Geo News
Geo News

Time 14 اکتوبر ، 2022
پاکستان

عمران خان نے حکومت سے باہر آکر بے اختیار وزیراعظم ہونے کا اعتراف کرلیا

پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے حکومت سے باہر آکر بے اختیار وزیراعظم ہونے کا اعتراف کرلیا۔

عمران خان جب وزیراعظم تھے تو دو ٹوک انداز میں کہتے تھے کہ کوئی بھی فیصلہ ان سے پوچھے بغیر نہیں ہوتا،جو بھی فیصلہ ہوتا ہے اس کا ذمہ دار میں ہوں لیکن جیسے ہی عدم اعتماد کی صورت میں حکومت سے  نکالے گئے تو اپنی لاچاری کا اظہار شروع کردیا۔

 سابق وزیر اعظم حکومت ختم ہونے کے بعد اپنے بیانات میں کہتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے، یہ بھی کہا کہ اگر دوبارہ ایسی حکومت ملی تو نہیں لوں گا۔

عمران خان اب اپنے بیانات میں  کہتے نظر آتے ہیں کہ آگے سے اگر مجھ ایسی حکومت ملی تو میں حکومت نہیں لوں گا کیونکہ آپ ایک کمزور حکومت میں بڑے فیصلے نہیں کرسکتے،آ پ کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہوتا اور جن کے ہاتھ میں ہوتاہے اور وہ نہیں چاہتے تو آپ کچھ نہیں کرسکتے اور اگر انشاللہ کبھی آگے حکومت ملی تو میں حکومت صرف تب لوں گا جب میرے پاس طاقت ہوگی۔

سابق وزیر اعظم اب کہتے ہیں کہ بہت چیزیں میں اور کرسکتا تھا لیکن ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے تھے،اتحادیوں کے ہاتھوں  بلیک میل ہوتے تھے ،بجٹ پاس کروانا ہے تو منتیں کرنی پڑتی تھیں ہمیں اپنی ایجنسیسز کو کہنا پڑتا تھا کہ ان کو لے کر آو اسمبلی میں ووٹ کروانے ،پارلیمنٹ کی ڈیموکریسی میں جب تک آپ کے پاس اکثریت نہ ہو آپ بڑے فیصلے نہیں کرسکتے۔

عمران خان حکومت میں آنے سے پہلے بھی کہا کرتے تھے کہ میں کٹھ پتلی وزیراعظم بننا نہیں چاہتا،میں چاہتا ہوں کہ میں وہ وزیراعظم بنوں ،جو جب وزیراعظم بنے تو ملک میں اپنے منشور کو عمل میں لائے،وہ وزیر اعظم نہ بنوں جس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں،اسٹیبلیشمنٹ بیٹھی ہوئی ہو اور وہ ڈکٹیشن دے رہی ہو اور ایجنسی ملک چلارہی ہو اور میں ایک پتلا بیٹھا ہوں۔