

اصلی جمہوریت اور حقیقی آزادی کی طرف مائل ووٹر خصوصاً سخت شرمندہ اور مضطرب ہیں کہ ہمارے خوبصورت اور تاریخ ساز شہر میں کئی سال بعد پھر گندی سیاست کے گٹر کیوں کھول دیئے گئے۔ کس نے کھولے؟ یہ سوال ہی نہیں، جواب سچے یقین کے ساتھ ہر کسی کو پتہ ہے۔ پیپلز پارٹی جس نے لاہور شہر کو اپنا سیاسی قلعہ بنا کر اپنی 52 سالہ سیاست کا آغاز کیا تھا کے رہبر و رہنما اب لاہور کے ایک پوش علاقے میں ایک قلعہ نما گھر کے مالک ہیں۔ جہاں عوام کا گزر ہوتا ہے نہ وہ یہاں رہتے ہیں۔

 لیکن پارٹی کے ’’روحانی‘‘ قائد آصف زرداری تحریک انصاف میں پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے انتخاب میں جو آج ہی ہوا چاہتا ہے اپنے شہرہ آفاق زردارانہ کردار کے ساتھ میڈیا کی خبروں میں چھائے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے اس کردار سے نئے منہ بولے بیٹے حمزہ کو تحریک انصاف کے امیدوار پنجاب میں روایتی سیاست کے بڑے چودھری پرویز الٰہی کے مقابل اپنے مخصوص اور جانے مانے شاطرانہ و زردارانہ کردار سے سب سے زیادہ سرگرم ہیں۔ حالانکہ آج پاکستان کا اپنا میڈیا خود زرداری سیاست اور ن لیگ کا ایک دھڑا بار بار خبردار کر چکا ہے کہ اس آلودہ سیاست سے دور رہا جائے، لیکن زرداری اپنی چال ڈھال منواتے ہوئے پنجاب کی سیاست تو کیا مرکز میں بھی لنگڑی بطخ کےمانند حکومت ایک سال مسلط کرنے پرآمادہ کرکے زرداری سیاست کے فاتح بن چکے۔ 

لاہوری کیا پورا پنجاب جس میں صوبے کی تینوں سیاسی زونز سنٹرل اور جنوبی پنجاب، پوٹھوار ریجن انتخابی عدالت سے اس بازاری سیاست کی تنسیخ کرنے اور حقیقی جمہوریت کے حق میں عوامی عدالت سے فیصلہ دے چکے۔ آج عمران خان کا فوری الیکشن کا مطالبہ ان کے دسیوں بڑے جلسوں کا بڑا مطالبہ ہے۔ جس کی مزاحمت جان کنی میں مبتلا اسٹیٹس کوکی قوتیں عوامی تائید کے مقابل کررہی ہیں۔ افسوس اور تشویش یہ ہے کہ اس مزاحمت پر خبردار 1940 کی طرح کوئی ہندو یا غیر میڈیا نہیں پاکستان کا ہر جمہوریت اور پاکستان دوست کر رہا ہے۔ لیکن مزاحمت پورے زور سے جاری۔ دیکھئے آج شہر قرار داد میں قومی سیاست کیا رنگ پکڑتی ہے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔