Geo News
Geo News

بلاگ

75 سالہ پاکستان کا پورا سچ

(گزشتہ سے پیوستہ)

قائداعظم اور لیاقت علی خان جیسی اہل اور وطن ساز کھری عوامی قیادت سے محرومی اور مکمل سیاسی عدم استحکام کا پس منظر لئے 11 سالہ مارشل لا اور فرد آہن کا ایوبی دور، عوام میں خوشی اور اطمینان کی واضح لہر سے شروع ہوا۔ 

البتہ مشرقی و مغربی پاکستان کےسیاسی رہنماؤں اور کارکنوں میں اس کی قبولیت کے درجے میں فرق صاف ظاہر تھا۔ ہمارے بنگالی بھائی مغربی پاکستان سے زیادہ سیاسی طور پر باشعور اور جمہوری تھے۔ سو ان میں نفاذ مارشل لا کی عدم قبولیت کا درجہ مغربی پاکستان کے اس طبقے کے مقابل زیادہ تھا،لیکن ایوب خان کو مطلوب سول سپورٹ ملنے میںکوئی مشکل پیش نہ آئی خصوصاً مسلم لیگی ذہن کا غالب دھڑا تو نفاذ مارشل لا پھر اس کی سول معاونت کا موثر تائیدی ثابت ہوا۔

 مارشل لا کے ساڑھے تین سال کے بعد جب رجیم نے سول، ملٹری عہد کی شکل اختیار کی (واضح رہے ایوب خان، فیلڈ مارشل کی حیثیت میں افواج کے سپر یم کمانڈر بدستور رہے) تو حکمراں جماعت کا روپ دھارنے والی کنونشن مسلم لیگ کے سربراہ تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن چوہدری خلیق الزماں بنے۔ خالصتاً مارشل لا کے اولین برسوں میں بھی، جنرل اعظم جیسے مشرقی پاکستان کے عوام مارشل لا ایڈمنسٹریٹر نے بنگالی بھائیوں کو بھی (ایٹ لارج) نفاذ مارشل لا ہضم کر ا ہی دیا۔

 انہو ں نے مغربی پاکستان ہی کی طرح ایوب خان (فرد واحد)کے آئین 1962کی بڑی اختراع بیسک ڈیمو کریسی کی انتخابی حکومتی بنیاد کو اس حد تک قبول کرلیا تھا کہ اس سے مارشل لا اور اس کی سول حکومتی معاونت سے ایک ایسا محدود سیاسی عمل شروع تو ہوگیا جس سے پہلے عشرے کے مقابل جلد جلد وزیر اعظم کی تبدیلی سے پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام کے برعکس ملک میں بظاہر سیاسی استحکام اور ٹھہرائو پیدا ہوا۔ اگرچہ ایوبی آئین 1962 میں مضبوط مرکز کی اپروچ اور اس کی عملی شکل ون یونٹ (بشکل چار صوبوں کی بجائے مغربی پاکستان کا ایک صوبہ) نے دونوں صوبوں (مشرقی اور مغربی)کی اپوزیشن میں سخت متنازعہ اور صوبائی خود مختاری سے متصادم ایک بڑا اور مسلسل قابل تنقید مسئلہ بنا دیا، لیکن ان کو عوام میں اس کی پذیرائی کوئی زیادہ نہیںملی۔ وجہ صاف ظاہر تھی کہ ایک تو سیاسی سازشی اور نحیف حکومتی ماحول ختم ہوا، دوسرے صنعتی و زرعی ترقی اور عوامی خدمات کی بڑی تعداد میں ادارہ سازی کا یہ عشرہ آمریت کے دور رس منفی نتائج کو مدہم کرکے بیسک ڈیموکریسی کے عمل میں گلی محلے کی سطح پر عوام الناس کو انگیج کرنے میں کامیاب ہوا تھا۔

 اپوزیشن نے اس کا کوئی بائیکاٹ نہ کیا تھا بلکہ 80 ہزار بی ڈی ممبران (ہر دو صوبوں میں چالیس چالیس ہزار بعد میں یہ تعداد ایک لاکھ 20 ہزار کردی گئی)کے ملک گیر انتخابات میں اپوزیشن جماعتوں کے امیدوار حکومت کے مقابل مکمل سرگرم ہوئے۔ نچلی سطح پر اس جماعتی جمہوری ماحول کیساتھ مضبوط مرکز میں فرد واحد کی آمریت اپنا غیر جمہوری رنگ مسلسل دکھاتی رہی لیکن نتیجہ خیز ترقیاتی اقدامات اور بعض شعبوں کے اصلاحاتی عمل نے 1956کے متفقہ آئین کی بحالی کے اپوزیشن مطالبے کو قائم تو رکھالیکن عوام میں مقبول نہیں ہونے دیا۔

 اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ امریکہ سے جدید ترین پولیٹکل سائنس کے تعلیم یافتہ بھٹو جیسے جواں سال نومولود سیاست دان اس وقت ایوب خان کے حقیقی لاڈلے تھے اور کتنے ہی وہ سیاسی دانشور جنہوں نے پیپلز پارٹی قائم کرنے میں کردار ادا کیا اس کے تائیدی بنے، ایوبی عہد کے موثر معاون بنے رہے، اولین برسوں میں تو انتخاب 1966میں ایوب خان کے مقابل صدارتی امیدوار بننے والی مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح بھی ایوبی دور شروع ہونے پر اس کی خاموش یا نیم تائیدی تھیں۔

 زرعی و صنعتی انقلاب اور ادارہ سازی کے ساتھ ساتھ پریس اینڈ پبلیکشنز آرڈی ننس،1962کئی آزاد و اخباری اداروں کو حکومتی تحویل میں لے کر نیشنل پریس ٹرسٹ کا قیام، وقفوں سے اخبارات پر سنسر شپ اور پریشر ٹولز کا استعمال، تواتر سے اپوزیشن لیڈرز اور گستاخ شاعروں اور خطباء کی پکڑ دھکڑ اور انقلابی مزاج کے سیاسی کارکنوں کی قیدو بند اور صعوبتیں، سب سے بڑھ کر انتخابی دھاندلیوں، مشرقی پاکستان سے اٹھنے والی بیوروکریسی اور فوج پر مغربی پاکستانی غلبہ اور بجٹ کے ترقیاتی منصوبوں میں عدم مساوات کی شکایات اور مطالبات نے ملک کے دونوں بازوئوں میں بتدریج اور پھر تیزی سے فاصلہ بڑھانا شروع کردیا۔ یہ بھی درست ہے کہ اس کا ناجائز فائدہ بھارت اٹھانے میں چوکس تھا۔ نئی دہلی یونیورسٹی کے ہندو پروفیسروں، طلبہ اور انتہا پسند اینٹی رجیم سیاسی کارکنوں سے مسلسل رابطے قائم کرنے اور دونوں صوبوں میں فاصلہ بڑھانے والے پروپیگنڈے میںکامیاب ہوتا گیا۔

اگرتلہ سازش کیس، بالکل درست اور اس پر ٹریبونل کا قیام باجواز لیکن مجیب الرحمٰن کو عام بنگالیوں میں مقبول بنانے والا مقدمہ تھا۔ 1964 کے انتخاب میں مشرقی پاکستان، کراچی اور حیدر آباد میں شدید احتجاج اور اس پر سرکاری کھلا تشدد ہوا۔ اپوزیشن نے فاطمہ جناح کو ہرانے کا الزام عائد کیا لیکن 1965 کی پاک بھارت جنگ میں ایوب خاںکو پوری اپوزیشن کی حمایت سے ان کی سیاسی پوزیشن وقتی طور پر سنبھل گئی،بلکہ مغربی پاکستان میں ایٹ لارج اور بہت حد تک مشرقی پاکستان میں بھی وہ وار ہیرو بنے، لیکن تاشقند کے معاہدے پر وزیر خارجہ بھٹو کے غیر واضح لیکن مسلسل احتجاج اور اس کے فالو اپ میں رجیم کے خلاف شیخ رشید کی قیادت میں راولپنڈی سے شروع ہونے والی طلبہ کی احتجاجی تحریک جب بحالی جمہوریت کی قومی تحریک بنی تو اپوزیشن کے شدید دبائو سے صدر ایوب خان جلد ہی ’’مردبیمار‘‘ بن گئے۔ 

متحدہ اپوزیشن، فرد واحد کے تیارکردہ آئین اور اسکے تحت نظام سیاست و حکومت کے ایوبی ماڈل کی تنسیخ کے مطالبےپرعوامی تائید حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ ڈیمو کریٹک ایکشن کمیٹی کے حکومت سے مذاکرات اور اس سے باہر متوازی بھٹو اور مولانا بھاشانی کی ایجی ٹیشنل سیاست کے دبائو اور مشرقی پاکستان میں اگر تلہ سازش کیس کے خلاف اور ملزم مجیب الرحمٰن کی بڑھتی مقبولیت نے شیخ مجیب کو رہائی تو دلوا دی، وہ ڈیمو کریٹک ایکشن کمیٹی کے مطالبے پر مذاکرات میں بھی شامل ہوئے لیکن بھٹو بھاشانی کے بائیکاٹ اور ایجی ٹیشن سے جمہوریت کی طرف جاتا پاکستان پھر جنرل یحییٰ خاں کے مارشل لاسے دو چار ہوگیا۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔