Geo News
Geo News

بلاگ

ق لیگ بمقابلہ مونس الٰہی

ق لیگ کی سیاست میں سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، پارٹی میں فیصلے پارٹی صدر اور بڑے بھائی چوہدری شجاعت حسین اور چھوٹے بھائی چوہدری پرویز الٰہی کی مشاورت سے ہورہے تھے، یہی وجہ تھی کہ دونوں بھائیوں کی سیاست کی شاندار سمجھ بوجھ کے سبب ق لیگ صرف پانچ قومی اور دس صوبائی اسمبلی کے ارکان کی قلیل تعداد کے باوجود وفاق میں دو اہم وزارتیں جب کہ صوبہ پنجاب میں اسپیکر جیسے اہم عہدے اور چند وزارتوں کے ساتھ اقتدار کے مزے لوٹ رہی تھی۔

اہم بات یہ تھی کہ ماضی میں عمران خان، پرویز الٰہی کو پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہا کرتے تھے لیکن چوہدری برادران کی کامیاب سیاست کے سبب انہوں نے نہ صرف چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب میں اسپیکر جیسا اہم عہدہ دیا بلکہ مخالفت کرنے کے بعدبھی مونس الٰہی کو عمران خان نے اپنی حکومت کے آخری چھ ماہ میں آبی وسائل جیسی اہم وزارت بھی سونپ دی تھی۔

وفاقی وزارت ملنے کے بعد نہ جانے کیوں وہ عمران خان پر اس قدر مہربان ہوئے کہ عمران خان کے اقتدار کے آخری دنوں میں ہچکولے کھاتی تحریک انصاف کی حکومت کو اپنی پارٹی ق لیگ کی پالیسی کے برخلاف ذاتی حیثیت میں ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کرواآئے جب کہ حقیقت یہ تھی کہ ق لیگ عمران خان کی حکومت کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد میں عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ کرچکی تھی۔

پھر یہی ہوا کہ عمران خان کی حکومت کو تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرنا پڑا جس میں ق لیگ اورایم کیو ایم سمیت کئی اتحادیوں نے عمران خان کا ساتھ چھوڑ دیا، جس سے تحریک انصاف کو شکست ہوئی اور اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے، مونس الٰہی غالباًعمران خان کی حکومت کے خاتمے سے خوش نہ تھے یا پھر عمران خان سے کئے گئے اپنے وعدوں کے ٹوٹنے پر دلبرداشتہ تھے۔ 

بہرحال ، وفاق میں میاں شہباز شریف کی قیادت میں پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہوئی تو ق لیگ نے پارٹی فیصلے کے تحت پی ڈی ایم اتحاد کا ساتھ دیا جس کے بعد ق لیگ کو وفاق میں ایک بار پھر دو وزارتیں مل گئیں، اس بار طارق بشیر چیمہ کے ساتھ چوہدری سالک حسین نے وفاقی وزارت سنبھالی ، پھر بات آئی پنجاب سے تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کی تو پی ڈی ایم کی پوری قیادت جس میں آصف زرداری ،شہباز شریف، مولانا فضل الرحمٰن سمیت تمام اہم سیاسی شخصیات شامل تھیں ،تحریک انصاف حکومت کے خاتمے کی کوششوں میں مصروف تھیں۔

اسی سیاسی بھاگ دوڑ کے نتیجے میں ق لیگ نے وفاق کے بعد صوبہ پنجاب میں بھی پی ڈی ایم کی اصولی حمایت کا فیصلہ کیا ، دو دہائیوں بعد میاں شہباز شریف چوہدری شجاعت حسین اور پرویز الٰہی سے ملاقات کے لیے ان کے گھر گئے ، میاں نواز شریف نے بھی چوہدری شجاعت حسین کو فون کیا اور ان کی خیریت دریافت کی اور پھر متفقہ طور پر چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کیلئے پی ڈی ایم کا متفقہ امیدوار نامزد کیا گیا ۔ یہ بات یقینی ہوگئی تھی کہ اگلے چند دنوں میں چوہدری پرویز الٰہی پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔

لیکن پھر اگلی صبح اسلام آباد میں چوہدری شجاعت کی رہائش گاہ پر پرویز الٰہی بھی موجود تھے کہ اچانک مونس الٰہی نے پرویز الٰہی کو عمران خان سے ملاقات کیلئے رضا مند کر لیا ،چوہدری شجاعت کو آگاہ کیا کہ عمران خان سے الوداعی ملاقات کے لیے جارہے ہیں ،چوہدری شجاعت نے کہا جائو لیکن کوئی ایسا کام کرکےنہ آنا جس سے شرمندگی ہو ، اس ہدایت کے نصف گھنٹے بعد ہی عمران خان ، پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کی ملاقات کی خبریں تمام ٹی وی چینلز پرنشر ہونا شروع ہوگئیں جس میں چوہدری پرویز الٰہی کو تحریک انصاف کا اگلا وزیر اعلیٰ نامزدکرنے کااعلان کیا گیا تھا۔

چوہدری شجاعت پرویز الٰہی کو ق لیگ کی جانب سے تحریک انصاف کا نہیں بلکہ پی ڈی ایم کا وزیر اعلیٰ بنانا چاہتے تھے لیکن وہ اب تحریک انصاف کی جانب سے وزیر اعلیٰ بن چکے ہیں، چوہدری شجاعت چاہتے ہیں کہ سیاسی اختلافات خاندانی اختلافات کا سبب نہ بنیں ،یہ حقیقت ہے کہ سیاست اور اقتدار کے اس کھیل نے ق لیگ اور چوہدری خاندان کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں ۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔