Time 06 دسمبر ، 2022
پاکستان

حاملہ خواتین کیلئے اسموگ انتہائی خطرناک قرار، طبی ماہرین نے خبردار کردیا

آکسیجن کی کمی آنے والے بچے کی زندگی کیلئے خطرناک ہو سکتی ہے، دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے، بچہ موت کے منہ بھی جاسکتا ہے: طبی ماہرین— فوٹو: اے ایف پی
آکسیجن کی کمی آنے والے بچے کی زندگی کیلئے خطرناک ہو سکتی ہے، دماغ کو نقصان پہنچ سکتا ہے، بچہ موت کے منہ بھی جاسکتا ہے: طبی ماہرین— فوٹو: اے ایف پی

طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حاملہ خواتین کیلئے اسموگ انتہائی خطرناک ہے۔

دنیا بھرمیں آلودگی میں نمبر وَن شہر لاہور میں سانس، دمے، سینے کا انفیکشن، نزلہ، زکام اور بخار جیسی بیماریاں عام ہو رہی ہیں۔ فضا میں آکسیجن کی کمی کے باعث حاملہ خواتین اور ان کے بچوں کو بھی آکسیجن پوری نہیں ملتی جس کی وجہ سے زچہ و بچہ کو زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

لاہور میں کئی عشروں سے ائیر کوالٹی انڈیکس خطرناک حدوں کو چھوتے ہوئے 300 سے ساڑھے 400 کے درمیان رہ رہا ہے جو انسانی صحت کیلئےانتہائی مضر ہے۔

بخار، نزلہ، زکام، چیسٹ انفیکشن اور دمہ جیسی بیماریاں عام ہیں، اسپتالوں کی او پی ڈیز میں مریضوں کا رش رہتاہے، ایک ایک اسپتال میں روزانہ 600 سے زائد اسموگ سے متاثرہ بچے، جوان اور بوڑھے آرہے ہیں۔

اس حوالے سے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسموگ کی وجہ سےقوت مدافعت کم ہو جاتی ہے، خصوصاً حاملہ خواتین کا آکسیجن لیول کم رہتا ہے، بچے کو بھی آکسیجن کم ملتی ہے اور اگر حاملہ خاتون دمہ کی مریضہ ہو تو زیادہ پریشانی ہوتی ہے۔

شہریوں کے مطابق حکومت اسموگ پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہے، فیکٹریاں ٹائر جلاتی ہیں جبکہ فصلوں کو آگ لگانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

طبی ماہرین نےہدایت کی ہے کہ شہری صبح اورشام کے اوقات میں کھڑکیاں بند رکھیں، چمشے لگائیں اور ماسک پہن کر گھروں سے نکلیں۔

مزید خبریں :