23 اکتوبر ، 2022
یقین جانیے نہ ہی مجھے اور نہ ہی مجھ جیسے لاکھوں پاکستانیوں کو تکلیف اس بات کی ہے کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے توشہ خانہ سے کروڑوں روپے کی گھڑیاں اور دیگر قیمتی اشیاکوڑیوں کے مول کیوں خریدیں ؟
مجھے اور پاکستانی قوم کے ہر غیرت مند فرد کو اس بات پر افسوس ضرور ہے کہ یہ تحفے چور بازار میں مہنگے داموں بیچ کر قومی غیرت کا جنازہ کیوں نکالا گیا ؟ عمران خان کو پیسوں کی ایسی کیا ضرورت آن پڑی تھی کہ انھوں نے ایک دوست ملک کے سربراہ کی جانب سے عمران خان کو نہیں بلکہ پاکستانی قوم کے وزیر اعظم کو دیا جانے والا قیمتی تحفہ چور بازار میں بیچ کر رقم حاصل کرلی اور دو سال تک اس رقم کو چھپا کر بھی رکھا ، حقیقت میں یہ تحفہ انھیں ایک کرکٹر عمران خان کے طور پر نہیں ملا تھا بلکہ یہ تحفہ انھیں ایک ایٹمی قوت اور بائیس کروڑ عوام کے وزیر اعظم کے طور پر ملا تھا۔
یہ تحفہ قوم کی امانت تھا ، جب سے یہ خبر سنی کہ عمران خان نے برادر اسلامی ملک سے ملنے والے تحائف پہلے توشہ خانہ سے انتہائی کم داموں خریدے اور پھر چور بازار میں انتہائی مہنگے داموں فروخت کردیے ہیں، اس وقت سے قوم کا ہر غیرت مند فردڈپریشن کا شکار ہے اور بار بار سابق امریکی عہدیدار کا یہ بیان میرے ذہن میں گردش کررہا ہے کہ پاکستانی قوم چند پیسوں کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے، مجھے لگتا ہے کہ ایسے ہی واقعات کے سبب امریکی حکام کو پاکستانی قوم کی توہین کرنے کی جرأت ہوئی ہوگی ،پھر میرے ذہن میں خیال آتا ہے کہ عمران خان پاکستانی کرکٹ ٹیم کے بھی کپتان رہے ہیں تو کیا ان کی کپتانی کے دور میں ان کو ملنے والے میڈلز بھی محفوظ ہوں گے، کہیں وہ بھی تو فروخت نہیں کیے جاچکے ہوں گے ؟
توشہ خانہ کی گھڑیوں کی چور بازار میں فروخت کے بعد مجھے اب رہ رہ کر یہ خیال آ رہا ہے کہ عمران خان اگرچہ برطانیہ میں فلیٹ کی فروخت کی رقم پاکستان لا نے اور بنی گالہ میں سینکڑوں کنال اراضی خرید کر اس پر محل تعمیر کرنے کے معاملے میں سپریم کورٹ سے صادق اور امین تو قرار پاچکے ہیں لیکن ماضی میں ان پر درجنوں دیگر الزامات بھی ایسے لگے ہیں جن پر توشہ خانہ کے اسکینڈل سامنے آنے کے بعد ان پر شک ہوتا ہے کہ کہیں وہ بھی حقیقت میں سچ نہ ہوں ،خاص طور پر ایک الزام یہ بھی لگا کہ مبینہ طور پر شوکت خانم اسپتال کو ملنے والا صدقہ ،زکوٰۃ اور چندے کی رقم کا ایک بڑا حصہ ماضی میں دبئی میں منتقل کرکے اس سے پراپرٹی کے کاروبار میں سرمایہ کاری کی گئی جس کا منافع دبئی میں روک لیا گیا اور اصل رقم واپس شوکت خانم میں جمع کروادی گئی تھی ،دبئی میں خان صاحب کی بہن کے نام پر جو مبینہ پراپرٹیز ہیں،جسے سلائی مشین کی کمائی کہا جاتا ہے، مبینہ طور پر یہ وہی پراپرٹیز ہیں جو شوکت خانم کے چندے سے کی جانے والے سرمایہ کاری کے نفع سے خریدی گئی تھیں ، یہ الزام تحریک انصاف کی قریبی شخصیت نے عمران خان اور ان کی بہن پر تحریر ی طور پر عائد کیا تھا ۔پھر امریکی اور پاکستانی عدالت میں عمران خان کے ایک ذاتی معاملے کے حوالے سے درخواستیں زیرِسماعت رہ چکی ہیں، حقیقت تویہ ہے کہ خان صاحب صرف بنی گالہ اراضی کیس میں صادق و امین قرار دیئے گئے تھے ،باقی تو پھر ابھی عمران خان کی سابقہ حکومت کے خلاف بلین ٹری منصوبے ،پشاور گرین لائن سمیت درجنوں منصوبوں میں بھاری کرپشن کی تحقیقات جاری ہیں ۔
صرف یہی نہیں بلکہ اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد ریاست کو نقصان پہنچانے کے لیے امریکہ سے پاکستانی سفیر کی جانب سے بھیجے جانے والے ایک خط میں گڑبڑ کرکے پاکستان کے عالمی مفادات کو نقصان پہنچانے کی سنگین کوشش کی گئی ۔ ان سب باتوں کے باوجود بھی خان صاحب اپنے آپ کو قوم کا ناخدا ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ، حقیقت تو یہ ہے کہ گزشتہ روزعمران خان صاحب توشہ خانہ ریفرنس میں قومی تحائف کی چور بازار میں فروخت سے حاصل شدہ رقم چھپانے اور گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے پر الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہل ہوچکے ہیں، اب اعلیٰ عدالتوں میں یہ کیس نواز شریف کو ماضی میں بیٹے کی کمپنی سے فرضی تنخواہ نہ لینے پر سپریم کو رٹ سے تاحیات نااہل قرار دیئے جانے والی سزا کی گائیڈ لائن کے تناظر میں چلے گا ، تمام ماہرینِ قانون اس بات پر متفق ہیں کہ نواز شریف کے مقابلے میں عمران خان کا جرم بہت بڑا اور ثابت شدہ ہے لہٰذا عمران خان الیکشن کمیشن سے تو موجودہ نشست پر نااہل ہوئے ہیں تاہم اعلیٰ عدالتوں سے تاحیات نااہل ہونے کے قوی امکانات موجود ہیں لیکن تمام حکمرانوں کے لیے یہ ایک پیغام ہے کہ خدارا وزیر اعظم کی کرسی پر بیٹھ کر قومی غیرت کا جنازہ نکالنے والے اقدامات سے گریز کریں ۔ آپ سب کی بہت نواز ش ہو گی۔ (کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس
ایپ رائےدیں00923004647998)
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔