Time 23 نومبر ، 2022
بلاگ

توشہ خانہ۔ اصل کھیل کیا ہے؟

عجیب ڈھٹائی ہے۔ عمران خان اور ان کے ترجمان کہتے ہیں کہ ان کے تحفے اوران کی مرضی تھی اور بیچ دئیے تو کیا ہوا لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ عمران خان نہیں بلکہ وزیراعظم پاکستان کے تحفے تھے، ان کو توشہ خانہ میں جمع کرنے، آکشن کرنے اور اپنے پاس رکھنے کا ایک پاکستانی قانون موجود ہے ،جس کی رو سے ایک وزیراعظم چاہے تو پچاس فی صد ادائیگی کرکے کسی تحفے کو اپنے پاس رکھ سکتا ہے لیکن فروخت نہیں کرسکتا ۔ 

18دسمبر 2018کو عمران خان حکومت کےجاری کئے گئے قانون یعنی آفس میمورنڈم (No .8/2/2017.TK) (نمبر سے بھی واضح ہے کہ یہ قانون شاہد خاقان عباسی کی حکومت میں تیار گیا تھا لیکن جاری کرنے کا اعزاز عمران خان کو حاصل ہوا اور شاید اس نے پڑھا بھی نہیں تھا اس لئے اس کے پرخچے اڑا دئیے) میں انگریزی کا لفظ Retain استعمال ہوا ہے ۔ کہیں پر خرید (Purchase)کا لفظ نہیں ہے اور نہ وزیراعظم یا صدر کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے پاس رکھنے (Retain)والے تحفے کو آگے فروخت کرسکے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ میڈیا پر چرچا صرف محمد بن سلمان کی گھڑی کا ہے لیکن معاملہ گھڑی کا نہیں گھڑیوں کا ہے اور درجنوں رولیکس اور اسی نوع کی دیگر گھڑیاں وصول کرکے فروخت کی گئی ہیں ۔ اس کے علاوہ بھی کئی قیمتی تحائف ہیں ۔ان کی کچھ تفصیل الیکشن کمیشن آف پاکستان کے توشہ خانہ کیس کے تفصیلی فیصلے میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

 اس لئے وہ لوگ عمران خان کو رعایت دے رہے ہیں جو اس بحث کو صرف محمد بن سلمان کی گھڑی تک محدود کررہے ہیں ۔ اخلاقی لحاظ سے جو سبکی اور رسوائی ہوئی میڈیا میں صرف اس کا تذکرہ ہورہا ہے لیکن اس عمل میں کئی جگہ قانون کی صریح خلاف ورزی کی گئی ہے اور اسی لئے الیکشن کمیشن نے عدالت میں کیس رجسٹرڈ کرنے کی حکومت کو ہدایت کی تھی۔ مثلا توشہ خانہ قانون کے سیکشن پانچ کے الفاظ یہ ہیں۔

(5) (i) Cabinet division will get the value of the gifts assessed from government sector experts in FBR . Cabinet division will also get the value of gifts assessed by the private appraisers borne on its approved panel.

یعنی قانون کی رو سے تحفے کی قیمت کا تخمینہ نہ صرف ایف بی آر کے متعلقہ سیکٹر کے ماہرین لگائیں گے بلکہ کیبنٹ ڈویژن بیرونی مارکیٹ سے ماہرین کے ذریعے بھی تخمینہ لگائے گی اور اگر دونوں کے تخمینے میں فرق پچیس فی صد سے زائد ہوا تو پھر کیبنٹ سیکرٹری فائنل فیصلہ کریں گے ۔ اب جو تحائف عمران خان نے توشہ خانہ سے لئے ہیں وہ سینکڑوں میں ہیں ، تو اس کیلئے اس قانون پر عمل درآمد اور پرائیویٹ اپریزرز سے تخمینہ لگانے کا کوئی ریکارڈ نہیں ۔ بلکہ شاید خود ہی اپنے اسٹاف سے اپنی مرضی کی قیمت مقرر کرلی ،اور پھر اپنی مرضی سے اپنی مرضی کے لوگوں سے مارکیٹ میں تحائف فروخت کئے حالانکہ قانون کی رو سے وہ صرف اپنے پاس رکھ سکتے تھے لیکن فروخت نہیں کرسکتے ۔

اس قانون کے سیکشن6کی شق (i) میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی تحفے کی ویلیو تیس ہزار سے کم ہوتو بغیر کسی قیمت کے وزیراعظم اسے اپنے پاس رکھ سکتے ہیں لیکن یہاں بھی بہت سارے ایسے تحائف ہتھیا لئے گئے جن کی قیمت تیس ہزار سے زائد تھی لیکن اس کی ویلیو اس سے کم ظاہر کی گئی۔

اسی قانون کی شق نمبر7میں کہا گیا کہ تحفہ (Retain) کرنے والا چار ماہ کے اندر اندر قیمت ادا کرنے کے بعد ہی تحفہ اپنے پاس رکھ سکے گا ۔ قانون کے انگریزی الفاظ ہیں:

(7) The recipient should collect the gifts after payment of retention price within four months.

یعنی ایک تو تحفہ حاصل کرنے والا وزیراعظم تخمینہ رقم کا پچاس فی صد خود خزانے میں جمع کرے گا اور دوسرا پہلے ادائیگی کرے گا اور پھر اسے اپنے پاس رکھ سکے گا۔ لیکن یہاں عمران خان صاحب نے تخمینے بھی اپنی مرضی کے لگوائے ۔ پھر قانون کی دوسری خلاف ورزی یہ کی کہ پچاس فی صد کی بجائے پرانے قانون کے مطابق صرف بیس فی صد ادائیگی کی اور تیسری خلاف ورزی یہ کی کہ خزانے میں ادائیگی اپنے اکائونٹس سے نہیں کی بلکہ وہ ادائیگی دوسرے لوگوں نے کی لیکن پھر مارکیٹ میں فروخت سے جو رقم ملی ہے، اس کا ایک حصہ ان کے اپنے اکائونٹ میں جمع ہوا ہے۔

 حالانکہ اس قانون کی روح کے مطابق ادائیگی صرف وہ شخص یعنی وزیراعظم ہی کرے گا ۔ گویا ادائیگی کسی اور نے کی اور فروخت سے آنے والی رقم کا ایک حصہ عمران خان صاحب کے اکائونٹ میں آیا۔واضح رہے کہ عمران خان صاحب کے اکائونٹ میں ان تحائف کے فروخت سے ملنے والی رقم کا چھ حصوں میں سے صرف ایک حصہ آیا ہے ۔ میری معلومات کے مطابق زیادہ رقم دو مشہور خواتین ، ایک معاون خصوصی ، ایک سینیٹر کے بھائی اور ایک ڈیلر کے ہاں گئی ہے ۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ معاملہ ایک گھڑی کا نہیں درجنوں گھڑیوں کا ہے ۔ گھڑیوں کے علاوہ ایسے قیمتی تحائف بھی ہیں جن کی قیمت گھڑیوں سے بھی زیادہ ہے ۔یوں معاملہ کروڑوں کا نہیں اربوں کا ہے۔ پھر قانون کی خلاف ورزی یہ ہوئی کہ تحائف کا تخمینہ لگانے کے لئے مجوزہ کمیٹی سے منظوری نہیں لی گئی ۔ جبکہ وہ صرف اپنے پاس رکھ سکتے یعنی Retain کر سکتے ہیں لیکن ریاست مدینہ کے دعویدار نے اپنے پاس رکھنے کی بجائے فرخت کئے ۔پھر قانون کی خلاف ورزی یوں کی کہ خریداری کیلئے رقم اپنے اکائونٹ سے ادا نہیں کی بلکہ وہ ادائیگی کچھ اور لوگوں نے کی ۔ ایک اور خلاف ورزی یہ ہوئی کہ تحائف کی فروخت سے جو حصہ انہیں ملا تھا وہ ان کے اکائونٹ میں آگیا لیکن الیکشن کمیشن کے گوشواروں میں اس کو ظاہر نہیں کیا جس کی بنیاد پر انہیں سزا ہوئی۔

یہ تو قانونی پہلو ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سفارتی محاذ پر اس سے پاکستان کی بڑی رسوائی ہوئی ۔جب محمد بن سلمان اور دیگر سربراہان حکومت نے اپنے دئیے گئے تحائف کو بازاروں میں بکتا دیکھا ہوگا تو ان کے ذہنوں میں پاکستان کا امیج کتنا خراب ہوا ہوگا ۔؟ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کسی بھی حکمراں کو یہ تحائف اپنے پاس رکھنے کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہئے۔


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔