04 اگست ، 2022
اس مملکتِ خداداد میں ایک ہی تو صادق اور امین تھا، ایک ہی تو تھا نہ بکنے والا نہ جھکنے والا، ایک ہی تو تھا قومی غیرت کا استعارہ، حریت کا ہمالہ، سامراج دشمن، حقیقی آزادی کا داعی، امپورٹڈ حکومتوں کا منکر، لیکن اب خبر آئی ہے کہ یہ سب زیبِ داستاں کے لیے تھا، یہ کہانی گھڑی گئی تھی، ایسا کچھ بھی نہیں تھا،یعنی’’میں تے مذاق کیتا سی‘‘۔اور اب سادہ دل عشاق بقول شاعر’’ حیرت زدہ کھڑے ہیں کہ جانا کدھر کو ہے.... وہ نقشِ پائے یار تو برسات لے گئی۔‘‘
پاکستان الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آٹھ سال بعد سنا دیا، اکبر ایس بابر نے جو الزامات پی ٹی آئی چیئرمین پر عائد کئے تھے کمیشن نے ان کی تصدیق کر دی، باہر سے ممنوعہ فنڈنگ آئی ہے، افراد سے بھی اداروں سے بھی، جس میں غیر ملکی بہ شمول ہندوستانی بھی شامل ہیں، عارف نقوی کی منی لانڈرنگ میں ملوث کمپنی ابراج سے بھی عطیات آئے ہیں، 13 نامعلوم اکاؤنٹس بھی سامنے آئے ہیں، اور یہ کہ عمران خان نے پارٹی اکاؤنٹس سے متعلق اپنے حلف نامے میں جھوٹ بولا ہے۔
کمیشن نے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا، کمیشن نے باقی کارروائی کے لیےفیصلہ وفاقی حکومت کو بھجوا دیا ہے۔ غالباً 2016 کی بات ہے، حنیف عباسی نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ عمران خان نے پارٹی فنڈنگ کے حوالے سے جھوٹا حلف نامہ داخل کروایا ہے لہٰذا انہیں آئین کی شق باسٹھ ون ایف کے تحت نا اہل کیا جائے، جس پر سپریم کورٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ پابندی اسی صورت میں ممکن ہے کہ پہلے پاکستان الیکشن کمیشن اس بات کی تصدیق کرے کہ پارٹی نے ممنوعہ فنڈنگ وصول کی ہے۔می لارڈ، اب الیکشن کمیشن نے تصدیق کر دی ہے، اب کیا حکم ہے؟اگرحکومت یہ ریفرنس بھیجتی ہے تو کیا یہ کیس بھی عدالتِ عظمیٰ ہی سنے گی؟
اس سے جُڑی ہوئی فنانشل ٹائمز کی خوف ناک خبر سن لیجیے جس میں عمران خان پر سنگین تر الزامات لگائے گئے ہیں، مختصراً، اخبار کہتا ہے کہ عمران خان کو مسٹر پاشا نے عارف نقوی، ہندو تاجروں اور ایک ملک کے طاقت ور شہزادے سے ملوایا، جنہوں نے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے عمران خان کو فنڈنگ دی، مقاصد میں سی پیک کو روکنا اور گوادر کے منصوبے کو ترک کرنا بھی شامل تھا، اور یہ کہ عمران خان کو ابراج نے منی لانڈرنگ کا پیسہ بھجوایا تھا۔
یاد رہے کہ عارف نقوی انگلستان میں قید ہے، جب کہ امریکا منی لانڈرنگ کیسز میں اس کی حوالگی چاہتا ہے ۔ عارف اگرسال کے آخر میں امریکا کے حوالے ہو جاتا ہے تو تحقیقات میں عمران خان کاذِکر خیر بھی متوقع ہے۔ کچھ اصحاب تو عمران کے امریکا مخالف بیانیہ کو آنے والے اسی خطرے کی پیش بندی بتاتے ہیں۔یہ سیدھا سادہ پاکستان کے مفادات کو زک پہنچانے کا کیس ہے ( اس ضمن میں ڈاکٹر اسرارؒ اور حکیم سعیدؒکی تنبیہات مدتوں یاد آتی رہیں گی)۔
قانون کو اپنا راستہ خود ڈھونڈنا ہے، مگر یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ ہمارے جیسے کمزور اور بے اعتبار اداروں والی ریاست میں کسی مقبول سیاست دان کیخلاف عدلیہ کے فیصلے عوامی سطح پر تسلیم نہیں کیے جاتے رہے، اداروں کی ساکھ ہوتی تو اور بات تھی۔اگر طاقتور لوگ جوئے سیاست کو اپنے فطری بہاؤپہ بہنے دیتے تو ہم آئین کے بادبان تلے، معاشرے کی کشتی کھیتے محفوظ ساحلوں کی اور بڑھتے رہتے، مگر ایسا نہیں ہوا۔
مقتدرہ مقبول سیاستدانوں سے چڑتی رہی، جھوٹے مقدمے بنتے رہے، عدلیہ اور قانون بے اعتبار ہوتے چلے گئے۔حسین شہید سہروردی اور باچا خان سے ذوالفقار علی بھٹو تک، درجنوں قومی رہنماؤں پر بے سروپا کیسز بنائے گئے، کوئی سرِدار کھینچا گیا، اکثر عقوبت خانوں میں دھکیل دیے گئے، مگر وقت سب سے بڑا منصف ٹھہرا، وقت نے ان سب کو باعزت بری کر دیا۔
نواز شریف کا کیس اس ضمن میں بہترین مثال ہے، کبھی اسے ہائی جیکر قرار دیا گیا اور کبھی بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر اسے جھوٹا اور خائن بتایا گیا، وزارتِ عظمیٰ سے نکال دیا گیا، پارٹی صدارت سے ہٹایا گیا، جیل کی کوٹھڑی میں ڈالا گیا،اور آج بھی اس کی تصویر اور آواز میڈیا پہ دکھانا ممنوع ہے۔ ۔خود سر سیاستدانوں کو سبق سکھانے کیلئے اداروں نے ہماری تاریخ میں اتنا جھوٹ بولا ہے کہ اب اگر وہ کسی سچ مچ کے مجرم کو بھی سزا دیں توکوئی نہیں مانے گا، اور یہی ایک بات عمران خان کے حق میں جاتی ہے۔
یہ گزشتہ75 سال کی گرہیں ہیں، پلک جھپکتے نہیں کھل سکتیں، مگر کہیں سے تو آغاز کرنا ہو گا۔ اب ہم محترمہ فاطمہ جناح کوایوب خان کے خلاف صدارتی انتخاب تو جتوا نہیں سکتے نہ بھٹو صاحب کو واپس لا سکتے ہیں، مگر نواز شریف ابھی حیات ہیں، ہم ان کے خلاف مضحکہ خیز کیسز واپس لے کر ان کی پاکستان باعزت واپسی کا راستہ ہموارکر سکتے ہیں، یہ ایک نارمل ریاست بننے کی طرف پہلا قدم ہو سکتا ہے۔
سیاست دانوں کو لیول پلئینگ فیلڈ دیجیے اور پیچھے ہٹ جائیے، ورنہ جو بچا ہے وہ بھی لُٹ جائے گا، جب تک کھیل تماشہ ہو سکتا تھا، ہوتا رہا، اب اس کی گنجائش نہیں رہی۔وینڈی شرمن کو آرمی چیف کا ٹیلی فون ریاست نہیں بچا سکتا، سپریم جوڈیشل کمیشن میں منصفوں کا رویہ ریاست کی مضحکہ خیز صورتِ احوال کا ثبوت ہے، بلوچستان میں لاشیں بہہ رہی ہیں، بچوں کی لاشیں، اور ریاست جسٹس (ر) جاوید اقبال کو بچانے میں مصروف ہے۔بس کر دو میرے بھائی، بس کر دو! آئین سے کھلواڑ کرنے والی قومیں ایک دن یوں ہی اقوامِ عالم میں مذاق بن جاتی ہیں۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔