بلاگ
28 ستمبر ، 2022

LGBT اور ہمارے مدرسے

اگر پاکستان میں ایک سروے کروایا جائے اور عوام سے پوچھا جائے کہ ہم جنس پرستی کا زیادہ رجحان مدرسوں میں پایا جاتا ہے یا گرامر اسکولوں میں تو آپ کے خیال میں کیا جواب آئے گا؟ ہمارے پاس چونکہ ایسے کسی سروے کے نتائج نہیں ہیں اِس لیے ہم اِس سوال کا جواب آپ کے تخیل پر چھوڑ دیتے ہیں۔

 یہ سوال پوچھنے کی نوبت اِس لیے آئی کہ مذہبی طبقات آج کل پھر سیخ پا ہورہے ہیں اور اِس مرتبہ روئے سخن ٹرانس جینڈر قانون کی طرف ہے۔ یہ قانون ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا جس کا مقصد ٹرانس جینڈر طبقے کو استحصال سے بچانا اور معاشرے میں ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں وہ عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ ہمیں چونکہ پڑھنے لکھنے کی عادت نہیں اِس لیےقانون کے چیدہ چیدہ نکات یہاں بتانا ضروری ہیں۔

 یہ قانون ٹرانس جینڈر افراد کو برابری کی سطح پروہ تمام بنیادی حقوق فراہم کرتا ہے جس کی آئین میں ضمانت دی گئی ہے، جیسے کہ تعلیم ، صحت، ووٹ ، احتجاج، وراثت اور عوامی عہدہ رکھنے کا حق، اِس کے علاوہ قانون میں واضح طور پر لکھا ہے کہ ٹرانس جینڈر افراد کو جنسی طور پر ہراساں نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی اُن کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاسکتا ہے۔

 مہذب معاشروں میں یہ تمام حقوق بلا تفریق سب شہریوں کو حاصل ہوتے ہیں لیکن ہم چونکہ غیر مہذب معاشرہ ہیں جہاں خواجہ سراؤں کو محض اِس وجہ سے قتل کردیا جاتا ہے کہ وہ خواجہ سرا ہیں لہٰذا ہمیں یہ باتیں دو ٹوک انداز میں قانون بنا کر لکھنی پڑتی ہیں۔ ٹرانس جینڈر قانون کے خلاف سب سے زیادہ تنقید مذہبی طبقے کی جانب سے کی جا رہی ہے اور اِس تنقید کا محور ٹرانس جینڈر کی وہ تعریف ہے جو قانون میں بیان کی گئی اور جس کی رُو سے کوئی بھی شخص اپنے’ باطنی احساس ‘کی بنیاد پر اپنی جنس کا تعین کر سکے گا اور یوں معاشرے میں ہم جنس پرستی کی راہ ہموار ہوجائے گی۔

 گویا ’مگس کو باغ میں جانے نہ دیجو کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا۔‘خلاصہ اِن کے دلائل کا یہ ہے کہ اگر جنس تبدیل کرنے کا اختیاریوں بانٹ دیا جائے گا تو کل کلاں کو ہم جنس پرستی کے دلدادہ لوگ محض اپنے باطنی احساس کی بنیاد پر نادرا جاکر اپنی شناخت تبدیل کروا لیں گے، یعنی پیدائشی طور پر مرد اپنے شناختی کارڈ میں عورت لکھوا سکے گا اور یوں وہ کسی مرد سے شادی رچا کر LGBT مافیا کے ایجنڈے کو پاکستان میں مسلط کرنے میں کامیاب ہوجائے گا۔ چلیے دیکھتے ہیں کہ اِس دلیل میں کتنا وزن ہے؟

جو لوگ ٹرانس جینڈر قانون پر تنقید کر رہے ہیں انہیں دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ انہوں نے نہ قانون پڑھا ہے اور نہ ہی اِس کے تحت بنائے گئے رولز پر نظر ڈالی ہے جو 16 مارچ 2021 سے نافذ العمل ہیں، اِن رولز میں واضح لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی جنس M سے F یا F سے M کروانے کی درخواست نادرا میں جمع کروائے گا تو نادرا اُس کے شناختی کارڈ پر جنس کے خانے میں X لکھے گا، یعنی باطنی احساس کے تابع اگر کوئی شخص اپنی جنس کا تعین کروانا بھی چاہے گا تو اسے X کی شناخت دی جائے گی نہ کہ اُس کی ’جنس تبدیل ‘ کرکے مرد کو عورت اور عورت کو مرد بنا دیا جائے گا۔

 یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ ایسے میں ہم جنس پرستی کی راہ کیسے ہموار ہوگی اور کیسے ہم نےیہ فرض کر لیا ہے کہ اِس قانون کے بعد لوگ دھڑا دھڑ اپنی جنس تبدیل کروانے اسپتالوں میں پہنچ جائیں گے اور اُس کے بعد آپس میں شادیاں رچائیں گے؟ اگر وہ چاہیں بھی تو یہ ممکن نہیں کیونکہ پاکستان میں نکاح نامہ صرف M اور F کو ہی ر جسٹر کرتا ہے X کو نہیں۔ ویسے بھی ہم نے اپنے معاشرے میں ٹرانس جینڈر افراد یا ایسے کتنے لوگوں کو جو پیدائشی طور پر مرد یا عورت پیدا ہوتے ہیں مگر اُن میں مکمل طور پر مردانہ یا زنانہ خصوصیات نہیں ہوتیں، شادیاں کرتے یا اپنے لیے رشتے تلاش کرتے دیکھا ہے! اور رہی یہ بات کہ باطنی احساس کے تابع جنس کی تبدیلی کی خواہش کرنے والوں کو پہلے کسی میڈیکل بورڈ کے حوالے کیا جائے جو اُس کا معائنہ کرکے جنس کا تعین کرے بالکل ایسے ہے جیسے بظاہر مرد نظر آنے والے شخص کو کہا جائے کہ تم بھی کسی میڈیکل بورڈ کے سامنے پیش ہو کیونکہ شادی کے بیس سال بعد بھی تم نے بچہ پیدا نہیں کیا لہٰذا ضروری ہے کہ تمہاری جنس چیک کی جائے!

سوال یہ ہے کہ آخر اِس قانون سے پہلے ملک میں کیا ہورہا تھا، ہم جنس پرستی کے سب سے زیادہ واقعات کہاں اور کس طبقے میں رپورٹ ہوتے تھے (ہیں)، اب ٹرانس جینڈر طبقے کو حقوق دینے کے لیے ملک میں قانون بنایا گیا ہے تو سب سے زیادہ شور وہی مچا رہے ہیں جو مدرسوں میں بچوں سے ہونے والی زیادتیوں پر منہ میں گھنگھنیاں ڈال کر بیٹھ جاتے ہیں، اِس قانون میں انہیں LGBT کا ایجنڈا نظر آرہا ہے حالانکہ اپنے’ باطنی احساس‘ کے تابع انہیں اصل سوال یہ پوچھنا چاہیے کہ مدرسوں میں جو کچھ ہورہا ہے کیا وہ عین اسلام ہے؟

ایک اور بات جو اِس پورے معاملے میں پیش نظر رکھنی چاہیے وہ یہ ہے کہ جنسی اظہار، جنسی شناخت، جنسی رجحان اور خالصتاً جنس ، چاروں علیحدہ باتیں ہیں۔ جنسی اظہار کا مطلب ہے کہ کوئی شخص اپنے لباس، چال ڈھال اور حرکات و سکنا ت سے کس جنسی رویے کا اظہار کرتا ہے ،جنسی شناخت سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص باطنی احساس کے تابع خود کو M،Fیا X میں سے کیا سمجھتا ہے،جنسی رجحان یہ ہے کہ کوئی شخص کس جنس کی جانب ملتفت ہوتا ہے اور جنس وہ نشان ہے جو کسی بھی شخص کو پیدائش کے وقت لڑکا ، لڑکی یا انٹر سیکس قراردے کر تفویض کیا جاتا ہے۔

اصل بات یہ ہے کہ کوئی بھی سکہ بند مرد یا مکمل عورت ہم جنس پرستی یا کوئی بھی دوسرا جنسی رجحان رکھ سکتی ہے ، یہ ایک الگ بحث ہے کہ اِس کی کیا نفسیاتی وجوہات ہیں، لیکن یہ فرض کر لینا کہ محض ٹرانس جینڈر افراد ہی ایسا رجحان رکھ سکتے ہیں، لا علمی کی ایسی معراج ہے جہاں میں خواہش کے باوجود بھی نہیں پہنچ سکتا۔ دو سو سال لگے تھے ہمیں تصویر کو جائز قرار دینے میں، امید ہے اگلے سو سال میں ہم ٹرانس جینڈر کا دکھ بھی سمجھ جائیں گے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

Notification Management


پاکستان
دنیا
کاروبار
کھیل
انٹرٹینمنٹ
صحت و سائنس
دلچسپ و عجیب

ڈیسک ٹاپ نوٹیفکیشن کے لیے سبسکرائب کریں
Powered by IMM