Geo News
Geo News

Time 27 اکتوبر ، 2022
بلاگ

بورس جانسن بمقابلہ عمران خان

یہ گورے بھی نجانے کس مٹی سے بنے ہیں۔گاہے ان کے ہاں رائج بے رنگ ،بے بو اور بے ذائقہ جمہوریت پرحیرت ہوتی ہے۔عوام کی طرف سے کوئی بھی مطالبہ سامنے آجائے اور لوگوں کی بڑی تعداد اس کے حق میں تیار کی گئی یادداشت پر دستخط کردے تو حکمران نتائج کی پروا کئے بغیر اس پر ریفرنڈم کروادیتے ہیں اور یہ ریفرنڈم بھی ایوب خان،ضیاالحق یا پرویز مشرف کے جعلی ریفرنڈم جیسا نہیں ہوتا۔

مثال کے طور پر ڈیوڈ کیمرون کسی قانون کے تحت ریفرنڈم کروانے کے پابند نہیں تھے۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے یہ وعدہ ضرور کیا تھا کہ وزیراعظم بننے کے بعد وہ اس حوالے سے ریفرنڈم کروائیں گے کہ برطانیہ کے عوام یورپی یونین کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا نہیں ۔لیکن سیاسی وعدے قرآن و حدیث تو نہیں ہوتے ناں ۔وہ کوئی بھی جواز پیش کرکے بریگزٹ سے متعلق فیصلے پر ٹا ل مٹول سے کام لے سکتے تھے ۔لیکن انہوں نے قدآور سیاسی شخصیات کی طرح یوٹرن لینے کے بجائے جون 2016ء میں ریفرنڈم کرواکے ہی دم لیا۔

برطانوی باشندوں نے جوش جذبات میں نیا برطانیہ بنانے اور حقیقی آزادی حاصل کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ یورپ برطانیہ کو لاڈلا اور بگڑا ہوا بچہ سمجھ کر اس کے ناز نخرے اُٹھا رہا تھا مگر اس نازبرداری کا مطلب یہ لیا گیا کہ یورپی یونین نے اسے غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے۔ریفرنڈم میں کثرت رائے کی بنیاد پر یورپی یونین سے نکلنے کا فیصلہ ہوگیا۔بریگزٹ کی اس آپا دھاپی میں نہ صرف ڈیوڈ کیمرون کی چھٹی ہوگئی بلکہ آج حقیقی آزادی کا خواب عذاب بن چکا ہے اور برطانوی شہریوں کی اکثریت اس فیصلے پر پچھتا رہی ہے۔غلطی کا احساس تو ریفرنڈم کے بعد ہی ہوگیا تھا اور یہ آوازیں اُٹھنے لگی تھیں کہ اس حوالے سے ایک اور ریفرنڈم کروایا جائے لیکن اب تیر کمان سے نکل چکا تھا ۔یورپی یونین نے اس حوالے سے پیچھے ہٹنے کا موقع نہ دیا اور یوں یکم جنوری 2021ء کو بریگزٹ کا عمل مکمل ہوگیا۔

اس ایک غلط فیصلے کی وجہ سے برطانیہ اس قدر عدم استحکام کا شکار ہوا کہ 6سال میں 4وزرائے اعظم کو گھر جانا پڑا ۔ڈیوڈ کیمرون کے بعد تھریسا مے وزیراعظم بنیں ۔جولائی2019ء میں ان کی سبکدوشی کے بعد بورس جانسن برسراقتدار آئے ۔بورس جانسن کی چھٹی ہوگئی تو لز ٹرس نے قیادت سنبھالی ۔محض 45دن بعد ہی لز ٹرس نے ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا تو اب ایک پاکستانی نژاد ہندوخاندان سے تعلق رکھنے والے رشی سانک کو وزیراعظم بنایا گیا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ رشی سانک کے دادا رام داس سانک کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا۔وہ 1935ء میں یہاں سے نیروبی چلے گئے ۔رام داس سانک کے بیٹے یعنی رشی سانک کے والد یش سانک 60ء کی دہائی میں برطانیہ آئے اور یہیں آباد ہوگئے ۔انگریزوں نے جس خطے پر برسہا برس تک حکومت کی ،وہاں سے آئے خاندان کے ایک فرد کا وزیراعظم بننا بذات خود حیران کن معاملہ ہے لیکن بریگزٹ کی بات کریں تو برطانیہ نے اس کے نتیجے میں جنم لینے والے سیاسی عدم استحکام کی بہت بھاری قیمت چکائی۔برطانوی پائونڈ کی قدر مسلسل گرتی چلی گئی اور معیشت کا بھاری پتھر یوں پھسلا کہ ڈھلوانوں کا سفر ختم ہونے میں نہیں آرہا۔

لیکن خراب معاشی صورتحال کے باوجود نہ تو کسی وزیراعظم نے اپوزیشن پر سیاسی عدم استحکام اور غیر ملکی سازش کا الزام عائد کیا اور نہ ہی رخصت ہوتے وقت کسی نے یہ کہا کہ اب اس ملک کو تباہی و بربادی سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔کسی موقع پر یہ خدشہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ غیر جمہوری قوتیں اس صورتحال سے فائدہ اُٹھا سکتی ہیں ۔برطانیہ کے سابق وزیراعظم بورس جانسن جو ہمارے سابق وزیراعظم عمران خان کے دوست بھی ہیں ،ان کی ایوان وزیراعظم سے رُخصتی تو بہت ناقابل یقین انداز میں ہوئی۔

برطانوی وزرائے اعظم 10ڈائوننگ اسٹریٹ میں پرائم منسٹر آفس کے اوپر چھوٹے سے فلیٹ میں رہائش اختیار کرتے آئے ہیں ۔جب ٹونی بلیئر وزیراعظم بنے تو وہ 11ڈائوننگ اسٹریٹ کی بالائی منزل پر موجود نسبتاً بڑے فلیٹ میں منتقل ہوگئے کیونکہ ان کے بچے زیادہ تھے اور 10ڈائوننگ اسٹریٹ کی رہائش کم پڑ رہی تھی۔اس کے بعد 4کمروں پر مشتمل یہی فلیٹ وزرائے اعظم کے لئے مختص ہوگیا۔جولائی 2019ء میں بورس جانسن وزیراعظم بنے تو وہ بھی اپنی فیملی کے ہمراہ یہاں منتقل ہوگئے۔اس فلیٹ کی تزئین و آرائش کے لئے سرکاری خزانے سے 30ہزار پائونڈ مختص ہوتے ہیں مگر بورس جانسن نے اپنی سرکاری رہائشگاہ کی آرائش و زیبائش پر 2لاکھ پائونڈ خرچ کر ڈالے۔ 

جب اس فضول خرچی پر اپوزیشن اور میڈیا نے شور مچایا تو ابتدائی طور پر بورس جانسن نے سوالات کے جواب دینے سے گریز کیا اور متعلقہ معلومات فراہم کرنے سے انکار کردیا ۔لیکن جب یہ معاملہ بگڑتا ہوا محسوس ہوا تو بورس جانسن نے یہ تاویل پیش کی کہ فلیٹ کی تزئین و آرائش کے لئے اضافی رقم سرکاری خزانے سے خرچ نہیں کی گئی بلکہ ان کے چاہنے والوں کے عطیات کو استعمال کیا گیا ہے۔اب اس پر ایک نئی بحث شروع ہو گئی۔ برطانوی قوانین کے مطابق اگر کوئی رُکن پارلیمنٹ کسی سے فنڈز وصول کرتا ہے یا قرض لیتا ہے تو 28دن کے اندر اسے ڈکلیئر کرنا لازم ہے تاکہ سب کو یہ بات معلوم ہو کہ فنڈز یا قرض دینے والی کاروباری شخصیات کے حکومتی پالیسیوں کے حوالے سے کیا مفادات ہوسکتے ہیں اور ان رقوم کے عوض کسی قسم کا کوئی فائدہ تو نہیں اُٹھایا جا رہا ۔

چنانچہ الیکٹورل کمیشن نے بورس جانسن کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا۔ یہ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد وزیر خزانہ رشی سانک اور وزیر صحت ساجد جاوید سمیت 44مشیروں اور وزرا نے وزیراعظم پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا جس کے بعد انہیں گھر جانا پڑا۔مگر ہمارے ہاں ایک وزیراعظم نے کروڑوں روپے مالیت کے تحائف بیچ ڈالے،انہیں اپنی آمدن کے گوشواروں میں ظاہر نہیں کیا ،الیکشن کمیشن نے بدعنوانی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے ڈس کوالیفائی کردیا مگروہ اب بھی ریاست مدینہ کے قیام کے لئے لانگ مارچ کر رہے ہیں۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔