Geo News
Geo News

Time 01 اگست ، 2022
بلاگ

بارشوں سے تباہی

بارش اللہ کی رحمت ہے۔ یہ رحمت صرف ہمارے ہاں ہی نہیں دنیا کے بہت سے شہروں میں زحمت بن جاتی ہے۔ ہمارا میڈیا کراچی میں بارشوں سے نقصان کا ذمہ دار سندھ حکومت کوٹھہراتا ہے حالانکہ پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی بارش ہوتی ہے راولپنڈی شہر ہو یا اسلام آباد، اس بار بارشوں میں ہر جگہ تباہی نظر آئی مگر بعض اخبارات یا میڈیا پر نظر ڈالیں توصرف کراچی کی بارش پرہنگامہ ہواتا نظر آتا ہے۔ 

آخر کیوں ؟جولائی کے مہینے کے پہلے ہفتے میں ہونے والی موسلادھار بارشیں، گزشتہ 30 سال کی اوسط سے دگنی ہیں اور ان بارشوں نے گزشتہ 30 سال کے تمام ریکارڈ توڑ د یئے ہیں، اس سال مون سون کے موسم نے ابتدا ہی میں جانوں اور املاک کا نقصان کر کے تاریخی تباہی مچائی ہے جس کی وجہ سے انسانی جانیں اور املاک ہی نہیں بلکہ معیشت کی بھی تباہی ہوئی ہے۔ اس سال پورے پاکستان سے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق بارش نےغالباً سینکڑوں افراد کی جان لے لی ہے۔

 پی پی پی کی سینئر اور وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمٰن نے بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں خبردار کیا کہ یہ صرف معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کے سیزن کا آغاز ہے جو گلوبل وارمنگ کی وجہ سے شروع ہوا ہے، اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے پالیسیاں بنانے اور اقدامات کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

 انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ حکومتی ہدایات پر عمل کریں تاکہ جانوں کے ضیاع اور املاک کے نقصان سے بچاجا سکے۔ کافی عرصے سے موسمیاتی تبدیلیوں اور ان کے نتائج سےعوام کو آگاہ کیا جا رہا ہے۔ یہ درست ہے کہ گلوبل وارمنگ کی وجہ سےتیز بارشیں اور سیلاب آرہے ہیں لیکن گزشتہ چند ہفتوں میں ہونے والی تمام ہلاکتوں اور تباہی کو صرف اسی رجحان سے منسوب کرنا ناانصافی ہوگی۔ اس کی ایک وجہ بیڈ گورننس بھی ہے۔ ہمیشہ کی طرح وزراء اور متعلقہ حکام مکمل تباہی کے بعد ہی متحرک ہوئے جو صرف ہدایت دیتے ہیں اور ان لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جو ان کی غفلت کی وجہ سے تباہی کا شکار ہوتے ہیں۔

 یہ حادثاتی نہیں ہے کہ سب سے زیادہ جانی نقصان دریاؤں یا نالوں کے آس پاس ہوا ہے۔ بلوچستان میں جہاں 39 افراد ہلاک اور 35 زخمی ہوئے، حالات سے واقف افراد بتاتے ہیں کہ ان میں سے زیادہ تر لوگ ناقص تعمیر شدہ، دریا کے ڈیموں کے قریب، گھروں میں رہتے تھے، جن میں بارش کے پانی کی وجہ سے اضافہ ہوتا ہے۔ راولپنڈی شہر میں، نالہ لئی، جو کبھی اسلام آباد میں میٹھے پانی کا ایک نالہ تھا، جو دارالحکومت کے بارش کے پانی کے ساتھ ساتھ اس کے کچھ کچرے کو بھی نیچے لے جاتا ہے، اس نالے نے بھی کئی جانیں لے لیں کیونکہ اس کے کناروں پر لوگوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔

 گزشتہ بدھ کو ایک المناک واقعہ میں ایک شخص تین بچوں کو بچانے کی کوشش میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا۔ اس سے قبل اسی طرح کے ایک واقعے میں ایک شخص چار بچوں کو بچانے کی کوشش میں اسلام آباد کے کورنگ نالے میں ڈوب گیا، تاہم خوش قسمتی سے اسے بحریہ کے غوطہ خوروں نے بچا لیا۔ اب تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سندھ میں دریا کے کناروں پر رہنے والے لوگوں کو کوئی نقصان پہنچا یا نہیں۔

 تاہم کراچی میں ہمیشہ کی طرح طوفانی نالے کچرے سے بھرے رہے جس کے نتیجے میں شہر بھر کی سڑکیں اور رہائشی علاقے زیرآب آگئے، کراچی کے نالوں میں گند اور غلاظت پھینکنے کا رواج عام ہے اور پھر لوگ حکومت سے امید کرتے ہیں کہ وہ بارش سے پہلے نالے صاف کرے۔

 کراچی تا خیبر بارشوں سے ہونے والی تباہی واضح طور پر موسمیاتی تبدیلی اور کمزور حکمرانی کا ایک مجموعہ ہے جو بہت زیادہ اموات اور تباہی کا باعث بن رہی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہر چیز کا الزام گلوبل وارمنگ پر نہ ڈالیں۔ یقینی طور پر عوام کو آنے والی آفات کے بارے میں آگاہ کرنا ضروری ہے لیکن یہ ناکافی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ نالوں اور ندیوں پر گھر بنانے اور ان میں کچرا ڈالنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور بڑے شہروں میں نکاسی آب کا منظم انتظام کیا جائے جو اس طرح کے واقعات کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہو۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔