Geo News
Geo News

Time 23 دسمبر ، 2022
بلاگ

....ورنہ تماشا لگا رہے گا

ضیاالحق نے ایک جانور کا نام لیکرطعنہ دیا کہ جس طرح سیاست دان پیچھے چلے آتے ہیں، آج بالکل اسی طرح سیاست دان پنجاب کے اقتدار پر لڑتے نظر آتے ہیں۔پنجاب کا تخت حاصل کرنے کیلئے ہر طرح کے حربے استعمال کئے جا رہے ہیں ۔

ان تمام تر کاوشوں میں کسی کو عوام یاد نہیں، کسی کو ملک کی فکر نہیں، سندھ کے ٹھیکیداروں کو بھی سیلاب زدگان کی فکر نہیں، وہ بھی اقتدار کو دوام بخشنے کیلئے لاہور یاترا پر آئے ہوئےہیں ۔عجیب کھیل ہے جو لوگ 9اپریل سے پہلے نئے الیکشن کا مطالبہ کرتے تھے 11اپریل کے بعد یہ کہنا شروع ہو گئے کہ اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی اور جو لوگ 9اپریل سے پہلے الیکشن کروانے کیلئے تیار نہیں تھے 11اپریل کے بعد ان کے اس مطالبے میں شدت آ گئی کہ نئے الیکشن ہی وقت کا تقاضا ہیں، اس کے بعد سے لوگ دیکھ رہے ہیں کہ وفاق میں دو ووٹوں کے سہارے حکومت قائم ہے اور لوٹوں پر مشتمل اپوزیشن ہے۔

 حکومت قائم رکھنے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر نئے وزراء اور مشیر حکومت میں شامل کئے جا رہے ہیں جبکہ ساتھ ہی حکومت کی حصے دار لوٹا اپوزیشن کو بھی نوازا جا رہا ہے ۔ووٹوں کی کمی کے باوجود پنجاب پر قبضہ کرنے کی کوشش ہو رہی ہے ، یہ کوشش پہلے بھی ہوئی تھی مگر پہلے اس کوشش کو عدلیہ نے ناکام بنا دیا تھا۔اس دوران ضمنی الیکشن بھی ہوئے تھے، ان الیکشنزمیں پی ٹی آئی نے پی ڈی ایم کو چاروں شانے چت کیا تھا حالانکہ پی ڈی ایم کے تحت ن لیگ کے امیدواروں کو محکمہ زراعت کی حمایت بھی حاصل تھی ،اب کہا جا رہا ہے کہ محکمہ زراعت والے غیر سیاسی ہو گئے ہیں، عمران خان نے اس صورتحال کو نئے امتحان میں ڈال دیا ہے، اسی لئے ہفتے کا وقت دیا تھا کہ اگر کوئی بے نقاب نہ ہوا تو اس ایک ہفتے میں ہو جائے گا۔

اب وفاق طاقت کے زور پر پنجاب کو کچلنا چاہتا ہے، مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سمیت پی ڈی ایم کی تمام پارٹیاں الیکشن سے فرار چاہتی ہیں، کبھی تاویلیں گھڑی جا رہی ہیں کہ کیوں نا ں اسمبلیوں کی مدت ایک سال اور بڑھا دی جائے، کبھی کہا جا رہا ہے کہ معاشی ایمرجنسی لگا کر ایک اور سال الیکشن کے بغیر گزار دیا جائے۔اس پورے کھیل میں وفاقی حکومت اور وفاق کے نمائندے آئین اور قانون کو بھی مرضی کے مطابق موڑنا چاہتے ہیں، وہ آئین کی خلاف ورزیوں کے ساتھ اقتدار پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔

صورتحال سب کے سامنے ہے، پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعت ق لیگ کو پنجاب میں اکثریت حاصل ہے، اس اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش ہو رہی ہے، اس کوشش میں شامل ہونے والے ہر فرد کو یاد رکھنا چاہئے کہ چند ماہ پہلے جو 20ایم پی اے ادھرسے ادھر گئے تھے انہیں ضمنی الیکشن میں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ،پی ڈی ایم کی دوعملی کی سمجھ نہیں آ رہی کہ خیبر پختونخوا میں وہ الیکشن چاہتے ہیں جبکہ پنجاب میں اسمبلی بچانا چاہتے ہیں، ایسا پتہ نہیں کیوں ہے ؟

 ایک ہفتہ پہلے جو وفاقی وزراء یہ کہتے تھے کہ توڑیں پنجاب اسمبلی، ہم وہاں الیکشن کروا دیں گے مگر اب وہی وفاقی وزرا کہہ رہے ہیں کہ ہم بہر صورت پنجاب اسمبلی بچائیں گے، پنجاب اسمبلی سے اتنی محبت کیسے ہو گئی ؟ اصل بات یہ ہے کہ اگر پنجاب اسمبلی تحلیل ہو گئی اور پنجاب میں الیکشن کا عمل شروع ہو گیا تو وفاقی وزراء کیا کریں گے؟ وہ تو الیکشن قوانین کے مطابق انتخابی مہم میں شریک نہیں ہو سکیں گے ۔ن لیگ کیلئے یہ سوال بڑا اہم ہے کیونکہ ن لیگ کے وفاقی وزراء اور مشیروں کا تعلق تو پنجاب سے ہے وہ کیا کریں گے؟ شاید یہی سوچ کر سردار ایاز صادق نے ن لیگ لاہور کی صدارت قبول کرنے سے معذرت کرلی ہے ۔

اسلام آباد میں 31دسمبر کو ہونے والے بلدیاتی الیکشن ملتوی کروانے کیلئے بھی ن لیگ ہائی کورٹ پہنچ گئی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ن لیگ اور پی ڈی ایم کی قیادت الیکشن سے فرار کیوں چاہتی ہے؟ اس سوال کا سادہ سا جواب ہے کہ یہ جماعتیں لوگوں میں بالکل غیر مقبول ہو چکی ہیں، انہیں شکست کا ڈر ہے، ہار سے خوف زدہ لوگ الیکشن سے ڈر رہے ہیں۔ 

تمام سروے رپورٹس یہی واضح کر رہی ہیں بلکہ جیل سے آنے والی رپورٹس بھی ایسی ہی ہیں، آپ کو یاد ہو گا کہ پنجاب اسمبلی کے ایک ڈپٹی اسپیکر لوٹا بن گئے تھے، پھر وہ ایک مقدمے میں جیل چلے گئے، کیمپ جیل لاہور میں وہ جدھر جاتے ہیں قیدی’’ لوٹا، لوٹا‘‘ کی آوازیں کستے ہیں، یہ قیدی تو پی ٹی آئی کے ورکرز نہیں۔

پنجاب کی موجودہ سیاسی صورتحال پر دکھ ہوتا ہے کہ وہاں زور اور ظلم کی بنیاد پر اقتدار پر قبضہ جمانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ عدلیہ جب تک غیر آئینی اقدام کرنے والوں کو کڑی سزا نہیں دے گی یہ تماشا لگا رہے گا، اس کھیل کو چند لوگوں نے مذاق بنا لیا ہے، بقول اکر م سہیل؎

جب ظلم سے لڑنے کی جرأت نہیں رہتی

کردار میں رعنائی و ندرت نہیں رہتی

جب ذہن ہوں دانستہ غلامی پہ رضا مند

پھر پاؤں میں زنجیر کی حاجت نہیں رہتی


جیو نیوز، جنگ گروپ یا اس کی ادارتی پالیسی کا اس تحریر کے مندرجات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔