Geo News
Geo News

بلاگ

زمانہ بدل گیا، آئیں! ہم بھی بدلیں

گزشتہ سے پیوستہ

پی ڈی ایم کی روایتی سیاسی مار دھاڑ سے قوم کیلئے مجموعی سیاسی و معاشی بحران میں بھی جاری قابل قبول و فہم جاری آئینی عمل میں چلتی عمران حکمت کواکھاڑنے کیلئے’’کامیاب‘‘ تحریک عدم اعتماد کے عوامی ردعمل میں زیر بحث مسلط نظام بد ( اسٹیٹس کو) کی انتہائی شکل مکمل بے نقاب ہو گئی ۔ مین اسٹریم میڈیا کے پروفیشنل فریم میں سنگین حالات حاضرہ کی معمول کی عکاسی کے متوازی اس (گھمبیر صورتحال) کی اصلیت کا پردہ آزاد و بیباک، سچے اور جھوٹے، ذمے دار اور غیر ذمے دار ،منظم مگر پھیلے اور بے قابو سوشل میڈیا نے چاک کر دیا اور ایسا کیا کہ ظہور پذیر قومی ضروریات کو پورا کرنے کا بڑا سامان بن گیا۔

 اس نئے تشکیل پذیر قومی ابلاغی بہائو ( نیشنل کمیونی کیشن فلو) نے دو بڑی اور فوری قومی ضرورتوں یا چیلنجز کی نشاندہی کی ۔ذہن نشین رہے کہ یہ ضرورت اور چیلنج قومی ہے تو اسے پوری قوم نے ہی ملکر پورا کرنا اور نپٹنا ہے بیمار ریاستی ادارے اور روایتی ہو گئے مقتدر ریاستی ایکٹرمیں یہ سکت نہیں رہی کہ وہ اس کار خیر و عظیم میں تنہا یا ’’اتحاد‘‘ اور ایک پیج کو اپنا عاقلانہ حل سمجھ کر اسے انجام دینے کی کسی مزید مہم جوئی کا مرتکب ہو جو کچھ ہو گاشیئرڈ ہو گا اور سب سے بڑا شیئر عوام الناس کا ہی ہوگا جس نے نیا قومی ابلاغی دھارا خود اجتماعی شعور ، کاوش اور بروقت شروع کئے عمل مسلسل سے متذکرہ دو فوری قومی ضرورتوں اور ایک کے تو یقینی اور واحد حل کی بھی نشاندہی کی ہے اور کر رہے ہیں ۔

یہ ثابت شدہ ہے کہ ’’نئے پاور فل سیکشن آف سوسائٹی‘‘ کے اعلیٰ قومی کردار سے جن جملہ چیلنجز اور ضروریات اور عمل کی نشاندہی کے ساتھ ان سے نپٹنے اورپورا کرنے کا جو دبائو بھی شروع ہوا ہے اس میں تسلسل ہے، جو ناجائز دولت اور بیرونی اثرات کے حربوں اور دبائو سے منقطع ہو سکے گا نہ روایتی حکومتی و سیاسی ہتھکنڈے اسے دبا سکیں گے اس کی لچک بے پناہ ہے اتنا ہی یہ ابھرے گا جتنا کہ دبا ئیں گے۔

پوسٹ عمران رجیم میں بلاتاخیر عوام الناس نے پی ڈی ایم کی حکومت کی تشکیل سے بھی قبل جنگی بنیاد پر مطلوب جس قومی ضرورت کی نشاندہی کی وہ بحال ہو ئی ہارس ٹریڈنگ کے ہتھکنڈے کے مقابل ایک مکمل آئینی اور صحت مند سیاسی عمل کا آغاز ہے ۔ حل کے طور پر یہ بھی بشکل مطالبہ واضح کیا کہ یہ شفاف قومی انتخاب کا بلاتاخیر انعقاد ہے یہ عوامی مطالبہ عمران حکومت گرتے ہی بغیر کسی رسمی اپیل و روایتی اہتمام کے ان ملک گیر شہر شہر اور قریہ قریہ ہونے والے ان غیر روایتی مظاہروں ریلیوں میں اٹھایا گیا جس سے بلند درجے کا حوصلہ پاکر عمران خان نے کمال برجستگی اور سرعت سے فوری بغیر پارٹی مدد کے ازخود عوام رابطے کا پروگرام ترتیب دیا جو عوام نے ان کی حکومت ختم ہوتے ہی اٹھادیا۔

درجن بھر جلسوں میں ایک سے ایک کامیاب بیان کا آغاز اسی قومی ضرورت کے مطالبے کی تشریح اور اہمیت کو واضح کیا اور اسے بڑی کامیابی سے قومی مطالبے اور ضرورت میں تبدیل کر دیا ۔ن لیگ کے ’’ذمے دار ذرائع ‘‘ کا دعویٰ ہے کہ بذریعہ عدالت پارٹی قیادت سے محروم ہوئے لندن سدھارے قائد لیکن اب بھی اصلی اور بڑے رہبر و رہنما بھی یہ ہی چاہتے ہیں کہ جلد پارٹی کے ملک میں جیسے تیسے سرگرم لیکن ڈیزاسٹر بنی حکومت میں پھنسے ن لیگی دھڑے کو بھی اقتدار کے پڑے پھندے سے نکال کر عوامی رابطے کے میدان میں اتار کر اپنی پوزیشن بحال کریں لیکن عملاً ایسا نظر نہیں آ رہا ۔کیا مریم صاحبہ اور کیا وزیر اعظم اور ڈیزاسٹر پر ڈیزاسٹر سے اپنی اصل سیاست کا آغاز کرنے والے صاحبزادے اپنے ابلاغ میں انتخابی عدالت سے بچ کر ہر حال میں زیادہ سے زیادہ اقتدار سے چمٹے رہنے کا واضح تاثر دے رہے ہیں ۔

ان کے اس انداز سیاست اور بنتی عوامی رائے سے ن لیگ کا اپنا خسارہ اور عمران خان کی خود ن لیگ کی جانب سے ہونے والی سیاسی کمائی کی نشاندہی ہو رہی ہے۔ عجب یہ ہے کہ پی پی اور مولانا صاحب ن لیگی کندھے پر سوار، الیکشن ہار کر بھی کچھ نہ کچھ کھانے کمانے کے مزے لے رہے ہیں لیکن اب کم بخت اتحادی سیاست کے سوا گزارا بھی نہیں ۔اتحاد کی تانگہ سوار پارٹیوں نے بھی اپنی جائے پناہ پی ڈی ایم کو ہی بنا لیا۔

اس سے تنہا عمران کا امیج اور بڑھ رہا ہے لیکن یہ سب کچھ اب چلے گا ۔پی پی تو نہ سمجھی ہے نہ سمجھے گی ۔اس کی رجعت و روایت پر اڑے رہنے کے دس دلائل اس کے پاس۔ ن لیگ نئے زمانے کی آمد کو سمجھ ہی نہیں پا رہی اس کی چالیں تو کیا سمجھے گی لیکن چال اب ملک کے ساتھ ساتھ عمران اور ن لیگ اور اتحادیوں کے پاس روایت نہیں شفاف الیکشن کے سوا کوئی اور ہے ہی نہیں کہ نئی راہ اور آئین نو پر کسی پارٹی نے نہیں عوام نے پارٹیوں کو چلنے کی راہ دکھائی ہے، جو پی ٹی آئی نے تو اختیار کرلی۔ اسٹیٹس کو جتنا بھی طاقتور ہے ،لیکن وہ عوام کا دکھایا اور اختیار کیا یہ راستہ بند کر سکتا ہے نہ اس میں رکاوٹیں کھڑی کرسکتا ہے، کرے گا تو ہر رکاوٹ کی ناکام کوشش کے ساتھ نظام بد شکستہ ہوتا جائے گا۔

قومی اقتصادی بحران کی سنگینی کو قابو میں لانے، مشکل ترین وقت گزارنے ،اس کا حقیقی حل اب موجودہ ریاستی سیٹ اپ کی سوچ میں ہے اور نہ متاثر کرنے کی روایتی صلاحیت کی حامل کوئی قوت اس میں کوئی نتیجہ خیز معاونت کر سکتی ہے ۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں سے باہر ریاستی معاشی نظام کی باریکیوں کو سمجھنے والے ماہرین اقتصادیات کی کوئی کمی نہیں ۔الگ بات ہے کہ ان کا کیلیبر اور شخصی مزاج انہیں دھماچوکڑی سیاست و ریاست کی طرف آنے سے روکے ہوئے ہے۔ان کی اجتماعی اقتصادی دانش اور تجربہ آخر کب ملک کے کام آئے گا ؟

ہمارے بہت سے تھنک ٹینکس محدود ہی سہی صلاحیتوں کے ساتھ سرگرم ہیں۔ عوام میں شامل بہت سے غیر منظم اور بکھرے اکنامک جینئس کی تجاویز ٹی وی ٹاک شوز پر ہوائی حل ثابت ہو رہی ہیں ۔انہیں اکٹھے کرنے اور دو تین چار ہفتے کی دماغ سوزی کا کوئی اہتمام ناگزیر ہو گیا ہے یہ وہ فوری قومی ضرورت ہے جو آزادی و خودمختاری اور بین الاقوامی تعلقات کی قدروں اور کامیاب خارجہ پالیسی کے توازن سے ہی ہونا ممکن ہے۔ یہ بھی وہ عوامی رائے ہے جو پہلی مرتبہ ملک کے شفاف سیاسی عمل کو صحت مند اور مطلوب ملکی معاشی پوزیشن لینے کی نشاندہی مسلسل کر رہی ہے ۔جملہ اسٹیک ہولڈرز ایک دو نہیں اعلیٰ تعلیم یافتہ صنعت کار اور تاجروں سے لیکر ریاستی معیشت کے کوالیفائیڈ پاکستانیوں کو ،خواہ وہ کہیں ہیں، رابطے میں لاکر جنگی بنیاد پر قابل عمل قومی معاشی حکمت عملی پر عملدرآمد کا روڈ میپ تیار کرنا ہماری ہنگامی ضرورت ہے جس کی نشاندہی عوام نے کرتےہوئے ایک ہی قومی اکنامک پلان اور صحت مند سیاسی عمل کو ناگزیر قرار دیا ہے متعلقین اپنا کردار ادا کریں۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس

ایپ رائےدیں00923004647998)


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔