09 نومبر ، 2022
میاں بیوی ہوں، بہن بھائی یا اولاد،ایک گھر میں رہنے والوں کے درمیان ایسے لمحات لازماً آتے ہیں، جب جھگڑے کی صورت میں دو افراد ایک دوسرے کے خلاف جذبات کی رو میں بہتے چلے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورتِ حال ہوتی ہے، جس میں دونوں کو اپنے حق پر ہونے کا مکمل یقین ہوتا ہے۔
دونوں چیخ چیخ کر اپنا مؤقف بیان کررہے ہوتے ہیں، جس کے مطابق وہ حق پر اور دوسرا انتہائی غلط ہوتا ہے۔ ایسی کسی بھی بحث سے کبھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب ایک شخص کو سو فیصد یقین ہو کہ وہ حق پر ہے اور کوئی غلطی اس نے نہیں کی تو کیسے وہ اس کو تسلیم کرے اور معذرت خواہ ہو۔ غصہ اور نفرت سمیت،انسانوں میں سارے جذبات اسی طرح کارفرما ہوتے ہیں، جیسے کہ جانوروں میں۔
حیاتیات کے ماہرین بتاتے ہیں کہ سانس لینے جیسے ضروری احکامات دماغ کے سب سے نچلے حصے برین سٹیم سے صادر ہوتے ہیں۔ غصے،انتقام اور محبت جیسے جذبات دماغ کے درمیان والے حصے میں ہوتے ہیں، جسے لمبک سسٹم کہتے ہیں۔ برین سٹیم اور لمبک سسٹم انسانوں سمیت میملز میں ایک ہی جیسے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب لڑائی ہوتی توانسان جانوروں کی طرح ہی لڑتا ہے۔ جانوروں کے تمام گروہوں کا ایک اصول ہے۔
گروہ کے ہر رکن کو اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ گروہ میں اس کا رتبہ کیا ہے۔ اسی رتبے کے مطابق وہ دوسرے اراکین سے سلوک کرتا ہے۔ ایک ہوتا ہے سردار، جسے الفا میل کہتے ہیں۔ الفا میل کے سامنے جانے والے گروہ کے دوسرے اراکین اگر اپنی دم نیچے اور گردن جھکا کر نہ جائیں تو اس کی زبردست پٹائی کی جاتی ہے۔ اسی طرح انسانوں میں بھی غیر محسوس طور پر گھر کا ہر رکن اپنا ایک درجہ رکھتا ہے۔
اگر وہ گھر کا سربراہ ہے تو اسے زیادہ عزت و احترام ملتا ہے۔ اگر وہ کوئی غلطی بھی کرے تو گھر کے دوسرے افراد اسے ٹوکتے ہوئے جھجکتے ہیں۔ اس وقت تحریکِ انصاف اور فوج کے درمیان جو معاملات چل رہے ہیں، ان میں ایسی ہی صورتِ حال ہے۔ ہر فریق کو اپنے حق پر ہونے کا اتنا ہی یقین ہے،جتنا دوسرے کو۔فریقین جتنا اپنے اپنے مؤقف کو دہرائیں اور دوسرے کی غلطیوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کریں گے، صورتِ حال اتنی ہی تلخ ہوتی چلی جائے گی۔
سوشل میڈیا پہ آج فوج کے خلاف جس قدر ٹرینڈ چل رہے ہیں اتنے شاید کسی مارشل لا کے دوران بھی نہ چلے ہوں گے۔ اگر تو یہ 90ء کا دور ہوتا تومارشل لا شاید کب کا نافذ ہو چکا ہوتا۔ پے درپے تین مارشل لاؤں کے انجام، وکلا، سول سائٹی اور بالخصوص تحریکِ انصاف کے تحرک نے شاید اسے روک رکھا ہے۔ عالمی سطح پر بھی صورتِ حال ایسی نہیں کہ پاکستان میں مارشل لا کو تائید مل سکے۔ پانامہ لیکس کے بعد بننے والی جے آئی ٹی کیلئے جب ملٹری انٹیلی جنس اور آئی ایس آئی سے دو اراکین مانگے گئے تو فوج اوّل معذرت کرنے پہ غور کرتی رہی۔
وہ سیاست سے الگ رہنا چاہتی تھی مگر اسے بتایا گیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کے سوا اس کے پاس کوئی چارہ نہیں۔نواز شریف اس جے آئی ٹی کی رپورٹ کے نتیجے میں سپریم کورٹ سے نا اہل ہو گئے۔ گو تاحال یہ ایک بہت بڑا راز ہے کہ بے تحاشا ثبوت ہونے کے باوجود انہیں کرپشن اور ناجائز اثاثوں پہ نا اہل کرنے کی بجائے ایک تکنیکی نکتے پر کیوں رخصت کیا گیا۔
آج نواز شریف کی سیاست میں واپسی کا راستہ کھلاہے اور اسے عمران خان کی نا اہلی ختم کرنے اور لیول پلیئنگ فیلڈ کے بہانے سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ گو کہ عمران خان کا معاملہ بظاہر الیکشن کمیشن کی کورٹ میں ہے۔ تحریکِ انصاف والے یہ کہتے ہیں کہ نیب کے پر کاٹ دیے گئے۔ہزاروں نہیں تو سینکڑوں ارب روپے کی کرپشن قانونی طور پر جائز تسلیم کر لی گئی۔ پی ٹی آئی اگر مجھے معاف کر سکے تو عمران خان بھی موجودہ صورتِ حال کے بہت بڑے ذمہ دار ہیں۔
طاقتور حلقے یہ کہتے ہیں کہ 2018ء کے الیکشن سے قبل کپتان نے فوج کے سامنے سرنڈر کر دیا تھا کہ اقتدار یقینی بنایا جا سکے۔ نواز شریف کی نا اہلی کے بعد عمران خان کے سپرانداز ہونے سے فوج کو یہ یقین حاصل ہوا کہ وہ جب چاہے حکومت بدل سکتی ہے۔ سائفر والا معاملہ اگر حقیقت نہیں تو امریکہ میں پاکستانی سفیر کو بلا کر شدید جواب طلبی ہونی چاہئے تھی کہ خوامخواہ کیوں اس نے سپر پاور کے ساتھ پاکستان کے سینگ پھنسا دیے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہوا یہی ہے جو سائفر میں بیان کیا گیا۔
امریکہ نے پہلے پاکستان کی حقیقی طاقت کی طرف دیکھا کہ اگر موجودہ حکومت چلتی کر دی جائے تو اسے کوئی اعتراض تو نہیں۔ حقیقی طاقتور حلقوں کا خیال یہ تھا کہ ساڑھے تین سال کی بدترین کارکردگی کے نتیجے میں عمران خان اب ایک بوجھ ہیں، جن کیلئے کوئی باہر نہ نکلے گا۔ باقی تاریخ ہے۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ جب کوئی سیاستدان فوج سے رابطہ کرے تو اسے جواب دیا جائے کہ اگر آپ اپنی طاقت سے الیکشن جیت کر آجائیں تو فوج آپ کو سر آنکھوں پہ بٹھائے گی۔ کوئی مانے یا نہ مانے جنرل اشفاق پرویز کیانی کا فارمولا سب سے بہتر تھا۔ گوکہ ان کے پورے دور میں ان پر تبصرہ کیا جاتا رہا کہ کرپٹ زرداری حکومت کو وہ چلتا کیوں نہیں کر دیتے۔
جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔